اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-26

بھارت کے احمدیوں کیلئے اُردو زبان کی اہمیت

اُردو زبان جس کی شروعات اگرچہ تیرھویں صدی عیسوی میں ہوچکی تھی اورجو ہندوستان کے مختلف علاقوں کی تہذیبی ، ثقافتی و لسانی آمیزش سے بھرپور ہوکر 18 ویں صدی کے آخر میں زبان دانی کے حوالہ سے اپنی خوبیوں میں کمال حاصل کرچکی تھی اور اس قابل ہوچکی تھی کہ ہندوستان کے اکثر علاقوں اورمذاہب کے لوگ اس کو سمجھ سکیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو اس زبان کے ذریعہ ہی تبلیغ اسلام اورتربیت اقوام کیلئے مبعوث فرمایا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا علم کلام اکثر و بیشتر اُردو میں ہی ہے اگرچہ آپ نے عربی اورفارسی میں بھی کتب لکھی ہیں اورآپ کا موثر و بلیغ منظوم کلام عربی و فارسی میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح آپ کو جو الہامات ہوئے ہیں وہ بھی اُردو کے علاوہ زیادہ تر عربی میں اور پھر فارسی میں یہاں تک کہ انگریزی اورہندی زبان میں بھی ہیں۔ لیکن زیادہ تر آپ کا منثور منظوم کلام اُردو میں ہی ہے۔
اُردو کی طرز تحریر اگرچہ فارسی اور عربی رسم الخط سے مشابہ ہے اور ہندی طرز تحریر سنسکرت کے مطابق ہے لیکن موجودہ دور کی بول چال میں ہندی بولنے والے اُردو زبان کو بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور اب تو ہندوستان میں اُردو اورہندی رسم الخط بے شک الگ الگ ہیں لیکن بولنے کے حوالہ سے اس قدر اشتراک ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور اُردو میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ عربی اورفارسی سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کے جاننےوالے پُرانے عربی اور فارسی ورثہ کو بسہولت جذب کرسکتے ہیں بلکہ اس کو پروان چڑھا سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔ اگر گزشتہ تین صدیوں میں ہندوستان میں شائع ہونے والی اُردو کتب کو دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کتب نے اہلِ اسلام کو اسلامی ماخذ کے قریب کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس حوالہ سے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اہم نکتہ بیان فرمایا ہے۔ آپؑفرماتے ہیں کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث فرمایا تھا اس لئے حسبِ آیت سورۃ الجمعہ واٰخرین منھم لَمَا یلحقُوا بھم آپ کی دو بعثتیں مقدر تھیں۔ پہلی بعثت میں تکمیل ہدایت ہوئی لیکن پہلی بعثت میں جبکہ تکمیل ہدایت ہوئی پوری دنیا میں اشاعت ہدایت کے سامان میّسر نہ تھے اس لئے آپ کی دوسری بعثت جو تکمیلِ اشاعت ہدایت کی بعثت ہے سامانِ اشاعت کے میّسر ہوجانے کے بعد آپؐکے بروز کامل امام مہدی و مسیح موعود کے ذریعہ مقدر تھی اور پھر اس کیلئے خدا نے جس زبان کو چُنا وہ اُردو زبان تھی اور ہندوستان کی اُردو زبان باقی زبانوں کی نسبت مسیح موعود کے زمانہ میں اس قابل ہوچکی تھی کہ وہ اُن مضامین کے بوجھ کو اُٹھا سکے جو مسیح موعود نے بیان کرنے تھے اور ان فرمانوں کو انسانی دلوں میں جاذبیت کے ساتھ پیوست کرسکے جو مسیح موعود پر نازل ہونے تھے ۔ اس حوالہ سے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ حسبِ منطوق آیت واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم اورنیز حسب منطوق آیت قل یٰایّھا الناس اِنّی رسول اللہ الیکم جمیعًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کی ضرورت ہوئی اوران تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اورخاص کر ملک ہند میں اُردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہوگئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافّہ ٔ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتے ہیں قرآنی تبلیغ کرسکتےہیں اوراشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اوراتمام حجّت کیلئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو مَیں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر مَیں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اورمقابلہ ٔ جمیع ملل و نحل اور امن و آزادی اس جگہ حاصل ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ 164-165 مطبوعہ قادیان)
پس مذکورہ حوالہ کی روشنی میں بھارت کے احمدیوں کا جو کہ اُردو زبان کو جاننے والے ہیں فرض بن جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بروز کامل کے سلطان نصیر بنیں جس کا ظہور ہندوستان میں ہوا ہے اور ہر لحاظ سے مدد کریں اور تبلیغ اسلام کے روحانی جہاد میں قلمی، لسانی اور مالی ہر اعتبار سے شامل ہوں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے تمام وسائل موجودہ کو یہی جواب دیا ہے کہ ہندوستان ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کامل کا مشن کامیاب و بامراد ہوسکتا ہے اورچونکہ اس کیلئے زبان اُردو ایک مرکزی کردار ادا کررہی ہے یہ بولنے کے لحاظ سے اس وقت ہندوستان کے کم وبیش ایک درجن صوبوں کی زبان ہے کیونکہ ہندی بولنے والے بھی اُردو کو سمجھ اوربول سکتے ہیں اور اس لئے بھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اکثر روحانی علم کلام اُردو زبان میں ہے اورموجودہ دور میں تمام خلفاء کرام اور حضرت اقدس امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے تبرکات خطبات، خطابات اور مجالس عرفان اُردو زبان میں ہی ملتے ہیں۔ لہٰذا ان روحانی خزائن کو سمجھنے کیلئے چونکہ بول چال کے اعتبار سے ہندی اوراُردو یکساں ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم اُردو زبان سیکھیں بالخصوص وہ احباب جو ہندی بولنے والے صوبوں میں مُقیم ہیں اوررُوحانی طور پر خود کو زندہ رکھنے کیلئے اورقوم کو زندہ کرنے کیلئے وہ تو فوراً اُردو زبان سیکھ کر اُس کو استعمال میں لاسکتے ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کو سیکھ کر فریضہ ٔ تبلیغ کو ادا کرسکتے ہیں اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے یہ بھی جواب دیا ہے کہ ہندوستان وہ جگہ ہے جہاں مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت وہ جگہ ہے جہاں دیگر ممالک کی نسبت مذہبی آزادی اورفریضہ ٔ تبلیغ کی آزادی زیادہ حاصل ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اُردو زبان سیکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 02 ؍ جولائی 1993ء میں فرمایا تھا:
’’ دوسری نصیحت میری یہ ہے کہ آپ اُردو کی طرف توجہ دیں۔ الہامات کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثر تحریرات اُردو میں ہیں جب تک آپ اُردو نہیں سیکھیں گے آپ حضرت مسیح موعودؑ کی پُر معرفت کتب میں بیان فرمودہ نکات روحانیت سے صحیح معنوں میں آشنا نہیں ہوسکتے کیونکہ ترجمہ میں وہ خوبصورتی اورلطف ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا جو حضورؑ کی اپنی تحریرات کو پڑھنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔‘‘
لہٰذا ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اُردو سیکھ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کے روحانی خزانوں سے اپنی تشنگی بجھائے اور حق کے پیاسوں کو بھی اس آب حیات سے سیراب کرے۔ وباللہ التوفیق