گزشتہ سے پیوستہ گفتگو میں ہم عرض کررہے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے امام مہدی و مسیح موعود کی آمد کے متعلق بشارات دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ اپنے ظہور کے بعد مختلف اسلامی فرقوں کے تنازعات کے فیصلے قرآن و حدیث کے مطابق الہام الٰہی کی روشنی میں کرے گا اور اُسی کے فیصلے درست اور قابل عمل ہوں گے اور جو اس کے فیصلوں کے بعد خلاف ورزی کرتے ہوئے نافرمانی کریں گے وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر اور ذلّت کا شکار ہوں گے۔
اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سچا امام مہدی و مسیح موعود بنا کر مبعوث فرما دیا ہے اور گزشتہ گفتگو میں ہم نے آپ کی چند اصلاحات اور فیصلوں کا ذکر کیا تھا جن میں ایک یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان سے آمد سے متعلق آپ نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے غلط عقیدہ کی اصلاح فرمائی اور قرآن و حدیث کے دلائل سے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ الہام کی روشنی میں آپؑنے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ:
’’ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے وکان وعداللہ مفعولًا ‘‘
آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ کو چونکہ عیسائی خدا تسلیم کرتے ہیں اس لئے حضرت عیسیٰ کی موت کا عقیدہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے ماننے میں اسلام کی زندگی ہے۔ عیسیٰؑ کی حیات کے عقیدہ کو مان کر نہ صرف عیسائی مذہب دنیا میں پھیلا ہے بلکہ عیسائیوں کی ہندوستان میں حکومت کے زمانہ میں لاکھوں مسلم نوجوان بلکہ مولوی حضرات بھی عیسائی ہوگئے۔ چنانچہ آپ نے اپنی ایک آخری وصیت کے طور پر فرمایا تھا :
’’ اے میرے دوستو! اب میری ایک آخری وصیت کو سنو او رایک راز کی بات کہتا ہوں اس کو خوب یاد رکھو کہ تم اپنے تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تم کو پیش آتے ہیں پہلو بدل لو او رعیسائیوں پر ثابت کردو کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کیلئے فوت ہوچکا ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دوگے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 402)
حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی اصلاح کے بعد اب اکثر علماء بھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہوچکے ہیں اور خود آپس میں بھی حیات و وفات مسیح پر مناظرے کررہے ہیں اور لاکھوں ایسے ہیں جو حکم وعدل کے فیصلہ کو مان کر آپ کی بیعت میں شامل ہوچکے ہیں۔ اور انکار کرنے والوں میں سے بعض اب ایسے بھی ہیں جو مایوس ہوکر امام مہدی و مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ کو افسانہ قرار دے رہے ہیں اور قرآن و حدیث اور گزشتہ چودہ سو سال کے اُمت کے اُن بزرگان کے تواتر سے ہونے والے الہامات و کشوف کو ٹھکرا چکے ہیں۔ جنہوں نے تکرار کے ساتھ امام مہدی و مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بلکہ اپنے الہامات کی روشنی میں بھی پیش کیا ہے۔
وہ نام نہاد مسلم دانشور جو اب مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ کو افسانہ قرار دے رہے ہیں اس طرح وہ اپنے زعم میں اُس اعتراض سے بچنے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی قرار دے کرکیسے آپ کے بعد حضرت عیسیٰ کو آسمان سے اُتارا جاسکتا ہے۔ پس جب اعتراض کا جواب نہ بن سکا تو پیشگوئی سے ہی منحرف ہوگئے۔ اور یہ بھی نہ سوچا کہ اس پیشگوئی سے منحرف ہو کر وہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں کیونکہ مسیح موعود کی آمد کی صرف ایک پیشگوئی ہی نہیں بلکہ اس کی تہہ میں آنحضرت ﷺ کی کئی پیشگوئیاں مضمر ہیں۔ جو اب بڑی شان سے پوری ہوچکی ہیں۔
اسی طرح گزشتہ گفتگو میں یہ بھی عرض کیا گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب سچا امام مہدی آجائے گا تو اس کی آمد کے بعد مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہوجائے گا اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اب جبکہ مَیں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں خدا کے حکم کے مطابق امام مہدی و مسیح موعود ہوں تو اب ؎
یہ حکم سُن کر جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا
(تحفہ گولڑویہ)
آپ نے فرمایا تھا کہ اب میری آمد کے بعد دینی جنگوں کا ’’ اذن‘‘ ختم ہوچکا ہے اس لئے اب دین کے نام پر جنگ کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے 1900 ء میں دینی جہاد کے خلاف فتویٰ دیا تھا اور گزشتہ سوا سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھی مسلمانوں نے دین کے نام پر تلوار کا جہاد کیا ہے غیروں کے مقابل پر تو انہوں نے کبھی فتح حاصل نہیں کی البتہ آپس میں ایک دوسرے کے گلے ضرور کاٹے ہیں۔’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگا کر ایک گروہ خود کو ’’ مجاہد‘‘ اور دوسرے کو ’’ دھشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح مد مقابل بھی خود کو ’’ مجاہد‘‘ اوردوسرے کو ’’ دھشت گرد ‘‘ اور اسلام دشمن قرار دیتا ہے۔ یہ ہے وہ عذاب جو سچے امام مہدی کا انکار کرکے اُس سے دشمنی کرکے اور اس کے حکموں کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔
آج کی اس گفتگو میں اسی حوالہ سے بعض اور اُمور کا تذکرہ بھی کیا جائے گا۔ مسلم علماء میں ایک یہ غلطی بھی پیدا ہوچکی تھی کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ مسلمانوں کو تو یہ حق حاصل ہے کہ وہ باقی مذاہب کے لوگوں کو اسلام میں داخل کریں بلکہ بعض تو بزوراسلام میں شامل کرنے پر بھی یقین رکھتے تھے۔ جیسے مولانا مودودی صاحب نے تو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ پر بھی یہ الزام لگا دیا ہے کہ آپ نے لوگوں کو جبراً اسلام میں داخل کیا ہے۔ مودودی صاحب کی کتاب ’’ الجہاد فی الاسلام ‘‘ میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد جب تلوار ہاتھ میں پکڑی تو تب دلوں کے زنگ اُتر گئے۔ اس کے علاوہ مسلمان اس غلط نظریے کے بھی حامل ہوگئے تھے کہ اگر کوئی اسلام میں داخل ہونے کے بعد کسی وجہ سے اسلام کو چھوڑ دے تو ایسا مرتد شخص ان کے نزدیک واجب القتل ہے لیکن علماء اسلام اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اگر کوئی غیر مسلم اسلام کے اصولوں کو اچھا سمجھ کر اسلام میں داخل ہوجائے توکیا اس کے سابقہ ہم مذہبوں کو بھی یہ حق حاصل ہے یا نہیں کہ وہ اسلام میں داخل ہونے والے کو بھی اپنے مذہب سے ارتداد کی سزا میں قتل کرسکتے ہیں۔
یہ وہ غیر منصفانہ اورخود ساختہ عقیدہ تھا جس کی حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام نے اصلاح فرمائی اور فرمایا کہ ایسا عقیدہ قرآن مجید کے اس عادلانہ تعلیم کے خلاف ہے جس کا جھنڈا قرآن مجید نے سب سے بڑھ کر اُٹھایا ہے۔ قرآن مجید نے کسی ایک آیت میں قتل مرتد کی سزا کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ قرآن مجید تو قبول دین کے لئے جبر کو حرام قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:
’’ جو اپنے دین سے مرتد ہوجائے تو اللہ اس کے بدلے میں ایک ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ (المائدہ : 55)
پس اسلام نے ہرگز مرتد کے لئے قتل کی سزا تجویز نہیں کی کیونکہ اس طرح تو محبت پیدا نہ ہوگی بلکہ تلوار کے خوف سے منافقین پیدا ہوتے رہیں گے جو بظاہر تو تلوار کے ڈر سے مسلمان ہوں گے لیکن اندر سے کفریہ عقائد پر یقین رکھتے ہوں گے اور یہ بات مسلمانوں کی ملی اورقومی اتحاد کیلئے سخت خطرہ ہوگی۔ مسلمان علماء اور ان کے فرقے اس ترقی یافتہ دور میں ایسے عقیدے رکھ کر اسلام کو نشانہ ٔ مذاق بنا رہے ہیں اور قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی توہین کرنے والے عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین کو بھی معاف فرمادیا تھا بلکہ اس کا جنازہ بھی پڑھایا تھا۔ پس یہ ہے وہ سُنّت جو قابل عمل ہے اور جس کو دیکھ کر اپنے اور غیر آپ پر درود بھیجتے ہیں۔
ایسا ہی ایک غلط عقیدہ مسلمانوں میں یہ بھی پھیلا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص توہین رسالت کرے یا توہین قرآن کرے تو اس کی سزا قتل ہے اور ایسے جُرم کے مرتکب کو معافی بھی نہیں دی جاسکتی۔ یہ سزا بھی قرآن مجید کی واضح تعلیم اورآنحضرت ﷺ کی سُنّت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید توہین مذہب کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے لیکن ایسے لوگوں کیلئے کوئی دنیوی سزا تجویز نہیں کرتا اُنہیں صرف دلائل سے قائل کرنے کی ہی تلقین کرتا ہے اور صرف یہی حکم دیتا ہے کہ جس وقت ایسے لوگ توہین کے مرتکب ہوں یا اسلام پر استہزاء کریں تو ایسے لوگوں کی مجالس سے اُٹھ کر چلے جانا چاہئے۔ فرمایا:
’’ اس نے تم پر کتاب میں یہ حکم اتارا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیاجارہا ہے یااُن سے تمسخر کیاجارہا ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہوجائیں۔
(النساء : 141)
سورۃ الانعام آیت نمبر 11 میں فرمایا کہ استہزاء کرنے والوں کو خداتعالیٰ خود سزا دے گا۔ سورۃ الحجر آیت 96 میں فرمایا استہزاء کرنے والوں اورتوہین کرنے والوں سے بدلہ لینے کیلئے ہم ہی کافی ہیں۔
قرآن مجید کی ایسی تعلیمات کے باوجود ایک طبقہ بعض ضعیف احادیث کاسہارا لے کر توہین رسالت کیلئے جان سے ماردینے کی سزا تجویز کرتا ہے۔
حد یہ ہے کہ پاکستان میں اب یہ قانون دنیوی مفادات کے حصول کیلئے استعمال ہورہا ہے اور اس کے ذریعہ مفاد پرست جن کے اب گینگ بن گئے ہیں معصوم لوگوں سے ان کی جان بچانے کیلئے کروڑوں روپے لوٹ رہے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس معاملہ میں قانون نافذ کرنے والے اور انصاف قائم کرنے والے ادارے بھی بے بس ہیں۔ اور ناموس رسالت کے نام پر رشوت خوری اغواء برائے تاوان اور بے لگام بھیڑ کے ہاتھوں معصوموں کے خون کی ہولی روز مرّہ کا معمول بن گیا ہے اور یہ سب کام ’’ اُمّتـ‘‘ کے ’’ علماء‘‘ اور ان کے معاون کروارہے ہیں۔
یہ ہے وہ عذاب جو خدا کی طرف سے آنے والے سچے مامور کی تکذیب و دشمنی کے نتیجہ میں نازل ہوا ہے۔ ہائے افسوس آنے والے حکم و عدل کی نافرمانی کرکے تم لوگ کیسی اجتماعی اذیت اور قومی عذاب کا شکار ہوگئے ہو؎
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درد بھری آواز سنو!
اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار