سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے امام مہدی و مسیح موعود کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ امت میں حکم و عدل کی حیثیت میں آئےگا۔ حدیث مبارک کے الفاظ درج ذیل ہیں :
يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ
(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 411 مطبوعہ مصر بروایت حضرت ابو ہریرہؓ)
یعنی قریب ہے کہ جو تم میں سے زندہ رہے وہ عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے وہ امام مہدی حکم و عدل ہوں گے ۔ امت کے اختلافات کے فیصلے کریں گے ۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔
مذکورہ حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ مسیح موعود حکم و عدل ہوگا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسکے زمانہ میں مسلمانوں کے کثیر فرقے ہو جائیں گےاور ان کے درمیان شدید اختلافات ہو جائیں گے اور وہ اسلامی عقائد اور احکامات کے سمجھنے میں اتنی غلط فہمیوں کا شکار ہو جائیں گے کہ علماء بھی ان اختلافات کو ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔تب امام مہدی جو خدا کا نمائندہ ہوگا وہ الہام الٰہی کی روشنی میں ان اختلافات کو مٹا دیگا ۔
سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی کو جب اللہ تعالیٰ نے امام مہدی و مسیح موعود بنا کہ حکم عدل کے مقام پر فائز فرمایاتو مسلمانوں کے فرقوں میں باہم اس قدر اختلافات ہو چکے تھے کہ عوام تو عوام علماء بھی سرپھٹول میں مشغول تھے ۔ اپنے اپنے خود ساختہ عقائد کو نہ صرف چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھے بلکہ مد مقابل کو بجائے سمجھانے کے مسلمان کہلانے والے مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ تلوار کے جہاد میں مشغول تھےاور اب بھی ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایک دوسرے کو مرتد قرار دے کر سر قلم کر رہے تھے۔ اور جو آپ پر ایمان نہیں لائے ابھی بھی انکا یہی حال ہے۔
قبل اسکے کہ ان اصلاحات کا ذکر کیا جائے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اور الہام الٰہی کی روشنی میں کی ہیں۔ ان میں سے بعض غلط عقائد کا ذکر کیا جاتا ہے جو مسلمانوں میں پھیل چکے تھے اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے جنکی اصلاح فرمائی ہے۔
(1)مسلمانوں میں عیسائیوں کے زیر اثر خلاف قرآن حدیث یہ عقیدہ پھیل گیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر ہیں اور وہی مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آسمان سے اپنے اسی جسم کے ساتھ نازل ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید سے ایسے تیس دلائل سکھائے جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے صلیبی موت سے بچا لیا تھا اور آپ ہجرت کر کے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں نکلےتھے اور 120 سال کی عمر میں کشمیر میں آپ کی وفات ہو گئی اور سرینگر محلہ خانیار میں آپ کی قبر موجود ہے اور آج نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے دانشور اور ریسرچ سکالر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ثابت کر رہے ہیں اور ایسی تحقیقات بھی شائع کر چکے ہیں جن سے عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر کی طرف ہجرت ثابت ہوتی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے آپ نے عیسائیت کے اس باطل عقیدہ کو پاش پاش کیا ۔یسوع مسیح خدا اور خدا کا بیٹا ہے اور مسلمانوں کے بھی اسی غلط عقیدہ کا بطلان کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام جسمانی طور پر آسمان پر گئے ہیں اور اسی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے نازل ہوں گے۔اس عظیم الشان صداقت کے اظہار کے بعداب مسلمانوں اور عیسائیوں کے دانشور احمدیت یعنی حقیقی اسلام پر ایمان لا رہے ہیں اور جن کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی وہ مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ سے منکر ہوکر مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ کو افسانہ قرار دے رہے ہیں اور نہ صرف قرآن و حدیث بلکہ امت کے ان ہزار ہا بزرگان کو بھی جھوٹا ٹھہرا رہے ہیں جو کہ امام مہدی و مسیح موعود کی آمد کا انتظار کرتے رہے اور وحی الٰہی کی روشنی میں ان کی آمد کی اطلاع دیتے رہے۔
(2)مسلمانوں میں یہ غلط فہمی بھی پھیل گئی تھی کہ آنحضرت ﷺ ایسے آخری نبی ہیں کہ ان کے بعد اب تا قیامت کوئی نبی نہیں آسکتا خواہ وہ آنحضرت ﷺ کا امتی ہی کیوں نہ ہو۔
آپ نے قرآن مجید کے دلائل سے یہ ثابت فرمایاکہ نبوت ایک مقام ہے جو اللہ نے اب آنحضرت ﷺ کے امتیوں کے لئے مخصوص کر چھوڑا ہے۔اور فرمایا کہ میں بھی چونکہ آنحضرتﷺ کا غلام ہوں لہٰذا اس غلامی کی برکت سے ہی اللہ نے مجھے انعام نبوت اور مکالمہ مخاطبہ سے نوازا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو انکی اس غلطی سے بھی اطلاع دی کہ وہ باوجود اس عقیدہ کے رکھنے کے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا پھر بھی بنی اسرائیلی نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امت محمدیہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد بطور نبی مانتے ہیں اور آپﷺ کی امت میں آپ کی پیروی اور غلامی میں نبی کے آنے کا انکار کر کے آنحضرت ﷺ کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فرمایا:
’’اگر میں آنحضرت ﷺ کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ،روحانی خزائن جلد 20صفحہ 411تا 412)
الحمد للہ کہ گزشتہ سوا سو سال میں لاکھوں لوگ اپنی غلطی کی اصلاح کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے عرب سکالر بھی کہ جب ان پر انکی غلطی آشکار ہوئی تو آنحضرت ﷺ اور آپ کے اس غلام صادق پر درود پڑھ رہے ہیں۔
(3)مسلمانوں میں قرآن و حدیث کے خلاف یہ خطرناک غلط عقیدہ بھی پھیلا ہوا تھا کہ تلوار کا جہاد اب بھی جاری ہےاور آنے والاامام مہدی تلوار چلا کر دین اسلام کو پھیلائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے امام مہدی و مسیح موعود کے حوالہ سے صاف طور پر فرمادیا تھا کہ اس کےزمانہ میں تلوار کا جہاد منسوخ ہو جائے گا ۔جیسا کہ حدیث بخاری میں لکھا ہے کہ مسیح موعود جب آئیں گے تو ’’یضعُ الحرب‘‘ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم)یعنی مسیح موعود جنگ کوختم کر دیں گے اور ایک حدیث میں لکھا ہے وَلَیَضَعَنّ الجزْیَۃَ جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔(مسلم)
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے اس زمانہ میں امام مہدی و مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور میرے زمانہ میں اب تلوار کا جہاد موقوف ہے۔آپ نے فرمایا:
’’اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے خدا کے پاک نبی کے نا فرمان مت بنو۔ مسیح موعود جو آنے والا تھا آچکا اور اُس نے حکم بھی دیا کہ آئندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور کشت وخون کے ساتھ ہوتی ہیں باز آ جاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے وعظوں سے منہ بند نہ کرنا طریق اسلام نہیں ہے جس نے مجھے قبول کیا ہے وہ نہ صرف ان وعظوں سے منہ بند کرے گا بلکہ اس طریق کو نہایت بُرا اور موجب غضب الہٰی جانے گا۔ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد)
نیز فرمایا:
اب جب مسیح موعود آ گیا تو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاد سے باز آوے۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو شائد اس غلط فہمی کا کسی قدر عذر بھی ہوتا مگر اب تو میں آ گیا اور تم نے وعدہ کا دن دیکھ لیا ۔ اس لئے اب مذہبی طور پر تلوار اٹھانے والوں کا خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر نہیں ۔ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اور حدیثوں کو پڑھتا اور قرآن کو دیکھتا ہے وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ طریق جہاد جس پر اس زمانہ کے اکثر وحشی کار بند ہو رہے ہیں۔ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے بلکہ یہ نفس امارہ کے جوشوں سے یا بہشت کی طمع خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئے ہیں۔
فرمایا:
’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے اوریہ بات مَیں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔‘‘(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد)
اپنے منظوم کلام میں آپ فرماتے ہیں:
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ
عیسیٰ مسیح کر دیگا جنگوں کا التوا
یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
(تحفہ گولڑیہ صفحہ 40)
اب فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ خود ہی فیصلہ کریں کہ 1900ء کے بعد جب سے کہ سچے امام مہدی و مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے تلوار کے جہاد کے خاتمہ کا فتویٰ صادر فرمایا ہے کسی ایک جنگ میں بھی جو جہاد کے نام سے لڑی گئی مسلمانوں کو کافروں کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی؟ یا پھر یہ جنگیں جہاد کے نام پر مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف لڑیں اور ایک دوسرے کے گلے کاٹے اور جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام کیا اور مسلمانوں کو کمزور کیا۔غور کرو ! اور سوچو!
کاش مسلمان خدا کی طرف سے آنے والے اس سچے مسیح موعود کی درد بھری آواز کو سن لیتے تو آج دنیا میں مسلمان مسلمان کا خون نہ بہاتا اور انکی طاقت مثبت کاموں میں استعمال ہوتی۔
پس آئو حکم و عدل کے فیصلوں کی طرف حکم و عدل کے چند اور فیصلوں کے متعلق آئندہ اشاعت میں گفتگو کی جائے گی۔ و با للہ التوفیق