اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-12

زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا …اور … قومیں اس سے برکت پائیں گی

حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی علیہ السلام جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے آغاز جوانی سے ہی خدمت اسلام اور محبت رسول کا جذبہ ودیعت کررکھا تھا۔ آپ کے زمانہ میں دیگر مذاہب کے معاندین کی طرف سے اسلام پر چوطرفہ حملے ہورہے تھے اور مسلمان ان کا جواب دینے سے قاصر تھے بلکہ پڑھے لکھے مسلمان تو انگریز حکومت سے مرعوب ہوکر اسلام کو ہی خیرباد کہہ رہے تھے۔ ایسے پُر خطر و مایوس کن ایام میں آپ نے اللہ کے حکم سے کتاب براہین احمدیہ چار حصص میں لکھی جو 1882 ء سے 1884ء تک مکمل ہوئی۔ 1882ء میں آپ پر ماموریت کا پہلا الہام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:
قُلْ اِنّیْ اُمِرْتُ واَنااَوَّلُ الْمُؤمِنِیْن
کہہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والاہوں۔
(براہین احمدیہ حصّہ چہارم صفحہ 502-503 بحوالہ تذکرہ صفحہ 35 مطبوعہ قادیان)
ماموریت کے الہام کے بعد آپ پر معجزات و نشانات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور آپ اللہ سے دعا کرنے لگے کہ آپ کواسلام کے غلبہ کی راہیں دکھائی جائیں۔ چنانچہ آپ پر یہ قرآنی آیت الہام ہوئی کہ:
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ (الصف : 10)
فرمایا:
مُجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی و۔۔۔۔۔ وَلَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ الخ وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا وہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اور مجھ کو اس الہام کے یہ معنٰی سمجھائے گئے تھے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا میرے ہاتھ سے خداتعالیٰ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے اور اس جگہ یاد رہے کہ یہ قرآن شریف میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نسبت علما و محققین کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہوگی۔ ‘‘ (تریاق القلوب صفحہ 47)
دعویٰ مسیحیت و مہدویت کے بعد مختلف مذاہب کے راہنماؤں نے آپ کی مخالفت تیز کردی اور حضور علیہ السلام نے تمام دنیا میں نشان نمائی کی دعوت دے دی جس پر قادیان کے ہندؤں نے درخواست کی کہ ہم آپ کے پڑوسی ہونے کے لحاظ سے نشان نمائی کے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ حضور اقدس کو الہام ہوا:
’’ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی ‘‘ (سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 88)
اس پر حضور ہوشیار پور تشریف لے گئے اور چالیس روز اللہ کے حضور میں گریہ وزاری کی جس پر آپ کو ایک ایسے فرزند کی بشارت دی گئی جس کے ذریعہ اسلام پوری دنیا میں پھیلے گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔
یہ فرزند ارجمند پیشگوئی 1886ء کے تین سال بعد 12 ؍ جنوری 1889ء کو پیدا ہوا اور 14 ؍ مارچ 1914ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے خلیفہ کے طور پر مسند خلافت پر متمکن ہوا اور پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کے متعلق جو صفات اور پیشگوئیاں بیان کی گئی تھیں جن کا ذکر اسی شمارہ میں دُوسری جگہ پر آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں وہ سب آپ کی ذات بابرکات میں پوری ہوئیں جن میں آپ کو فتح و ظفر کی کلید بتایا گیا تھا اور جس میں ذکرتھا کہ آپ کے ذریعہ روحانی مردے زندہ ہوں گے۔ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوگا۔ وہ مسیحی نفس ہوگا۔ ذہین و فہیم، دل کا حلیم ہوگا۔ علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیاجائے گا۔ وہ خدا کا نور ہوگا۔ اس پر کلام الٰہی نازل ہوگا۔ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔
خدا گواہ ہے کہ یہ سب نشان حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی میں پورے ہوچکے ہیں اور تاقیامت پورے ہوتے چلے جائیں گے۔
آپ نے خدا کے حکم سے 1944ء میں دعویٰ مصلح موعود فرمایا اور حلفاً فرمایا اور نصف صدی سے زائد مسند خلافت پر متمکن رہے اورایسے وقت میں آپ خلیفہ بنے جب کہ اپنے اور پرائے سب مخالف تھے اور جنگوں کی وجہ سے دنیا کے اقتصادی حالات بدتر ہوچکے تھے۔
ایسے حالات میں آپ نے تبلیغ اسلام کے جھنڈے کو اپنے مبارک ہاتھوں میں پکڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان سے نکل کر ایشیا کے دیگر ممالک، یورپ کے ممالک، افریقہ کے ممالک اور دیگر براعظموں میں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا۔ آپ کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ بھی اس مہم میں بالکل اسی طرح شامل تھے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے۔ لنڈن میں اسلامی جھنڈا گاڑنے کیلئے حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحبؓکو بھجوایا گیا۔ ماریشس میں حضرت صوفی غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا تھا۔ امریکہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓتشریف لے گئے۔ افریقہ کی قسمت حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیّر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ جاگی اور مشرق بعید میں حضرت مولوی رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ سوتوں کو جگانے کیلئے تشریف لےگئے جبکہ دمشق اور فلسطین کی قسمت جگانے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔
پھر 1934ء سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی مبارک تحریک تحریک جدید نے غلبہ اسلام کی رُوحانی تلوار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اب تک دنیا کے بیسیوں مُلکوں میں واقفین زندگی کی فوج اسلام کاامن بخش پیغام پھیلانے کے لئے پہنچ چکی ہے اور کیا امیر اور کیا غریب ہر احمدی ایک طرف تو وقفِ زندگی کے جہاد میں شامل ہوگیا اور دوسری طرف مالی قربانیوں کے جہاد میں اُتر گیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی مبارک تحریک جدید اگر دنیا کے مُلکوں میں فریضہ تبلیغ اسلام میں مصروف ہے تو دوسری طرف وقف جدید کے ذریعہ دنیا بھر کے دیہاتوں میں تبلیغ و تربیت کا جال بچھا دیا گیا ہے اور احمدیت کے ذریعہ اسلام کا یہ پیغام دنیا کے 216 ملکوں میں پھیل گیا ہے۔
کیا یہ سب کام خداتعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر ہے اور کیا یہ عظیم الشان کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بارہ میں جو یہ الہام ہوا تھا کہ:
زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔
یہ الہام اسی سچے خدا کی طرف سے تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور جن کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی تشریف لائے اورجنہوں نے مصلح موعود کی آمد کی الہامی خبر دی اور خدا نے اس خبر کے حرف حرف کو سچ کردکھایا۔ فالحمد اللہ علیٰ ذٰلک
ژژژ