سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ دسمبر 2025ء میں تمام احمدیوں بالخصوص واقفین زندگی کو ان کے قومی فریضہ دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ حضور انور نے دعوت الی اللہ کی شرائط اور اس کے آداب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آج بھی تمام دنیا میں مسلمانوں کی آبادی چوتھے حصہ سے بھی کم ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ حکمت سے تبلیغ نہیں کی گئی اوراسلام کے پیغام کو صحیح طور پر دنیا میں پہنچایا نہیں گیا۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ جہاد سے ہم اسلام کا پیغام پہنچا دیں گے حالانکہ جہاد کی اجازت تو صرف اس وقت ہے جبکہ دشمن حملہ کرے۔ فرمایا یہ مسلمانوں کی عمومی حالت ہے کہ وہ صرف تلوار کے زور سے اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ اندرونی طور پر اس قدر اختلافات ہیں کہ مسلمانوں کو ان اختلافات سے باہر نکلنا تو درکنار ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔ پس مسلمان دوہری دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ایک تو ہر فرقے کا باہمی اختلاف جس کے نتیجہ میں ایک دوسرے سے حد درجہ دشمنی اور دوسرے جہاد کے ذریعہ اسلام کو پھیلانے کا غلط خیال۔ یہ ہر دو عوامل مسلمانوں کو صحیح نہج پر آگے بڑھنے سے مسلسل روک رہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اورساتھ ہی آپ نے بحیثیت حکم و عدل مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے حل بھی پیش فرمائے تھے لیکن بدقسمتی سے ان دونوں باتوں کو مسلمان علماء نے ٹھکرا دیا اور علماء کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی صحیح ثابت ہوئی کہ ’’ علماء ھم شرّ مَنْ تحت ادیم اسماء‘‘ کہ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ اور یہاں تک فرمایا کہ ان کی حالت سؤروں اوربندروں کے مشابہ ہوجائے گی۔
پس آج اسلام کے پھیلانے کا کام صرف اور صرف جماعت احمدیہ کا کام ہے کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعوت الی اللہ کے ہتھیار اور اس کو چلانے کے سلیقے جماعت احمدیہ کو سکھائے ہیں۔
حضرت اقدس امیر المومنین کا یہ خطبہ ہر احمدی مسلمان کے لئے بالخصوص واقفین زندگی کے لئے وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’ ہمیں اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے اور آپ سے عہد بیعت باندھا ہے ہم نے اس بات پر عمل کرنا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بھی پیدا کریں اس کی تعلیم سیکھیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے دنیا کو بھی یہ پیغام پہنچائیں۔ تبلیغ کے حوالہ سے حضرت امیرالمومنین نے بعض ضروری نصائح فرمائیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ فرمایا:
’’ جو لوگ تبلیغ کرتے ہیں بعض دفعہ غصہ میں آکر مخالف کی زبان استعمال کرنے لگ جاتے ہیںانہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری تبلیغ اخلاق کے دائرے میں ہی ہو۔ ان کے پاس دلیل نہیں ہے اس لئے وہ غلط زبان استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ہم بھی غلط زبان استعمال کرنے لگیں گے اس کا مطلب ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔‘‘
اسی طرح حضور انور نے دعوت الی اللہ کرنے والوں کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ ایسے رنگ میں بات کرو جس کو دوسرا سمجھ سکے اوراس سے اس کی غلط فہمی دور ہوسکے۔
حضور انور نے مبلغین کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ موافق الحق بات کریں۔ وہ بات کریں جو واقعات کے عین مطابق ہو اور جس میں مبالغہ نہ ہو۔ حضور انور نے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ مختلف دلائل میں سے جو سب سے اعلیٰ اورمضبوط دلیل ہو اس کو بطور بنیاد اور مرکز کے قائم کیا کرو اور باقی دلائل کو اس کے تابع رکھو۔ اسی طرح یہ بھی نصیحت فرمائی کہ:
تبلیغ میں منہمک رہنا چاہئے یہی اصل نتیجہ ہے۔ ہمارا کام تبلیغ کرنا ہے۔ نتیجہ نکالنا اور اثر پیدا کرنا خداتعالیٰ کا کام ہے۔
ایک نصیحت یہ فرمائی: مستقل مزاجی سے تبلیغ کرو تھکنا نہیں یہ نہیں کہ ایک دن ہم نے کیمپ یا سٹال لگالیا تبلیغ کردی اور اس کے بعد کام ختم ہوگیا۔
اسی طرح فرمایا : مناسب طرز پر بات کرنی چاہئے جس طرح دواؤں میں کوئی دَوا کسی کے لئے مفید ہوتی ہے اورکوئی کسی بیماری کے لئے ۔ ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرایہ میں خاص شخص کے لئے مفید ہوسکتی ہے یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔
حضور نے فرمایا: آج دعوت الی اللہ ہی جہاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب تمہارا جہاد قلم کے ذریعہ جہاد ہے جو تمہارے پین کی نوکیں ہیں وہ تلوار کی نوکیں ہیں پس اس کے ذریعہ جہاد کرو۔ حضور انور نے مربیان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: مربیان سے میں کہتا ہوں ان کے ذمہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ انہیں صرف جماعت کی تربیت ہی نہیں کرنی بلکہ اس تربیت کے ساتھ ساتھ افراد کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں جوڑنا ہے۔ جہاں وہ یہ کریں گے وہاں ان کا علم بھی بڑھائیں اور انہیں اس جہاد کے لئے تیار بھی کریں جب وہ یہ کریں گے تبھی اپنا عہد پورا کرنے والے ہوںگے۔ حضور انور نے مربیان کو تبلیغ کے گُر سکھاتے ہوئے فرمایا:
پہلی بات یہ ہے کہ ایک مربی کے اندر تزکیہ نفس ہونا چاہئے۔
اُسے تہجد کی عادت ہونی چاہئے اورپھر جماعت کو بھی عبادتوں کی طرف توجہ دلائے۔
قرآن کریم کا مطالعہ خود بھی گہرائی سے کرے اور جماعت کے افراد کو بھی مطالعہ کی طرف توجہ دلائے۔
ذکر الٰہی کی طرف خود بھی توجہ کرے اور جماعت کے افراد کو بھی توجہ دلائے۔ ذاتی لائبریری بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے آجکل کتابوں کا رواج تو کم ہے لیکن alislam ویب سائٹ پر بہت ساری کتابیں ہیں۔ اس طرف توجہ دیں اورمطالعہ کے لئے وقت مقرر کریں۔ توکل الی اللہ کی عادت ڈالیں۔لوگوں سے تعلقات بہتر بنائیں۔ فرمایا ہماری پی ۔ آر بھی کمزور ہوتی ہے اس کی وجہ سے تبلیغی میدان محدود ہو جاتا ہے۔ بہت کم ہیں۔جن کو تعلقات بڑھانے کی طرف توجہ ہے۔
بدی کی جرأت سے تردید کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ز مستقل مزاجی کی عادت ڈالیں۔
غور و فکر کی عادت ڈالیں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔ فرمایا: ’’ اگر یہ ہوگا تو پھر ایک انقلاب عظیم ہے جو ہم لوگ پیدا کرسکتے ہیں۔ تبھی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کودنیا میں لہرانے کے قابل ہوسکتے ہیں اور تبھی ہم مسلمانوں کو بھی آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہُود کی حقیقت سے آشنا کرسکتے ہیں اور انہیں اسکی بیعت میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دعوت الی اللہ کے حوالہ سے حضور انور کی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔