اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-29

مجلس عرفان کا ایک عالمی پروگرام

جب سے جماعت احمدیہ کی بُنیاد باذنِ الٰہی رکھی گئی ہے جماعتی تربیت کیلئے ’’ مجلس عرفان‘‘ نے ایک بُنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ مجلس عرفان سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شروع ہوئی جبکہ حضور کے مبارک ارشادات ساتھ کے ساتھ نوٹ کئے جاتے تھے اور پھر انہیں اخبار الحکم اورالبدر میں شائع کیا جاتا تھا۔ یہ مجالس عرفان ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں شائع شدہ موجود ہیں۔ پھر حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الاوّلؓ، حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانیؓ، حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثالثؓ، حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے مبارک ادوار کی مجالس عرفان بھی جماعتی اخبارات اورکتب میں شائع شدہ ہیں اورسوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
حضرت اقدس امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک دور میں یہ مجالس عرفان ہر ہفتہ ایم ۔ ٹی۔ اے کے پروگرام This Week With Huzur Anwar کے عنوان کے تحت نشر ہوتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔
ہر دور میں ’’ مجلس عرفان‘‘ ایسا پروگرام رہاہے جس سے احباب جماعت کو تربیتی، تبلیغی، تعلیمی اور انتظامی حوالہ سے بہت سی راہنمائی ملتی رہی ہے۔ بعض دفعہ کسی سیاسی و علمی شخصیت کی بھی حضور سے ملاقات ہوتی ہے اورحضور ان کے ملک کے حوالہ سے اور ان کے علم کے حوالہ سے اوردنیا میں پھیلی ہوئی بدامنی کو دور کرنے کے حوالہ سے اُنہیں راہنمائی عطا فرماتے ہیں۔ بہرحال یہ بین الاقوامی پروگرام ہر سُننے والے کیلئے ایک مفید مشعلِ راہ ہے۔
قارئین بدر کیلئے اس پروگرام میں دلچسپی پیدا کرنے کی خاطر نمونہ کے طور پر 02 ؍ جنوری 2026ء کی اس ملاقات کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو حضور انور نے ورجینیا امریکہ کے خدام کے ساتھ فرمائی۔
اس موقع پر پہلا سوال یہ کیا گیا کہ:
 اپنی دنیوی تعلیم کے ساتھ جماعتی کتابوں کا مطالعہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
حضور اقدس نے فرمایا:
دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔ اگر انسان چھ گھنٹے سوئے، دو گھنٹے کھانے میں اوردو گھنٹے نمازوں میں لگائے، یونیورسٹی کی تعلیم میں 7 گھنٹے ، آنے کے بعد دو تین گھنٹے پڑھنےمیں صرف کرے تو باقی چار گھنٹوں میں کیا آدھ گھنٹہ بھی نہیں نکالا جاسکتا۔ اگر تم چاہو تو وقت نکال سکتے ہو۔ اگر کہو کہ میں تھک گیا تو پھر تو دنیا تمہاری پہلی ترجیح ہوگئی۔ پس اپنی زندگی کو ریگولیٹ کرو۔ اگر مطالعہ کےلئے آدھ گھنٹہ بھی نکال سکو تو ٹھیک ہے اور جب دلچسپی بڑھ جائے گی تو زیادہ وقت بھی دیا جاسکتا ہے۔
دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ مَیں محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب کا پوتا ہوں۔ حضور کی ان کے متعلق کچھ یادیں ہوں تو بیان فرمانے کی درخواست ہے۔
فرمایا مَیں نے ان کے ساتھ کام تو نہیں کیا لیکن میں نے جو دیکھا ہے اور سُنا ہے تو وہ ایک بے لوث واقف زندگی تھے۔ میں نے سُنا ہے کہ وہ روزانہ نماز تہجد پڑھتے تھے اور جماعت کے لئے دعائیں کرتے تھے۔ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بنائے۔ دوسرے یہ کہ جن دنوں گھانا میں انہوں نے خدمت کی ہے گھانا کے حالات ٹھیک نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا وہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے بات کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس پوزیشن میں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ پر توکل، نمازیں اوردعا بہت ضروری ہے۔
 ایک سوال یہ کیا گیا کہ:
خاکسار ریجنل ناظم وقار عمل کے طور پر خدمت کررہا ہے۔ کچھ خدام محنت کا کام یا ایسے کام جن سے ہاتھ گندے ہوتے ہیں نہیں کرتے۔ ایسے خدام میں وقار عمل کی رُوح کس طرح پیدا کی جائے۔ فرمایا:
وقار عمل کانام انگلش میں کیا رکھا ہو اس کا نام Dignity Labour رکھا گیا ہے۔ ان کو بتاؤ کہ اس میں تمہاری Dignity ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر آپ مٹی کھود رہے تھے بلکہ آپ کے پیٹ پر بھی مٹی گری ہوئی تھی۔ فرمایا ایسے خدام کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال پیش کرو اور بتاؤ کہ اس سے ثواب ملتا ہے اور صحت بھی اچھی ہوتی ہے۔
 ایک سوال یہ کیا گیا کہ:
میں مستقل میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔ حضور کیا راہنمائی فرمائیں گے کہ تعلیم اور پروفیشنل کامیابی کے ساتھ دین اور اللہ تعالیٰ سے کس طرح مضبوط تعلق قائم کیا جائے ؟
فرمایا: بہت سے احمدی ڈاکٹر ہیں نمازی ہیں۔ تہجّد گزار ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب ڈاکٹر تھے اور ہسپتال میں کام کرتے تھے۔ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے نانا تھے۔ ڈاکٹری بھی کرتے تھے۔ تبلیغ بھی کرتے تھے۔ ان کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دن مسجد میں تبلیغ کررہے تھے۔ کسی مخالف نے مسجد کا مٹی کا لوٹا اُٹھا کر مارا جس سے آپ کا سر پھٹ گیا۔ آپ ہسپتال گئے اورجاکر پٹی کرائی۔ مارنے والا شخص بہت ڈرا۔ معافیاں مانگنے پر آپ نے فرمایا مَیں نے تم کو معاف کردیا۔ اب میری تبلیغ سُن لو۔ وہ شخص بہت متاثر ہوا کہ مَیں نے تو ان کو مارا لیکن انہوں نے مجھے معاف کردیا اور خوش خلقی سے بات بھی کررہے ہیں۔ یقیناً احمدیت سچّی ہے۔ چنانچہ اس نے بیعت کرلی۔ اسی طرح تم بھی ڈاکٹر بننے کے بعد اپنے مریضوں سے اچھے اخلاق دکھاؤ۔
حضور نے حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ بھی سُنایا۔ فرمایا آپ انگریزوں کے زمانے میں سول سرجن تھے۔ اس قدر مالی قربانی کیاکرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انہیں ایک مرتبہ کہنا پڑا کہ کچھ کنٹرول کریں اپنے لئے بھی کچھ رکھیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ آپ نے اتنی مالی قربانی کی ہے کہ اگر اب نہ بھی دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اسی طرح حضور نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آپ بھی حکیم تھے حکمت سے جو کماتے تھے اسلام کی خاطر خرچ کردیتے تھے غریبوں کی خدمت کرتے تھے ہمدردی کرتے تھے فرمایا تم بھی غریبوں کی خدمت کروگے تو اللہ بھی خوش ہوگا اور جماعتی خدمت بھی ہوگی۔
 ایک سوال یہ کیا گیا: پیارے حضور دنیا میں سیاسی ناانصافی کے خلاف کیسے آواز اُٹھائی جائے؟
فرمایا: جتنی ہماری پہنچ ہے اتنی تو ہم کررہے ہیں۔ جہاں تک میری پہنچ ہے مَیں کررہا ہوں۔ جہاں تک آپ کی پہنچ ہے آپ کرتے رہیں۔ مجھے امریکہ میں کیپٹل ہل میں بات کرنے کا موقع ملا تو ان کو امن کی باتیں بتائیں۔ بعد میں اُن کے ایک سینیٹر کہنے لگے کہ جو باتیں آپ بتارہے ہیں باتیں تو بہت اچھی ہیں اور ضرورت بھی ہے۔ لیکن ہم اس پر عمل نہیں کرسکتے۔ فرمایا ان کے اپنے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں اور اس کیلئے وہ پیسے دے کر بھی اپنے حق میں آواز بلند کراتے ہیں۔ فرمایا جب انصاف کے معیار اپنے لئے کچھ ہوں اور دوسروں کے لئے کچھ اور تو پھر حقیقی انصاف کس طرح قائم ہوسکتا ہے۔ پس جس حد تک ممکن ہو آپ اپنے اردگرد انصاف قائم کرنے کیلئے کوشش کرتے رہیں۔
 ایک سوال یہ کیا گیا کہ کچھ اہل تشیع حضرات اہل بیت اور آلِ رسول کو خلافت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس بارے حضور کا کیا ارشاد ہے؟
فرمایا: وہ تو نبوت پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جبریل کو غلطی لگی تھی وحی حضرت علی پر آنی تھی۔ وہ آنحضرت پر اُتار دی گئی۔
فرمایا: یہ لوگ پہلے تین خلفاء کو غلط کہتے ہیں۔ فرمایا یہ فتنہ پردازوں نے سوال اُٹھایا۔ کہتے ہیں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میرے اہل بیت کو فوقیت دو حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب تھا کہ تم اتنا میری باتوں کو سنو جتنا تم اپنے قریبیوں کی بات سُنتے ہو۔ اس کی یہ لوگ غلط تشریح کرتے ہیں۔
چند سال پہلے ایک شیعہ فیملی نے بیعت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں مجھے اب احمدی ہوکر پتہ چلاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی عشق کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے چاروں خلفائے راشدین تھے اور میں اپنے خطبات میں بھی یہ ذکر کرتا رہا ہوں۔ جنگوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی خطرناک جگہ پر ہوتے تھے اور حضرت علی فرماتے ہیں کہ مَیں بھی ایسی جگہ پر نہیں ہوتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یزید کو پلید لکھا ہے۔ اس کیلئے آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی ایک مختصر کتاب ’’ اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ پڑھیں۔ اسی طرح آپ کی ہی ایک کتاب حضرت علی کے بارے میں بھی ہے۔ اس کو بھی پڑھیں۔
 ایک سوال یہ پُوچھا گیا:
ہم لوگ جماعت اور پوری دنیا کیلئے کس طرح اعلیٰ نمونہ بن سکتے ہیں؟
فرمایا: کل ہی مَیں نے نمونہ بتایا ہے۔ آپ شرائط بیعت پرعمل کرلیں تو یہی نمونہ ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کا عملی نمونہ دیکھ کر بیعت کی ہے۔
فرمایا: پچھلے دنوں مَیں نے دعوت الی اللہ پر خطبہ دیا تھا۔ اس میں بھی کہا تھا کہ اپنا نمونہ دکھائیں۔
حضور انور نے اس موقع پر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مولوی کاواقعہ سُنایا جس نے مسجد میں مالی قربانی کے لئے وعظ کیا اور جس کے وعظ سے متاثر ہو کر اس کی بیوی نے اپنے سونے کے کڑے مولوی صاحب کو چندے میں دینے کے لئے دئے تو مولوی صاحب نے کہا کہ یہ تو مَیں نے لوگوں کے جذبات اُبھارنے کے لئے کہا تھا۔ یہ ہمارے لئے نہیں تھا۔
فرمایا: جب ایسے بدعمل ہوں گے تو کیا اثر ہوگا۔ ہم میں تو ہر شخص مالی قربانی کرتا ہے۔ مَیں بھی کرتا ہوں۔ آپ لوگ بھی کرتے ہیں۔
حضور اقدس کی مذکورہ بالا آن لائن ملاقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے تمام احباب جماعت سے بالخصوص خدام سے درخواست کی جاتی ہے کہ ایم۔ ٹی۔ اے سے اس پروگرام کو ضرور سنا کریںاوردوسروں کو بھی سُنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ اپنے پیارے امام کے کلمات طیبات کو بغور سُنیں اور ان پر دل و جان سے عمل کریں۔ وباللہ التوفیق۔