امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ کو ایک ماہ سے اُوپر ہو گیا ہے۔ اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے یہ خیال تھا کہ چند دنوں میں اس کا فیصلہ ہوجائے گا لیکن سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے اندازوں کے برعکس یہ جنگ نہ صرف لمبی کھچ گئی ہے بلکہ جانی و مالی نقصان اسرائیل اور ایران کی حدود سے نکل کر علاقے کے دیگر خلیجی ممالک تک بھی پھیل گیا ہے۔ عرب کے ممالک اور اسرائیل و ایران لمحہ لمحہ جانی خطرات سے دوچار ہیں۔ اب تک ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ہزاروں فوجی و صنعتی اہداف پر حملے ہوچکے ہیں اور اب دیگر ایشین و یوروپین ممالک بھی جن میں ہمارا ملک بھارت بھی شامل ہے تیل ، گیس اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کاشکار ہوگئے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور اب بحر احمر کے آبی راستہ کے متاثر ہونے سے وسیع معاشی نقصان ہورہا ہے جس کی لپٹیں ایشیا کے ساتھ ساتھ یورپ کے بعض ممالک کو بھی جُھلسا رہی ہیں۔ اگر یہ جنگ لمبے عرصہ تک چلتی رہی تو اس کے عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ میں A.I کا استعمال اس کو اور بھی خطرناک بنا سکتا ہے جہاں نہ اخلاقی قدریں ہیں اور نہ انسانی ہمدردی۔ امریکی صدر کے حالیہ بیانات سے اگرچہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ دو سے تین ہفتوں تک اس جنگ کو ختم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں لیکن عالمی حلقوں میں ان کے سابقہ بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر کسی قسم کی حتمی رائے دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ شکر ہے کہ ایران اور امریکہ اب عارضی طور پر ceasefireپر متفق تو ہوئے ہیں لیکن اس کے قائم رہنے کے متعلق وثوق سے کہا نہیں جا سکتا کیونکہ ابتداء سے ہی اس پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کئی سال پہلے اس حوالہ سے برٹش پارلیمنٹ ۔ کوبلز جرمنی کے ملٹری ہیڈ کوارٹر ۔ کیپٹل ہل واشنگٹن۔ ڈی۔ سی میں اراکین کانگریس و سینٹ، سفراء وہائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سٹاف اور دیگر دانشوروں اسی طرح یورپین پارلیمنٹ اور دیگر کئی جگہوں پر عالمی جنگ کے خطرات کو بھانپتے ہوئے دنیا میں امن کے قیام کے لئے خطابات ارشاد فرمائے تھے اسی طرح اسرائیل ایران اور امریکہ و دیگر ممالک کے صدور صاحبان کو فکر انگریز خطوط لکھ کر اس حوالہ سے توجہ دلائی تھی۔ یہ خطابات اورخطوط آج بھی اہل دنیا کو دعوتِ عمل دے رہے ہیں۔
حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سال پہلے 26؍ فروری 2012ء کو اسرائیل کے وزیر اعظم مسٹر بن یامن نتن یاہو کو ایک ہمدردی بھرا خط لکھا تھا۔
فرماتے ہیں:
’’ آج کل ہم یہ خبریں سن رہے ہیں کہ آپ ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں باوجود اس کے کہ عالمی جنگ کے مہلک نتائج آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں پچھلی عالمی جنگ میں جہاں کروڑوں دیگر لوگ لقمہ اجل بنے تھے وہاں لاکھوں یہودی بھی کام آئے تھے۔ اپنے ملک کاوزیر اعظم ہونے کے ناطے آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی قوم کی جانوں کی حفاظت کریں۔ دنیا کے موجودہ حالات صاف بتارہے ہیں کہ اب اگلی عالمی جنگ محض دو ممالک کی لڑائی نہیں ہوگی بلکہ ملکوں کے بلاک بن کر سامنے آئیں گے۔ عالمی جنگ چھڑنے کاخطرہ نہایت سنجیدگی سے سامنے آرہا ہے جس سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہود سب کی جانوں کو خطرہ ہے۔ خدانخواستہ اگر ایسی جنگ بھڑکی تو یہ انسانی تباہی کا ایک جاری سلسلہ ہوگا جس کا شکار آنے والی نسلیں ہوں گی جو اپاہج یا معذور پیدا ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلی جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ دنیا کو جنگ کے دہانہ پر پہنچانے کی بجائے اپنی انتہائی ممکنہ کوشش کریں کہ انسانیت عالمی تباہی سے محفوظ رہے۔ باہمی تنازعات کو طاقت کے استعمال سے حل کرنے کی بجائے گفت و شنید اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو تابناک مستقبل مہیا کرسکیں نہ یہ کہ ہم انہیں معذوریوں کا تحفہ دینے والے ہوں۔‘‘ (حضور اقدس کے انگریزی خط کا اردو ترجمہ بحوالہ ’’ عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ صفحہ 160)
اسی طرح حضور انور نے انہی دنوں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کو بھی خط لکھا تھا جس کے کچھ حصّے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں:
’’ امنِ عالم کو درپیش حالیہ خطرات نے مجھے مجبور کیا کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں آپ ایران کے سربراہ کی حیثیت سے ایسے فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے ہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ آج ہر طرف اضطراب اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے یعنی دنیا کے کچھ خطوں میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں شروع ہوچکی ہیں جبکہ بعض اور علاقوں میں عالمی طاقتیں قیام امن کے بہانے سے مداخلت کررہی ہیں۔ آج دنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے یا کسی دوسرے ملک کاحمایتی بنا ہوا ہے لیکن انصاف کے بُنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں۔ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک اور عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔
سب جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے دوسروں کے لئے بغض، کینہ اور دشمنیاں پال رکھی ہیں جو اپنے عروج پر ہیں۔ اس مشکل صورتِ حال میں ہمیں تیسری عالمی جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی یہ فراوانی ہمیں صاف بتا رہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ ایک ایٹمی جنگ ہوگی۔ جس کی وجہ سے وسیع پیمانہ پر تباہی کے علاوہ ایسی جنگوں کا تلخ نتیجہ آئندہ نسلوں کےاپاہج یا معذور پیدا ہونے کی شکل میں نکلے گا۔
میرا ایمان ہے کہ امن کے سفیر اور رحمۃ للعالمین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کے ناطہ سے ہمیں کبھی بھی برداشت نہیں ہوگا اور نہ ہم برداشت کرسکتے ہیں کہ دنیا میں ایسی تباہی واقع ہو۔ لہٰذا ایران سے میری درخواست ہے کہ وہ اپنی عالمی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
مَیں مانتا ہوں کہ اسرائیل اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور اسکی نگاہیں ایران پر ہیں۔ درحقیقت کوئی بھی ملک اگر آپ پر جارحانہ حملہ کرے آپ کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے تاہم جس حد تک ممکن ہو تصفیہ طلب اُمور کے لئے افہام و تفہیم اور مذاکرات کی راہ اپنانے میں ہی عافیت ہے۔ میری آپ سے عاجزانہ استدعا ہے کہ اختلافی اُمور حل کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
مَیں خداتعالیٰ کی اس برگزیدہ ہستی کا پیروکار ہونے کی حیثیت سے آپ سے درخواست گزار ہوں کہ جو اس زمانہ میں حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی غلام کے طور پر مامور ہوا اور وہ مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے آپ علیہ السلام کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانیت کو خالق حقیقی سے ملایا جائے اور آپ کے آقا و مطاع رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر لوگوں میں عدل و انصاف قائم کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ مسلم اُمت کو یہ حسین تعلیم سمجھنے کی توفیق نصیب کرے۔ (عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 169-167)
حضور انور نے 08؍ مارچ 2012ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کو جو خط لکھا اس کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں۔ آپ نے تحریر فرمایا:
’’ دنیا میں بڑھتے ہوئے پریشان کن حالات کے پیش نظر مَیں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو یہ خط لکھوں کیونکہ آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہیں اور یہ ایسا ملک ہے جو سب سے بڑی عالمی طاقت ہے۔ اسی بناء پر آپ کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار ہے جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں.....
میری آپ سے بلکہ تمام عالمی قائدین و عمائدین سے یہ درخواست ہے کہ دوسری اقوام کی راہنمائی کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارت کاری، سیاسی بصیرت اور دانش مندی کو بروئے کار لائیں بڑی عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ کو دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور چھوٹے ممالک کی غلطیوں کو بہانہ بنا کر دنیا کا نظم و نسق برباد نہیں کرنا چاہئے ....
میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ دنیا کی بڑی اور چھوٹی طاقتوں کو تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑکانے سے باز رکھنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں وقف کردیں۔ اگر ہم قیام امن کی کوششوں میں ناکام رہے تو یقیناً یہ جنگ ایشیا اور یوروپ کے صرف غریب ممالک تک محدود نہیں رہے گی نیز ہماری آئندہ نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی۔ جب ایٹمی جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں اپاہج یا معذور بچے جنم لیں گے تو آنے والی نسلیں اس قدر شدید عالمی تباہی کا باعث بننے والے اپنے آباء و اجداد کو کبھی معاف نہیں کریں گی ..... اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔‘‘ (عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 177-175)
ان ایام میں ضروری ہے کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات و خطوط کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے تا کہ دنیا امن و سلامتی کے شہزادے کے خلیفہ کی مبارک آواز پر کان دھرے۔ حضور اقدس ہر جمعہ میں دعا کی تحریک فرما رہے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم احمدی باقاعدگی سے دعائیں کریں اورذکر الٰہی کی طرف توجہ دیں تا کہ دنیا سے خوف اور بدامنی کا ماحول دور ہو اور صلح و سلامتی کی خوشگوار ہوائیں چلنی شروع ہوجائیں۔
ززز