اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

تقسیم ملک کے بعد اخباربدر 74ویں سال میں

ہفت روزہ بدر قادیان کا اجراء اگرچہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں 1902ء میں ہوا تھا اور اس کے پہلے ایڈیٹر حضرت محمد افضل صاحب رضی اللہ عنہ تھے جو کہ اس اخبار کے مالک بھی تھے۔ پہلے اس کا نام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ’’ البدر‘‘ تجویز فرمایاتھا۔ مکرم محمد افضل صاحب کی وفات 1905ء میں ہوئی جس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو اخبار البدر کا ایڈیٹر مقرر فرمایا اور حضرت مفتی صاحبؓکے زمانہ میں ہی اخبار کا نام البدر سے بدر رکھا گیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ مبارک میں قادیان سے جاری ہونے والے ہر دو اخبارات ’’ الحکم‘‘ اور ’’ بدر‘‘ کے متعلق فرمایا کہ یہ آپ کے دونوں بازو ہیں اور فوری طور پر آپ کے الہامات اور ارشادات کو ملک کے طول و عرض میں شائع کردیتے ہیں۔
اخبار بدر 1913ء تک جاری رہاپھر بند ہوگیا۔ تقسیم ملک کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت اور دعاؤں اور درویشان قادیان کی کوششوں سے پھر قادیان سے ہفت روزہ جاری ہوا۔ اس کا پہلا شمارہ 7؍ مارچ 1952ء کو شائع ہوا۔ تقسیم ملک کے بعد اس کے پہلے ایڈیٹر مکرم برکات احمد صاحب راجیکی ابن حضرت غلام رسول صاحب راجیکیؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقرر ہوئے۔
اس اخبار کی اوّلین اشاعت 7؍ مارچ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی پیغام بھی ارسال فرمایا تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’ سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس اخبار کو بہتر سے بہتر کام کرنے کی توفیق بخشے اور اس اخبار کو چلانے والوں کو ظاہری اور باطنی علوم عطا کرے جس سے وہ قوم اورملک کی صحیح راہنمائی کرسکیں اورجماعت احمدیہ کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس اخبار کو خرید کر اخبار کی اشاعت کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جائیں اور ملک کے ہر گوشہ میں اسے پھیلا دیں یہاں تک کہ یہ اخبار روزانہ ہو جائے اور وسیع الاشاعت ہو جائے اس اخبار کا نام بدر رکھا گیا ہے اور یہ نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پسندیدہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رؤیا اور کشوف شائع کرنے میں ایک زمانہ میں اس اخبار کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی تھی کیونکہ مفتی محمد صادق صاحب ہی اس کے ایڈیٹر تھے اور مفتی محمد صادق صاحب ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرائیویٹ سیکرٹری کا کام کرتے تھے اس لئے انہیں الہامات کے جلد سے جلد حاصل کرنے کا موقع دوسروں سے زیادہ مل جاتا تھا۔ لیکن اُمید کرتا ہوں کہ اب ان الہامات کی تشریح اور تفسیر اور اُن کا مقصد اور مدعا بتانے اورشائع کرنے میں یہ اخبار پیش پیش رہے گا۔‘‘
محترم قارئین! اب یہی مقصد اخبار بدر کا ہے۔ اب اخبار بدر کی اشاعت کااوّلین مقصد یہی ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جملہ ارشادات جو دراصل قرآن و حدیث اور سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات، ارشادات اور تحریرات کی تفاسیر ہیں، ان کو قارئین بدر تک پہنچایا جائے۔ اسی لئے ادارہ بدر کوشش کرتا ہے کہ اس اخبار کے ذریعہ حضور انور کا خطبہ جمعہ، حضور اقدس کے دیگر خطابات ، آپ کے دورہ جات کی رپورٹیں، مجالس عرفان احباب جماعت ہندوستان کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ نیز حضور اقدس کے ارشاد کے تحت ہی اب ہر ہفتہ حالات حاضرہ پر مشتمل اداریہ اوردیگر مضامین بھی شائع کئے جاتے ہیں۔ مبلغین/ معلمین کرام و احباب جماعت اپنے قیمتی مضامین اور جماعتی مساعی پرمشتمل اپنی رپورٹیں اُمراء اضلاع کے توسط سے اور اپنے مقامی دفتر کے ذریعہ ارسال فرمائیں تو انشاء اللہ ان کی مساعی کی رپورٹیں بھی نہ صرف اُردو اخبار بدر میں بلکہ بدر کے دیگر زبانوں کے ایڈیشنز میں بھی شائع کی جائیں گی تا کہ احباب جماعت اپنے اِس اخبار سے ذاتی طور پر وابستگی حاصل کرکے اس سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اخبار کی اصل زینت تو قرآن و حدیث اورملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے شائع ہونے والے فرمودات و ارشادات سے ہی ہے۔ اور اس کی خوبصورتی میں مزید چار چاند اس وقت لگیں گے جب ہم ان ارشادات کو نہ صرف خود حرز جان بنائیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ ہماری نسلیں بھی اس سے فیضیاب ہوں۔
اخبار بدر خلافت حقہ اسلامیہ سے ہمارے تعلق کو مضبوط کرنے کا ضامن ہے اور یہی تعلق ہماری جسمانی و روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ سال دسمبر کے مہینہ میں اخبار بدر کے خصوصی شمارہ قومی یکجہتی نمبر کے لئے جو بصیرت افروز پیغام ارسال فرمایا تھا اس میں احباب جماعت ہندوستان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وحدت آج صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا خاصہ ہے باقی سب انتشار کا شکار ہیں اور رہیں گے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر نہیں کریں گے پس ہم خوش قسمت ہیں کہ خلافت کی برکت سے ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہیں اور کل عالم میں اسلام کا پرچم بلند کرتے چلے جارہے ہیں۔‘‘
لہٰذا احباب جماعت سے درد مندانہ اپیل ہے کہ ملی وحدت کا ثبوت دیتے ہوئے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مبارک تحفہ جو اخبار بدر کی شکل میں ہر ہفتہ آپ کو مل رہا ہے۔ اس کے زیادہ سے زیادہ خریدار بنانے کی کوشش کریں۔ کوئی ایک بھی احمدی گھر ایسا نہیں رہنا چاہئے جو اخبار بدر کا خریدار نہ ہو۔ ہر زبان میں اس کے خریداران کوبڑھانے کی ضرورت ہے۔ جن احباب کو اللہ نے توفیق بخشی ہےوہ اس کی مالی اعانت کی طرف بھی قدم بڑھائیں تا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت امیرالمومنین کی خواہشات کی روشنی میں اس اخبار کا دائرہ ملک کے طول و عرض میں پھیل جائے اور جماعت احمدیہ ہندوستان کا یہ واحد آرگن جو کہ ہمارے قومی وقار اور جماعتی عزت کاآئینہ دار ہے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہر طرف اپنا سایہ پھیلا دے اور اس کے روحانی ثمرات سے تمام ہندوستان فیضیاب ہوتا رہے۔ وباللہ التوفیق