اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-09

تکمیل اشاعتِ ہدایت کا مبارک دور اور وقف زندگی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے حوالہ سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ الہام کی روشنی میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ اُولیٰ تکمیل ہدایت کے لئے تھی اور آپؐکی دوسری بعثت جو بروزی طور پر مقدر تھی اور جس کا سورۃ الجمعہ میں ذکر ہے وہ تکمیل اشاعتِ ہدایت کے لئے ہے اور یہی وہ مبارک زمانہ ہے جس میں ہم موجود ہیں اور جو امام مہدی و مسیح موعود کا زمانہ ہے ..... جی ہاں وہ زمانہ جس کے انتظار میں اُمت کے بیسیوں اولیاء و ابدال گزر گئے۔
دور اوّل میں دشمنانِ اسلام تیر و تلوار کے ذریعہ اسلام پر حملہ آور ہوئے تھے لیکن موجودہ حملہ قلم اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہے۔ ان جدید حملوں سے اسلام کو بچا کر اس کو تمام دنیا میں پھیلانا اور غالب کرنا امام مہدی علیہ السلام کی جماعت کا کام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں تلوار کا جہاد موقوف ہوجائے گا اور اسلام کا غلبہ صرف اور صرف دلائل بیّنہ اور عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ ہوگا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس کیلئے جماعت کےافراد کو نصیحت نہیں بلکہ وصیت فرمائی ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ آپؑنے فرمایا:
’’ مَیں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں آئندہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ اسے سُنے یا نہ سُنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اورحیات طیبہ اور ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش میں لگ جائے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اُٹھے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ العالمین ۔ جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا خدا میں ہوکر نہیں مرتا وہ نئی زندگی نہیں پاسکتا۔ پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف مَیں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کیلئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں‘‘ ۔
(الحکم جلد نمبر 4 نمبر شمارہ 21 بتاریخ 31 ؍ اگست 1900ء صفحہ 4)
افراد جماعت میں وقف زندگی کی روح پیدا کرنے کیلئے اور انہیں غلبہ اسلام کی مہم میں شریک کرنے کیلئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1906ء میں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی اس موقع پر آپؑنے فرمایا:
’’ ہماری غرض مدرسہ کے اجراء سے محض یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کیا جائے۔ مروجہ تعلیم کو اس لئے ساتھ رکھا ہے کہ یہ علوم خادم دین ہوں ہماری یہ غرض نہیں کہ ایف اے یا بی اے پاس کرکے دنیا کی تلاش میں مارے مارے پھریں ہمارے پیش نظر تو یہ امر ہے کہ ایسے لوگ خدمت دین کیلئے زندگی بسر کریں اور اسی لئے مدرسہ کو ضروری سمجھتا ہوں کہ شاید دینی خدمت کے لئے کام آ سکے‘‘ ۔
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 279-280)
دینی خدمت کی توفیق کو حقیقی راحت سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ مَیں خود اس راہ کا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے مَیں نے اس راحت او رلذت سے حظ اُٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کیلئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 370)
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس روحانی آواز پر جماعت نے دل و جان سے لبیک کہا اور گزشتہ سوا سو سال میں اب تک ہزار ہا پروانوں نے زندگیاں وقف کرکے اشاعت اسلام کی راہ مین ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان واقفین نے جانی قربانیاں بھی پیش کیں اپنے اموال خدا کی راہ میں نچھاور کردئے۔ اپنی زبان اور قلم سے اس راہ میں دن رات ایک کردیا اور آج ان کے نام احمدیت کی تاریخ میں روشن مناروں سے کم نہیں اور وہ نام ہم نہایت فخر سے لیتے ہیں۔ حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ بنے آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر قادیان کے ہی ہوگئے اور اپنے علم اپنے مال اور اپنی جائیداد سب کو خدا کی راہ میں پیش کردیا۔
حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عشق میں کسقدر ترقی کی اور خدمت اسلام کے جذبہ سے آپ کس حد تک سرشار تھے آپ کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا تھا۔ آپ لکھتے ہیں:
’’ مولانا مرشدنا امامنا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘
عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمانی سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے وہ مطالب حاصل کروں اگر اجازت ہو تو مَیں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کردنیا میں پھروں اور لوگوں کو دینِ حق کی طرف بلاؤں اور اس راہ میں جان دوں۔ مَیں آپ کی راہ میں قربان ہوں میرا جو کچھ ہے وہ میرا نہیں آپ کا ہے حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔‘‘
(فتح اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 36)
حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا سُن کر افغانستان سے قادیان تشریف لائے تھے آپ پر دل و جان سے فدا ہوگئے۔ افغانستان جا کر بادشاہ وقت کی دی ہوئی عز و جاہ کو ٹھکرا کر باوجود ہر طرح کی لالچ دینے اور خوف میں مبتلا کرنے کے اپنی جان راہ مولیٰ پر قربان کردی اور سید الشہداء کہلائے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت میں آنے والے یہ صحابہ اشاعتِ اسلام کیلئے قادیان سے نکل کرپوری دنیا میں پھیل گئے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓامریکہ گئے۔ حافظ صوفی غلام محمد صاحب ماریشس، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیّر ؓافریقہ، حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓمشرق بعید، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب دمشق و فلسطین تشریف لے گئے اور نہایت نامساعد حالات میں پوری دنیا میں انہوں نے اشاعتِ اسلام کے فریضہ کو سر انجام دیا اور پھر خلفائے احمدیت کی نگرانی میں اور ان کے سائے تلے انہی صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہزاروں واقفین زندگی نے قربانیاں پیش کیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے دو صد سے زائد ملکوں میں اسلام کا پیغام پہنچ چکا ہے۔ قرآن مجید کے 78 زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ ہزارہا مبلغین کرام دن رات اشاعتِ اسلام میں مصروف ہیں جن میں اب واقفین نو بھی اپنی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ دنیا کے بیسیوں ملکوں میں جدید پرنٹنگ پریسز کے ذریعہ اسلامی لٹریچر طبع ہورہا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں جامعات کھل چکے ہیں جن میں واقفین زندگی ٹریننگ حاصل کرکے دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں۔
وقف زندگی کا یہ سفر قادیان اور ہندوستان سے شروع ہوا اور اب پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ ہم اہل ہند اس پر جتنا فخر کریں وہ کم ہے کہ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اور یہیں سے یہ روشنی پوری دنیا میں پھیل گئی۔ لیکن اس موقع پر ہمیں بھی نہایت ٹھنڈے دل سے خود کو ٹٹولنا ہوگا کہ قُربانی کے اس سفر میں ہمارا کسقدر حصّہ ہے۔ خلافتِ خامسہ کے اس دَور میں جماعت پوری دنیا میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو جو ہندوستان میں مقیم ہیں اب اپنے متعلق غور کرنا ہے کہ وقف زندگی کے اس سفر میں وہ کس مقام پر کھڑا ہے۔
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ آپ میں سے وہ جو پندرہ سال یا پندرہ سال سے زائد عمر کے ہیں اب اپنے مستقبل اور اپنے کیرئیر کے انتخاب کے بارہ سوچنے لگ جائیں گے۔ یقیناً آپ کو وہ شعبے اختیار کرنے چاہئیں جو آپ کی دلچسپی کے ہیں لیکن مَیں آپ میں سے زیادہ سے زیادہ کو تاکید کروں گا کہ جامعہ احمدیہ میں داخلہ کیلئے درخواست دینے پر غور کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں دنیا بھر میں مبلغین کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 19 ؍اگست 2016)
اسی طرح فرمایا:
’’ جامعہ احمدیہ میں جانے والوں کی تعداد واقفین نو میں زیادہ ہونی چاہئے ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ ہر جگہ۔ ہر براعظم میں نہیں ہر ملک میں نہیں، ہر شہر میں نہیں بلکہ ہر قصبہ میں ہر گاؤں میں دنیا کے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کو پہنچانا ہے۔ اس کیلئے چند ایک مبلغین کام کو سر انجام نہیں دے سکتے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ؍ جنوری 2013)
پس نوجوانان بھارت کو بالخصوص واقفین نَو کو وقف زندگی کے مبارک اور زندگی بخش میدان میں کودنے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے جہاں پختہ عزم اور بھرپور روحانی جذبہ چاہئے وہیں دعاؤں سے بھی مدد لینے کی ضرورت ہے کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہی فرمایا ہے کہ اب یہ فتح اسلام کے چمکتے ہوئے روحانی دلائل اور دعاؤں کے ذریعہ ہوگی۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت میں شامل ہوکر حضرت امیرالمومنین کی مبارک آواز پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل کریں۔ وباللہ التوفیق۔
ززز