۲۰۲۵ء کے لیےبینن افریقہ کے Gregoire Ahongbonon احمدیہ امن انعام کے حقدار قرار پائے۔ انہیں یہ انعام مغربی افریقہ میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا۔ موصوف کی کاوشوں کے حوالے سے ایک مختصر ویڈیو بھی دکھائی گئی جس کے بعد انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دستِ مبارک سے انعام اور دس ہزار پاؤنڈ کا انعامی چیک وصول کیا۔ بعد ازاں موصوف منبر پر تشریف لائے اور فرنچ زبان میں مخاطب ہوئے جس کا رواں انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ موصوف نےانعام وصول کرنے پر انتہائی شکرگزاری کا اظہار کیا اور مغربی افریقہ میں ذہنی مریضوں کی مشکلات کا تذکرہ کیا۔ آخر پر موصوف نے حضورِ انور اور جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔
استقبالیہ تقریر و معززین کے مختصر خطابات
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل مکرم امیر صاحب یوکے نے استقبالیہ تقریر کی جبکہ بعض دیگر معزز مہمانان کرام نے مختصراً تقاریر کیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
استقبالیہ تقریر از محترم رفیق احمد حیات صاحب
(امیر جماعت احمدیہ یوکے)
مکرم امیر صاحب نے سب کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہا کہ آج یہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور ادارہ جات سے تعلق رکھنے والے احباب اکٹھے ہوئے ہیں۔ اگر دنیا میں دیرپا امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب کو مل کر اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
اس وقت دنیا ایک نہایت نازک اور خطرناک دَور سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں بےچینی اور تنازعات پائے جاتے ہیں۔ بچے جانیں گنوا رہے ہیں اور قومیں ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات اور کشمکش میں مبتلا ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح نے برطانیہ کی پارلیمنٹ، یورپین پارلیمنٹ، واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل، کینیڈین پارلیمنٹ، ڈچ پارلیمنٹ اور نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ سمیت دنیا کے کئی اہم فورمز پر امن و انصاف کے حوالے سے خطابات ارشاد فرمائے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے دنیا کے راہنماؤں کو ذاتی طور پر خطوط بھی تحریر فرمائے ہیں جن میں انہیں انصاف قائم کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ دنیا مزید تباہی کی طرف نہ بڑھے۔
آج کے اس پُر خطر دور میں جہاں بےیقینی اور خوف بڑھتا جا رہا ہے حضورِ انور کا امن، ہم آہنگی اور انصاف کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
خواتین و حضرات! تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے، اور حضورِ انور بار بار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے ذریعے قائم نہیں کیا جاسکتا بلکہ حقیقی اور دیرپا امن صرف انصاف، دیانت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن دنیا دیکھنا چاہتے ہیں تو انصاف کو تمام لوگوں اور تمام اقوام کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ انسانیت کو امن، انصاف اور مفاہمت کی راہ دکھائے۔ آمین۔
Greg Stafford MP
for Farnham and Bordon
میرے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ میں نیشنل پیس سمپوزیم میں آپ کے ساتھ شریک ہوں اور برطانیہ بلکہ دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کو اپنے حلقۂ انتخاب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس سال کے سمپوزیم کا موضوع ’’کامل عالمی انصاف: حقیقی امن کی بنیاد‘‘ اس سے زیادہ بروقت نہیں ہو سکتا تھا۔ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے سے زیادہ تقسیم، بےیقینی اور اضطراب کا شکار محسوس ہوتی ہے، اس طرح کے اجتماعات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مقامی رکنِ پارلیمنٹ ہونے کے ناطے اور جماعت احمدیہ مسلمہ کے لیے قائم آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکرٹری کی حیثیت سے، مجھے یہ موقع ملا ہے کہ میں خود دیکھ سکوں کہ یہ جماعت بالخصوص مقامی سطح پر کتنی عظیم خدمات انجام دے رہی ہے۔ جو بات ہمیشہ مجھے متاثر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں امن کو محض ایک نظریاتی تصوّر یا نعرہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے عملی طور پر قائم کیا جاتا ہے۔ خدمت، خیرات اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا یہی وہ عملی طریقے ہیں جن کے ذریعے یہ جماعت امن کو فروغ دیتی ہے۔
موصوف نے کہا کہ امن کی بنیاد اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم روزمرّہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے مقامی لوگوں میں امن کو برقرار نہیں رکھ سکتے تو عالمی سطح پر امن کے لیے کوششوں کی زیادہ اہمیت باقی نہیں رہتی۔ پائیدار امن صرف ایک دوسرے کے ساتھ رہ لینے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ مسلسل تعلقات اور باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔ میں خاص طور پر حضورِانور کا ذکر کرنا چاہوں گا جن کا امن، انصاف اور باہمی احترام کا مستقل پیغام اس جماعت سے کہیں آگے پوری دنیا میں اثرانداز ہوا ہے۔
Rt. Hon. Sir Ed Davey MP
موصوف نے کہا کہ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ مجھے ایک اور پیس سمپوزیم میں مدعو کیا گیا۔ میں تمام مہمانوں کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں میں اپنے ملک میں کسی اَور ایسی جماعت کو نہیں جانتا جو اس قدر تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ امن کی آواز بلند کرتی ہو اور تمام مذاہب بلکہ لا مذہب افراد کو بھی ایک جگہ جمع کرتی ہو تاکہ وہ باہم گفتگو ہو سکے جو ہمارے لیے بھی اور دیگر ممالک کے درمیان بھی امن کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حضورِ انور ایک عالمی راہنما کے طور پر وہ شخصیت ہیں جو سب سے زیادہ امن کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
Seema Malhotra
MP for Feltham and Heston
موصوفہ نے کہا کہ تنازعات کو روکنے اور ایک زیادہ خوشحال اور پُرامن معاشرہ قائم کرنے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سماجی تنظیمیں، مذہبی جماعتیں اور شہری راہنما سب ایک نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ لوگوں اور برادریوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جا سکے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔
اسی لیے میں جماعتِ احمدیہ کی خدمات اور اس سلسلے میں حضورِ انور کی قیادت کو سراہتی ہوں، جسے میں نے گذشتہ برسوں میں قریب سے دیکھا ہے۔ امن، انصاف اور انسانی وقار کے لیے آپ کی مسلسل آواز دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں گونجتی رہی ہے۔
ہم نے یوکرائن اور غزہ میں جنگ کی ہولناکیاں دیکھی ہیں۔ ہم نے بڑھتی ہوئی کشیدگی دیکھی ہے اور حال ہی میں ایران کے تنازع کو بھی دیکھا ہے۔ ہم نہ تو یہ اجازت دے سکتے ہیں اور نہ ہی دینی چاہیے کہ جنگ ہماری نسل کی پہچان بن جائے، بلکہ اس کے برعکس ہماری میراث امن ہونی چاہیے۔
آج کی تقریب میں مدعو کرنے نیز انسانیت کی خدمت اور پائیدار امن کے قیام کے لیے آپ کی تمام تر کاوشوں پر ایک بار پھر شکریہ۔ آج اس سمپوزیم میں آپ کے ساتھ شامل ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ شکریہ۔
پیس سمپوزیم اور حضور اقدس کے خطاب پر بعض مہمانان کرام کے تاثرات
ذیل میں پیس سمپوزیم کے حوالے سے انتظامیہ اور چند مہمانان کرام کے تاثرات درج ہیں:
٭… مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ یوکے: مکرم امیر صاحب یوکے نے نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کو تقریب کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے بیان کیا کہ دنیا میں اس وقت مختلف خطوں میں جنگیں اور قتل و غارت جاری ہے، جس کی وجہ سے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، خاص طور پر غزہ، لبنان، سوڈان اور افغانستان جیسے علاقوں میں حالات بہت خراب ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں کی کوششوں کے باوجود جنگوں کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ صرف نقصان اور تباہی کا سبب بنی ہیں۔
امیر صاحب نے کہا کہ راہنما اگر اپنی انا چھوڑ دیں اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات اور امن و انسانیت کے پیغام پر غور کریں تو دنیا میں بہتر امن قائم ہو سکتا ہے۔ آپ نے کہا کہ بعض عالمی راہنما صرف جنگوں کے لیے مالی یا سیاسی مدد کی بات کرتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جنگوں کو ختم کر کے مستقل امن کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔
امیر صاحب نے پیس سمپوزیم کی ترویج کے حوالے سے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچ جاتا ہے۔
امیر صاحب کا یوکے کے پیس سمپوزیم میں خلافت کی موجودگی کی انفرادیت کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس سبب سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ بہت سے ملکوں سے مہمان آئے ہیں۔ وزراء بھی ہیں۔ یہ سب اچھا پیغام لے کر واپس جائیں گے۔ بڑے ممالک کو اپنا نمونہ دکھانے کے بارے میں کہنا تھا کہ جب تک بڑے ملک لیڈر شپ نہیں دکھاتے، امن کی طرف نہیں جاتے تو چھوٹے ملک بھی ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
٭… مکرم فرید احمد صاحب، سیکرٹری امور خارجیہ جماعت احمدیہ یوکے: مکرم فرید احمد صاحب نے نیشنل پیس سمپوزیم کی گذشتہ ۲۰؍سالہ ترقی اور اثرات کے بارے میں کہا کہ یہ تقریب نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بڑھی ہے بلکہ اس کے پیغام اور اثر میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں مختلف ممالک سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے امن، انسانیت اور ہمدردی پر مبنی پیغام سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی اے کے ذریعے یہ پیغام دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے اور یہ تقریب عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تنازعات زیادہ کھل کر سامنے آرہے ہیں، اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح اب پہلے سے زیادہ واضح اور براہِ راست انداز میں امن اور انسانیت کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
٭… کلیئر ڈیسمنڈ، Christian Solidarity Worldwide: یہ تقریب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا کرنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوئی، جہاں مختلف خیالات سننے اور خاص طور پر حضورِ انور کی گفتگو سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اہم سبق یہ ہے کہ امن کے لیے صرف عالمی راہنماؤں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہر فرد کو اپنے معاشرے اور اپنے دائرۂ اثر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کے مشکل حالات میں ایسی تقریبات امید، حوصلہ اور یکجہتی پیدا کرتی ہیں اور لوگوں سے ملاقات اور گفتگو نے بہت متاثر اور حوصلہ افزا محسوس کرایا۔ بس آپ کوشش جاری رکھیں، یہی امن لاتی ہے۔
Linda Stephens صاحبہ، جو ’’Women’s Wellbeing‘‘ نامی ادارہ چلاتی ہیں اور خاص طور پر خواتین کی صحت، پری و پوسٹ مینوپاز اور ماں بننے سے پہلے اور بعد کی دیکھ بھال پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں Vaughan James Pharmacy سے وابستہ بشریٰ یہاں لائیں اور وہ پہلے بھی اس تقریب میں آچکی ہیں۔ ان کے مطابق اس بار کا تجربہ بہت خاص تھا کیونکہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی گفتگو، ماحول میں موجود امن، محبت اور باہمی تعلق کے احساس کو بہت گہرائی سے محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ممکنہ عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے انسانیت، اتحاد اور امن کا پیغام بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر فرد محبت، خاندانی اقدار، مختلف مذاہب کے احترام اور عالمی بھائی چارے کا عملی نمونہ نظر آتا ہے اور وہ خود کو اس تقریب میں شرکت پر خوش قسمت اور بابرکت محسوس کرتی ہیں۔
Catherine Clark، کونسلر برائے وائٹ ہل اینڈ بورڈن، اور Alex Page، ایک سماجی و عوامی مہم چلانے والے کارکن، نے اس تقریب کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ایسی تقریبات مقامی اور بین الاقوامی کمیونٹیز کو قریب لانے، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مختلف پس منظر کے لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرنا غلط فہمیوں کو ختم کرتا ہے اور ایک دوسرے کی طاقتوں اور کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر امن کے لیے مکالمہ اور تعلقات ضروری ہیں، کیونکہ جتنا لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں گے اتنا ہی تنازعات کم ہوں گے۔ دونوں مہمانوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی تقریر کو تقریب کا سب سے متاثرکن حصہ قرار دیا، جبکہ کونسلر کیتھرین کلارک نے بتایا کہ انہیں نجی طور پر ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جسے انہوں نے ایک یادگار تجربہ کہا۔
Jill Barstow (جِل بارسٹو)۔ چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس، کنوینر انٹرفیتھ ملٹن کینز: حضور انور کا خطاب انتہائی متاثر کن تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ آپ دنیا کے مختلف خطوں کے حالات سے گہری آگاہی رکھتے ہیں اور آپ کا نقطۂ نظر بہت وسیع ہے۔ ایک مذہبی راہنما کی زبان سے جنگوں، تنازعات اور امن کی اہمیت پر اتنی جرأت اور دلسوزی سے بات سننا نہایت خوشگوار تھا۔ یہ واقعۃً ایک روح پرور تقریب تھی۔
Sarah Day (سارہ ڈے)۔ Mayoress of Newport Pagnell: خطاب کے دوران میں مسلسل سر ہلا رہی تھی کیونکہ ہر بات سے اتفاق تھا۔ مجھے چند سال پہلے حضور انور کا خطاب بھی یاد آیا۔ آپ یہ باتیں بہت عرصے سے فرماتے آرہے ہیں۔ حضور انور کی شان یہ ہے کہ آپ یہ نہیں کہتے کہ مَیں نے پہلے خبردار کیا تھا، لیکن سچائی یہ ہے کہ آپ نے واقعی خبردار کیا تھا اور آج پھر کیا۔ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ یہ سوچ کر تو خوف آتا ہے مگر خطاب بے حد مؤثر اور پُراثر تھا۔
ادارہ بدرامیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور جماعت احمدیہ برطانیہ کی خدمت میں کامیاب پیس سمپوزیم پر مبارکباد پیش کرتا ہے نیز دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی بابرکت اور پُرامن آواز پر کان دھرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بنے۔ اللّٰھم آمین۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 23 مئی 2026ء)