آنحضرت ﷺ نے سورۃ الجمعہ کی آیت و آخرین منھم لما یلحقوبہم کی آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے امت کے شیرازے کے بکھر جانے اور ایمان کے ثریا پر چلے جانے کے بعد ابنائے فارس کے ذریعہ اسکے پھر سے متحد ہونے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ایک مقام پر فرمایاہےکہ امت میں نبوت کے بعد خلافت جاری ہوگی اور پھر بادشاہت کے ذریعہ اختلاف وانشقاق اور قتل و غارت کا دور شروع ہوگا بالآخر پھر نبوت کی منہاج پر خلافت قائم ہوگی۔
(مشکوٰۃ باب الانذاءوالتحذیر)
سورۃ الجمعہ کی آیت قرآنی اور مذکورہ حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ایمان دنیا سے اٹھ کر ثریا ستارہ پر چلا جائے گا اور مسلمانوں کیلئے وہ دن بہت سخت ہوں گے۔ دجال اور یاجوج ماجوج کا ظہور ہوگا۔ مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہوں گے۔مسلمان آپسی پھوٹ سے کمزور ہو جائیں گے۔ اور سب قومیں اسلام کو دبانے کی فکر میں ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ نے ایسے وقت میں اسلام کو بچانے کیلئے تلوار کو ذریعہ عافیت نہیں بتایا بلکہ فرمایا کہ امام مہدی و مسیح موعود کا نزول ہوگا اور وہ تیر و تلوار کے بغیر اسلام کے عظیم الشان روحانی دلائل کی تلوار سے اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔آنحضرتﷺ نے مسیح موعود کے ظہور کی خبر دیتے ہوئے فرمایا تھا ’’ویضع الحرب‘‘(بخاری) کہ مسیح موعود آئے گا وہ جنگوں کو موقوف کر دیگا۔
آنحضرت ﷺ کی مذکورہ پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح و مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔آپ نے فرمایا:
’’دین اسلام کا غلبہ حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے جو اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے گو اسکی زندگی میں یا بعد وفات ‘‘
(براہین احمدیہ صفحہ 498تا 499حاشیہ در حاشیہ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوئم تفسیر سورۃ الفتح زیر آیت ھو الذی ارسل رسولہ با لھدی۔۔۔)
اور اس غلبہ کیلئے آپ نے رسالہ الوصیت میں جو آپ نے 1905ء میں تحریر فرمائی تھی آپکی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت احمدیہ کو ایک عظیم الشان ذریعہ بتایا ہے فرمایا ہے:
’’تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا ۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن جب میں جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہےبلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیںقیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا ۔سو ضرور ی ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کےوہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایاہے اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی ہے ۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اوروجود ہوں گے جودوسری قدرت کا مظہر ہوں گے ۔‘‘ (الوصیت صفحہ 8)
نیز فرمایا:وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دیگا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد ۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے… لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کرجو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کاموقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتاہے۔
(الوصیت صفحہ8 )
اس غلبہ کی آپ نے ایک مدت بھی مقرر فرمائی ہے آپ فرماتے ہیں:
’’ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑدیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔ مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67)
اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 27 نئی 1908ء کو جماعت احمدیہ میں خلافت احمدیہ قائم فرمائی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ کے طور پر حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسیح الاول مسند خلافت پر متمکن ہوئے آپ کے خلافت پر متمکن ہوتے ہی غلبہ اسلام کی بشارات تواتر کے ساتھ ظاہر ہونی شروع ہو گئیں ۔ آپ کے ذریعہ جماعت پھر قومی وحدت کی لڑی میں پروئی گئی اور خلافت جو کہ قومی وحدت اور جماعت کی آئندہ ترقی کی ضامن تھی اُس کی مضبوطی اور اسلام کے استحکام کی خاطرآپ اپنوں اور پرایوں کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئی۔
حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ خلافت کا قیام اور خلافت کی مضبوطی ہی دراصل جماعت احمدیہ کے قیام اور اسکی مضبوطی بلکہ اسلام کی مضبوطی اور اسکے غلبہ کی ضامن ہے اور اسکے ذریعہ جماعت کے افراد کی تربیت اور تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا جا سکتا ہے ۔
الحمد للہ کہ آج جبکہ خلافت کے قیام کو 118 سال ہو چکے ہیں ۔ جماعت کے افراد نے اور غیروں نے یہ اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ یہ جلد جلد ترقی اور اس مختصر عرصہ میں اس قدر نشونما در اصل یہ صرف اور صرف خلافت علیٰ منہاج نبوت کی مرہون منت ہے اور وہ لوگ جنہوں نے خلافت کے قیام کے وقت اسکا انکار کر دیا تھا اور اسکی مخالفت کے در پہ ہو گئے تھے آج ان کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا غلبہ اسلام کا وعدہ تو کیا پورا ہونا ہے آج ان کو اپنی قومی زندگی بھی بچانا مشکل ہو گیا ہے ۔
دوسری طرف جماعت احمدیہ خلافت کے زیر سایہ اس وقت دنیا کے دو صد سولہ ملکوں میں پھیل چکی ہے۔ جماعت کے واعظین جن کا بیج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بکھیرا گیا تھا خلافت احمدیہ کے ادوار میں اب ایشیا ،یورپ افریقہ امریکہ اور دیگر جزائر میں پھیل کر آنحضرت ﷺ کا چشمۂ شیریں پیاسی روحوں کو پلارہے ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیم کا وہ درس جس کی ابتداء حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ذریعہ قادیان کی مسجد اقصیٰ سے ہوئی تھی۔ آج ایم ٹی اے کی بدولت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور پوری دنیا قرآن کریم کے تراجم سے فیضیاب ہو رہی ہے۔ قرآن مجید کے تراجم جو اب دنیا کی 70 سے زائد زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں اہل دنیا ان سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
مدرسہ احمدیہ جس کی بنیاد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1906ء میں رکھی تھی آج خلافت احمدیہ کے دور میں جامعہ احمدیہ کے نام سے اس کی شاخیں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں اور ہزارون مبلغین اسلام دن رات اسلام کی زندگی بخش تعلیمات پوری دنیا میں پھیلانے میں مصروف ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب روحانی خزائن اور خلفائے احمدیہ کے علمی خزانے اور دیگر جماعتی لٹریچر کی اشاعت کا آغاز بھی خلافت احمدیہ کے زمانہ مبارک میں تیزی سے پھیل گیا اور یہ کتب دنیا کی مختلف زبانوں میںبھی شائع ہوئیں۔نہ صرف یہ کتب شائع ہوئیں بلکہ قادیان سے نکلنے والے اخبار ات کی طرز پر دنیا بھر سے جماعتی اخبارات اور رسائل کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس وقت دنیا کے کئی ممالک سے کئی زبانوں میں جماعتی اخبارات اور رسائل نکل رہے ہیں ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو’’ وسع مکانک‘‘ الہام ہوا اور پھر اللہ کے گھروں اور اس کے غریب بندوں کے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا ۔ دنیا بھر میں اب تک ہزار ہا مساجد تعمیر ہو چکی ہیںاور غرباء کے سینکڑوںگھر تعمیر ہو چکے ہیں۔
علاوہ اسکے خلافت احمدیہ کے ذریعہ دکھی انسانوں کیلئے ہسپتالوں کی تعمیر اور غریب بچوں کی تعلیم کیلئے اسکولوں کا اجراء یہ بھی خلافت احمدیہ کے شیریں پھلوں میں سےہے اوراب توہیومنیٹی فرسٹ کے ادارہ کی ذریعہ دنیا بھر میں ضرورت مندوں اور غرباء کی خدمات اور ناگہانی آفات کے وقت امداد کا سلسلہ جاری ہے۔
خلافت احمدیہ ان سب ضروریات کے ساتھ ساتھ جماعت کی روحانی ترقی کیلئے بھی دن رات کوشاں ہے۔ پنجوقتہ نمازوں کی تلقین ذکر الٰہی ،نماز با ترجمہ کی ادائیگی، درس و تدریس کا انتظام دعائیں کرنے کی تحریک یہ سب خلافت کے زیر سایہ جاری ہیںاور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر احمدی کے ساتھ خلیفۂ وقت کا ذاتی تعلق۔
اور بالآخر اُس قومی وحدت کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو کہ خلافت کے زیر سایہ اس وقت صرف جماعت احمدیہ کو حاصل ہےیعنی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ جو ہدایت اور نور کا مینار ہے جس کے ذریعہ جماعت ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں نہ صرف وحدت کی لڑی میں پروئی جاتی ہے بلکہ بھرپور روحانی و جسمانی فوائد حاصل کر رہی ہے۔
آج خلافت احمدیہ اس عالمی وحدت کی طرف تمام دنیا کو بھی بلا رہی ہے اور اہل دنیا کو اختلافات بھلا کر خدائے واحد کی طرف آنے کی تلقین کر رہی ہے اور انکے قلوب میں یہ جاگزین کر رہی ہے کہ خدائے واحد کی طرف لوٹنا اور انسانوں کے درمیان انصاف قائم کرنا ہی امن عالم کا ذریعہ ہے۔ حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دن رات دنیا بھر کے ممالک اور ان کے سربراہان کو اس امن حقیقی کی دعوت دے رہے ہیں خدا کرے کہ خلافت احمدیہ کی یہ زندگی بخش آواز دنیا کے دلوں پر جلد اثر کر جائے کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جو امن اور عافیت کا حصار ہے۔وبا اللہ توفیق