رمضان کا مبارک مہینہ جہاں عبادتِ الٰہی اور مخلوق کی خدمت کی یاد دلاتا ہے وہیں یہ ماہ سرور کائنات حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر بھی مُہر لگاتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ لاتعداد پیشگوئیاں جو پوری ہوچکی ہیں اور جو قیامت تک پوری ہوتی رہیں گی ان میں ایک پیشگوئی یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ:
ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں اور جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں یہ نشان اس طرز پر ظاہر نہیں ہوئے ۔ فرمایا چاند کو ماہ رمضان میں (اسکی مقررہ تاریخوں 13 ؍14 ؍15 میں سے) پہلی رات کو گرہن لگے گا جبکہ اسی رمضان میں سورج کو اسکی مقررہ تاریخوں (یعنی 27 ؍28؍29 میں سے درمیانی دن میں گرہن لگے گا اور جب سے خدا تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں یہ دو نشان کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔
یہ عظیم الشان نشان سیّدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی امام مہدی و مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں پورا ہوا۔جبکہ آپ نے 1891ء میں امام مہدی و مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس دعویٰ کے ٹھیک 3 سال بعد 1894ء میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو 13؍ رمضان المبارک 1311 ھ بمطابق 21؍ مارچ 1894ء بروز بُدھ بوقت 7 تا 9 بجے شام گرہن لگا۔ اسی طرح سورج گرہن اُسی رمضان میں 28؍ رمضان 1311 ھ بمطابق 6؍ اپریل 1894ء کو بوقت 9 بجے تا 11 بجے لگا۔ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی نہایت شان سے پوری ہوئی جبکہ امام مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام دعویٰ مہدویت فرما چکے تھے۔
اُس دَور میں اس نشان کو دیکھ کر بکثرت لوگوں نے امام مہدی علیہ السلام کو قبول کیا۔ اس سال جب تیرھویں رمضان کو چاند گرہن لگا تو قادیان میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور احباب جماعت اسی طرح قادیان کے اِردگرد کے احباب سورج گرہن کابڑی شدّت سے انتظار کرنے لگے اوران میں سے کئی تو سورج گرہن کے مشاہدہ کیلئے قادیان آگئے اور 28؍ رمضان المبارک کو سُورج گرہن کا مشاہدہ کرکے ان سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا دل سے یقین کیا اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ دیکھ کر آپؐکی ذات اقدس پر دل کی گہرائیوں سے درود بھیجتے رہے۔
اس نشان آسمانی کے ظاہر ہونے پر قادیان میں کیسے حالات تھے۔ حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب آف کلانور اور ان کے بھائی کا ایمان افروز بیان( بحوالہ اصحاب احمد جلد اوّل صفحہ 80-81) ملاحظہ فرمائیں:
’’ رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج کوگرہن لگنے کی پیشگوئی دارقطنی وغیرہ احادیث میں بطور علامت مہدی بیان ہوئی ہے۔ مارچ 1894ء میں پہلے چاند ماہ رمضان میں گہنایا گیا۔ جب اس رمضان میں سورج کو گرہن لگنے کے دن قریب آئے تو دونوں بھائی اس ارادہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ نشان دیکھیں اور کسوف کی نماز ادا کریں۔ جمعرات کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کر قریباً گیارہ بجے رات بٹالہ پہنچے۔ اگلے دن علی الصبح (6؍ اپریل 1894ء بروز جمعہ) گرہن لگنا تھا۔ آندھی چل رہی تھی۔ بادل گرجتے اور بجلی چمکتی تھی۔ ہوا مخالف تھی اورمٹی آنکھوں میں پڑتی تھی۔ قدم اچھی طرح اُٹھتے نہیں تھے اور راستہ صرف بجلی کے چمکنے سے نظر آتا تھا۔ ساتھ آپ کے اہل وطن دوست مولوی عبدالعلی صاحب بھی تھے۔ سب نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ ہو راتوں رات قادیان پہنچنا ہے۔ چنانچہ تینوں نے راستہ میں کھڑے ہوکر نہایت تضرع سے دُعا کی کہ اے اللہ جو زمین و آسمان کا قادر مطلق خدا ہے ہم تیرے عاجز بندے ہیں تیرے مسیح کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تو ہم پر رحم فرما ہمارے لئے راستہ آسان کردے اور اس بادِ مخالف کو دُور کر ابھی آخری لفظ دُعا کا منہ میں ہی تھا کہ ہوا نے رُخ بدلا اوربجائے سامنے کے پُشت کی طرف سے چلنے لگی اور ممد سفر بن گئی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہو امیں اُڑتے جارہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں نہر پر پہنچ گئے ۔ اس جگہ کچھ بوندا باندی شروع ہوگئی۔ نہر کے پاس ایک کوٹھا تھا اس میں داخل ہوگئے … اورزمین پر سوگئے۔ کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو ستارے نکلے ہوئے تھے اور آسمان صاف تھا اور بادل اورآندھی کا نام و نشان نہ تھا۔ چنانچہ پھر روانہ ہوئے اورسحری حضرت کے دسترخوان پر کھائی۔ صبح حضرت اقدس کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی جو کہ حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی نے مسجد مبارک کی چھت پر پڑھائی۔ تین گھنٹے یہ نماز وغیرہ جاری رہی۔ کئی دوستوں نے شیشے پر سیاہی لگائی ہوئی تھی جس میں سے وہ گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ ابھی خفیف سی سیاہی شیشے پر شروع ہوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔ آپ نے اسے شیشہ میں سے دیکھا۔
اس موقعہ پر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے اس عظیم الشان آسمانی صداقت پر 28؍ رمضان المبارک کو ہی چار صفحات پر مشتمل ایک اشتہار بھی شائع کیا جس میں اُمّتِ محمدیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اُنہیں مہدی برحق کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی۔
پس احمدیوں کا ہر رمضان اُنہیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی صداقت کی یاد دلاتا ہے اور اُنہیں یاد دلاتا ہے کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مہدیٔ برحق ہیں۔ اوراس کا شکرانہ یہ ہے کہ ہم رمضان المبارک کو نہایت اہتمام کےساتھ اس کی تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے گزاریں۔ عباد ت الٰہی، عشق الٰہی ہماری غذا بن جائے اور مخلوق خدا سے ہمدردی ہمارا معمول ہو اور ہم حضور اقدس حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے تمام ارشادات کو بغور سُن کر ان پر دل و جان سے عمل کرنے والے بن جائیں۔
حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 31؍ مارچ 2023ء میں فرمایا تھا:
’’ اگر ہم نے رمضان کا حقیقی فیض پانا ہے تو ہمیں قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر غور کرنے کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئے ۔ مساجد میں جہاں درسوں کاانتظام ہے وہاں درس بھی سننا چاہئے۔ قرآن کریم کی اہمیت اس کے محاسن اس کے روشن دلائل کے بارے میں بار بار سُننے اور پڑھنے اوران پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘
(بحوالہ بدر 20 ؍ اپریل 2023ء)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے فیوض سے وافر حصہ عطا فرمائے اورہماری جھولیاں اس کی برکات سے بھردے ۔ آمین۔