تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ
معزز مہمانان!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مَیں دل کی گہرائیوں سے آپ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ آج ہمارے ساتھ اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ جماعتِ احمدیہ گذشتہ دو دہائیوں سے پِیس سمپوزیم کا انعقاد کر رہی ہے اور اب دنیا کے بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ان سب کوششوں کا آخر عملی طور پر کیا فائدہ ہوا؟ یہ سوال پوچھا جانا بےشک درست ہے مگر ہمیں تو اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ ہم مسلسل بغیر تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے کوشش کرتے چلے جائیں۔ پس دنیا میں مثبت تبدیلی اور انسانیت کی بقا کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بڑھ کر اور کیابہتر کاوش ہوسکتی ہے۔
اگر ہم جنگ ، فساد، بدامنی ،نفرت اور ناانصافیوں کا تدارک نہ کریں گے تو ہم آہستہ آہستہ تہذیب و تمدن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد ہوتا دیکھیں گے۔ اس تباہی کے اثرات اتنے تباہ کُن ہوں گے کہ آنے والی کئی نسلیں اس سے متاثر ہوں گی۔ دوسری عالمی جنگ کی تباہی کی تفاصیل انتہائی دل دہلادینے والی ہیں مگر یاد رہے کہ اُس وقت صرف امریکہ وہ واحد ملک تھا جس کے پاس جوہری ہتھیار تھے مگر آج کئی ایسے ممالک ہیں جو جوہری طاقت کے حامل ہیں۔ نیز آج کے جوہری ہتھیار اُس دور کے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کُن ہیں۔
آج مَیں بعض محققین اور مبصرین کے تجزیے آپ کے سامنے پیش کروں گا جن سے اندازہ ہوگا کہ سامنے نظر آنے والی تباہی کتنی خطرناک اور ہولناک ہوسکتی ہے۔ ان تباہ کُن ہتھیاروں کا استعمال درحقیقت ہمارے اپنے ہی بچوں اور آنے والی نسلوں سے جنگ کے مترادف ہے۔
آئر لینڈ کے صدر مائیکل ہیگس نے اس بات کی تنبیہ کی تھی کہ ہم ایسے دَور میں داخل ہوچکے ہیں کہ جو جنگ کی دھمکیوں کا دَور ہے، جس دَور میں سفارتی کوششوں اور افہام و تفہیم کی بجائے انتشار، کشیدگی اور خون ریزی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔
سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے برملا کہا ہے کہ آج ہر شخص اپنی گفتگو میں ہتھیاروں اور تباہ کُن جنگوں کا بلا خوف وخطر ذکر کرتا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے بدامنی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔
اسلام کی بنیادی تعلیم تو یہ ہے کہ انسان دوسرے کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ایسا سنہرا اصول ہے کہ اگر دنیا اس اصول پر کاربند ہوجائے تو دنیا سچ مچ امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
جرمن چانسلر نے بھی ایران جنگ کے خلاف بیان دیا ہے، اور اس حوالے سے مَیں جس طرح جنگ مخالف ہر شخص کو سراہتا ہوں، یہاں جرمن چانسلر کی بھی تعریف کرتا ہوں مگر بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پالیسی اُمور میں اگر عملی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پوپ لیو نے ترکی میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کے متعلق بات کی اور کہا کہ تیسری عالمی جنگ اب آہستہ آہستہ لڑی جارہی ہے۔
مَیں کہتا ہوں کہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ تو لڑی جارہی ہےمگر لوگ اس سے انکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جنگ کی ہولناکیوں سے بزعمِ خود بچ سکیں۔
پھر سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ ایک غیر قانونی بات کا تدارک ایک اَور غیرقانونی بات سے نہیں کر سکتے۔ چھوٹی چھوٹی جنگوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں بڑی بڑی تباہ کُن جنگیں شروع ہوجایا کرتی ہیں۔ ایسے میں بہت احتیاط اور دانش مندی کے مظاہرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایک فریق کی طرف سے نا انصافی ہو تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرا فریق بھی ناانصافی کی راہ لے۔ آج بڑی طاقتیں انصاف اور عالمی قانون کو پسِ پُشت ڈال چکی ہیں۔ ان کےنزدیک اُن کے مفادات ہی سب کچھ ہیں۔
حکومتوں کا کام تو یہ ہے کہ وہ عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کریں۔ ایسے فیصلے کریں جن کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں مگر آج کل کے حکمران تو ہر وہ کام کرتے نظر آتے ہیں جس سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوں۔ یہ حکمران جنگوں کی آڑ لے کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس طرح دنیا کو ایک لامتناہی تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ایک نامور امریکی دانشور نے حال ہی میں کہا ہے کہ مغرب میں بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص ہر مسئلے کا حل فوجی طاقت کو سمجھ لیا گیا ہے۔ سفارت کاری کو فروغ دینے کی بجائے جنگ کو مسئلوں کا حل تصوّر کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ایران جنگ کا تعلق ہے تو یہ جنگ انتہائی تکلیف دہ حالات کا پیش خیمہ ہے۔ ناانصافی اور دوہرے معیار کا ہرایک کونقصان لازماً ہوگا۔
اسلام کہتا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کی جائے۔ اسلام بدلے کی آگ کو بجھانے کی تعلیم دیتاہے۔ بدلے کو اگر روا رکھا گیا ہے تو وہ صرف اسی حد تک جتنا کہ ظلم کیا گیا ہو۔
دنیا میں رائج انصاف کے ادارے تو اب ناکام ہوچکے ہیں۔ لیگ آف نیشنز جس طرح ناکام ہوئی تھی اُسی طرح اقوامِ متحدہ بھی ایک ناکام ادارہ بن چکا ہے۔ پانچ ممالک کے لیے ویٹو کا حق رکھا جانا انصاف کا خون ہے۔
کینیڈ اکے وزیراعظم نے کہا ہے کہ آج طاقت ور کے لیے اَور قوانین ہیں اور کمزور کے لیے اَور قوانین ہیں۔
انسانی حقوق کا چارٹر بھی اب بس لفظی کارروائی رہ گیا ہے۔ اس کا کوئی احترام باقی نہیں۔
مغربی اقوام دوسرے چھوٹے ممالک پر استحصالی کارروائیاں کرتی ہیں اور اس کے لیے اب نیا جواز عورتوں کے حقوق کا تراشا گیا ہے کہ ہم نے عورتوں کو حقوق دلانے ہیں۔ جبکہ ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ ان ممالک کی جنگوں کے باعث ہزاروں عورتیں بےیار و مددگار کھلے آسمان کے نیچے، بےسر و سامانی کے عالَم میں موجود ہیں۔
یورپی پارلیمان کے ایک ہسپانوی رکن نے کہا ہے کہ شام، عراق، لبنان اور اب ایران، ان سب ممالک پر ہونے والی کارروائیوں کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ طاقتور ظالم اقوام اس قسم کے بہانے تراشتی ہیں تاکہ اپنی ظالمانہ جنگوں کا جواز پیدا کرسکیں۔
بطور مسلمان ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ اور تنظیمیں اسلام کا نام لے کر ظلم کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ پھر میڈیا ان کی کارروائیوں کو ہوا دے کر پیش کرتا ہے اور اس طرح اسلام کے خلاف غلط باتوں کو پھیلایا جاتا ہے۔ اسلام ہو یا کوئی اَور مذہب اُس کو بہانہ بنا کر یہ اظہار کرنا کہ ظلم اور بربریت کی وجہ وہ مذہب ہے یہ ظلم ہے۔
ہم آہنگی اور انصاف کے لیے کوشش کیے جانا جماعت احمدیہ کا اہم ترین مقصد ہے جس کے لیے ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اسی اہم مقصد کے حصول کے لیے ہم یہ کاوش بھی کرتے ہیں تاکہ تھوڑے ہی سہی، چند لوگوں تک تو ہمارا یہ حق اورانصاف کا پیغام پہنچے۔ یہی مقصد ہے جس کے لیے مَیں نے دنیا کے بڑے راہ نماؤں کو خطوط لکھے۔
مَیں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی خط لکھا اور تورات کی تعلیمات انہیں پیش کیں۔ اسی طرح ایرانی صدر اور دیگر مسلمان سربراہان کو بھی خطوط لکھے۔ برطانوی وزیراعظم، امریکی صدر اور چینی صدر تک بھی یہ پیغام پہنچایا کہ وہ یہ غور کریں کہ کس طرح دن بدن دنیا تباہی کی طرف جارہی ہے۔ اب تو انسانیت کی بقا کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مگر افسوس! یہ سب ان باتوں کی طرف دھیان نہیں دے رہے۔ دنیا کے حالات واضح بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ سننا نہیں چاہتے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی جنگیں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
اسلام نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا تم انصاف سے دُور ہٹ جاؤ۔ قرآن کریم نے بڑی واضح تعلیم دی ہے کہ استقامت اختیار کرو اور انصاف قائم کرو۔ اور دوسروں کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم نا انصافی سے کام لو۔ انصاف سے کام لینا تقویٰ کے قریب ہے۔
اسلام نے صرف حلیفوں کے حقوق قائم نہیں کیے بلکہ حریفوں کے بھی حقوق قائم فرمائے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نصیحت کی ہے کہ اگر تمہیں حکمت اور دانائی کی بات کسی اور قوم سے ملے تو اسے لے لو کیونکہ وہ تمہاری ہی گُم شدہ میراث ہے۔
دنیا کی اکثریت آج بھی امن کی خواہاں ہے لیکن اس کے لیے ہر فردکو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ پوپ صاحب نے جیسے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ مختلف حصوں میں تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ مَیں ڈرتا ہوں کہ اس عالمی جنگ میں جو تباہی ہوگی وہ گذشتہ عالمی جنگوں کے مقابلے میں انتہائی تباہ کُن ہوگی۔
آج ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن دنیا چھوڑیں اور اس کے لیے اپنی اپنی کوشش کریں۔ ورنہ بعد میں آنے والی نسلیں ہمیں قصوروار قرار دیں گی اور کہیں گی کہ تم نے کیسی تباہ شدہ دنیا ہمارے لیے چھوڑی ہے۔
پس یہ پِیس سمپوزیم اسی مقصد کے لیے ایک کوشش ہے۔ خدا کرے کہ یہ امید کی پہلی کرن بن جائے اور دنیا اس دَور میں امن کی ضرورت کو سمجھے۔ اللہ کرے کہ جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور امن کی صبح روشن ہو۔ آپ سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سات بج کر ۹؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد تمام مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ کھانے کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سٹیج پر کھڑے کھڑے مین ٹیبل پر موجود مہمانان کرام کو شرف ملاقات بخشا اور ان سے مختصر گفتگو فرمائی۔ بعد ازاں حضور انور پونے آٹھ بجے کے قریب ایوانِ مسرور سے تشریف لے گئے۔
(باقی رپورٹ پیس سمپوزیم آئندہ شمارہ میں)(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 23 مئی 2026ء)