آجکل بعض نام نہاد مسلم دانشوروں کی جانب سے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ امام مہدی اور مسیح موعود کی آمد جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے صرف ایک افسانہ ہے۔ اور اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ امام مہدی مبعوث ہوں گے۔
ایسے نام نہاد دانشور پہلے مذاہب میں بھی موجود تھے مثلاً عیسائی علماء اور پادریوں نے مسیح کی آمد کے انتظار سے تھک کر اور آنے والے ’’روح الحق‘‘ کو نہ پہچان کر یہ کہنا شروع کردیا کہ اب مسیح کی آمد کا انتظار بےسود ہے۔ اب کوئی مسیح نہیں آئے گا کلیسا ہی مسیح کا قائم مقام ہے۔ یہی بات اب مسلم علماء نے بھی آنے والے مسیح کو نہ پہچان کر اور یہ دیکھ کر کہ وہ ان کی اُمیدوں کے مطابق نہیں آیا یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مسیح موعود کے متعلق اور ان کی آمد سے متعلق خیال صرف ایک افسانہ ہے۔
اور پیچھے چلے جائیں تو یہودی بھی مسیح کا انتظار کررہے ہیں بقول ان کے مسیح آئے گا تو پھر سے داؤد کی سلطنت کوقائم کرے گا۔ لیکن بقول ان کے مسیح کی آمد سے قبل ایلیا نبی جو بگولے پر بیٹھ کر آسمان پر چلا گیا تھا۔ (سلاطین نمبر 2 باب 2) آسمان سے نازل ہوگا۔ پھر اس کے بعد ہی مسیح آئے گا او راس لئے وہ آج تک مسیح ناصری کو موعود مسیح نہیں مان رہے۔ حالانکہ وہ مسیح پہلے مسیح ناصری کی شکل میں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اور اب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے رنگ میں ظاہر ہوچکا ہے اور جس کے ذریعہ آج پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا کام پورے زور سے جاری ہے لیکن چونکہ علماء ظواھر کے خیالات کے مطابق وہ مسیح موعود نہیں آیا اس لئے اب تک یہودی بھی اس کے منکر ہیں، عیسائی بھی اس کے منکر ہیں اور مسلمان علماء بھی آنے والے کے منکر ہیں ۔ اور بعد از انتظار بسیار و مایوسی ان کے نزدیک گزشتہ انبیاء اور صحف میں مسیح موعود کی آمد کے متعلق جو پیشگوئیاں موجود ہیں وہ سب نعوذ باللہ افسانہ ہے۔
قرآن مجید نے اس حوالہ سے عمومی طور پر ایک اصولی راہنمائی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے بعد میں آنے والے نبی پر ایمان لانے، اس کی تصدیق کرنے اور اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی تاکیدی نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 82میں جو آیت میثاق النبیین کے نام سے مشہور ہے فرمان الٰہی ہے کہ:
’’جب اللہ نے نبیوں سے میثاق یعنی پختہ عہد لیا کہ اگر کوئی ایسا رسول تمہارے پاس آئے جو اس بات کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔ ‘‘
اسی طرح سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 8 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لیا گیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’جب ہم نے نبیوں سے ان کا میثاق (پختہ عہد) لیا اور تجھ سے بھی اورنوح سے بھی اور ابراہیم سے بھی اور موسٰی سے بھی اورعیسیٰ سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا تھا۔ ‘‘
مذکورہ آیت قرآنی میں سب نبیوں کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پختہ عہد لیا گیا کہ آپ کے بعد جو نبی آئے گا اپنی قوم کو تاکید کرجائیں کہ وہ اس پر ایمان لائے گی۔
اب وہ کونسا مامور ہے جس پر ایمان لانے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے۔ آپ کا فرمان ہے:
يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا، وَحَكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا" .
(مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9323)
ایسی احادیث مسند احمد کے علاوہ بخاری، مسلم اور دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہیں۔ صحیح مسلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی و مسیح موعود کو چار مرتبہ ’’ نبی اللہ‘‘ کے لقب سے نوازا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی جڑقرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی۔ جب آپ نے اس کی آیت ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْ بِھِمْ‘‘ پڑھی جس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی ان صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے تو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے حضور ؐ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اس آدمی نے تین دفعہ یہی سوال دہرایا۔ راوی کہتے ہیں حضرت سلمان فارسی ؓ ہم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اُٹھ گیا تو ان لوگوں میں سے ایک مرد یا کچھ مرد اس کو واپس لے آئیں گے۔
پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے بعد آنے والے مامور کی خبر بھی دے دی اور اس پر ایمان لانے کا تاکیدی ارشاد بھی صادر فرمادیا۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ وہ فرمان جو احادیث اور قرآن مجید سے ثابت ہے صرف ایک افسانہ ہے تو پھر ایسے لوگوں کو اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی سینکڑوں سالوں سے صرف یہود و نصاریٰ کی کتب میں ہی تواتر کے ساتھ موجود نہیں بلکہ قرآن مجید میں اور پھر احادیث میں بھی درج ہے۔ اور بزرگان اُمت گزشتہ چودہ سو سال میں اس کو تواتر کے ساتھ اپنی کتب میں درج کرتے چلے آئے ہیں بلکہ تیرھویں صدی کے بزرگ علماء کی کتب امام مہدی کے انتظار سے بھری پڑی ہیں اور ان میں سے بعض نے تو الہام الٰہی کی روشنی میں بتایا کہ امام مہدی کا زمانہ اب قریب آگیا ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ؒ نے فرمایا:
’’عَلَّمَنِی رَبِّی جَلَّ جَلَالُہٗ ان القیامۃ قد اقتربت والمھدی تھیّا للخروج ‘‘ (تفہیمات الٰہیہ جلد 2 صفحہ 123)
یعنی میرے بڑی عظمت والے رب نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور مہدی ظاہر ہونے کو تیار ہے۔
پس مسلم علماء کو سوچنا چاہئے کہ نہ کبھی پہلی اُمتوں کا مسیح موعود اس دور کے علماء کی ظاہری تعبیروں اورخواہشوں کے مطابق آیا اور نہ اب آئے گا۔ ہر دو کے ظاہر پرست علماء کو یہی چیز انکار پر اکساتی رہی ہے کہ آنے والا ان کے اپنے قائم کردہ پیمانوں کے مطابق نہیں آیا۔ چنانچہ یہودی علماء آج تک انتظار کررہے ہیں کہ جب تک ایلیا جو بگولے میں بیٹھ کر آسمان پر چلا گیا تھا وہی آسمان سے نہیں آتا ہم یسوع پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اس بناء پر وہ آج تک عیسیٰ علیہ السلام کے انکاری ہیں اور ظاہر پرست مسلم علماء حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر اس لئے ایمان نہیں لارہے کہ بقول ان کے عیسیٰ علیہ السلام جو آسمان پر بیٹھے ہیں وہی تشریف لائیں گے۔ وہ دمشق کے مینار پر فرشتوں کے کاندھوں پر پیلے کپڑے پہنے ہوئے دونوں ہاتھ رکھ کر اُتریں گے تو وہ تب ان پر ایمان لائیں گے۔ اور اس بیچ میں اب ایسے علماء بھی پیدا ہورہے ہیں کہ جو ان عظیم پیش خبریوں کو جن سے مسلم اُمہ کی قسمت وابستہ ہے پیچھا چھڑانے کیلئے افسانہ قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ آنے والا سچا مامور آبھی گیا۔ اب ضرورت ہے اس کی صداقت کو پرکھنے کی۔ ان پیشگوئیوں پر غور کرنے کی جو ان کی آمد کے متعلق بطور نشانی قدیم صحائف میں درج ہیں۔ چنانچہ اس موقعہ پر صرف دو نشانوں کا ذکر کرکے اور دعوت فکر دے کر اس گفتگو کو ختم کیا جاتا ہے۔
قدیم صحائف، قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہے کہ سچے امام مہدی و مسیح موعود کے زمانے کی ایک نشانی یہ ہوگی جب وہ مبعوث ہوگا اوردعویٰ کرے گا تو اس کے زمانہ میں رمضان میں چاند کو اس کے گرہن لگنے کی تاریخوں میں سے پہلی رات کو اور سورج کو اس کے گرہن لگنے کے دنوں میں درمیانی دن میں گرہن لگے گا۔
چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام جب مبعوث ہوئے اور آپ نے دعویٰ مسیحیت و مہدویت فرمایا تو آپ کے زمانہ میں یہ گرہن 1894ء میں لگ چکا ہے جس کی طاقت حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو نہ تھی کہ وہ اپنی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے یہ گرہن لگواسکتے۔
دوسرا نشان جو پُرانے صحائف میں لکھا تھا وہ یہ ہے کہ جب امام مہدی و مسیح موعود آئیں گے تو ان کے زمانہ میں طاعون پھوٹے گی۔ چنانچہ یہ طاعُون بھی آپ کے زمانے میں پھوٹی جس کو آپ نے اپنی صداقت کا نشان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا مجھ کو اور میری چار دیواری کے اندر رہنے والے سب لوگوں کو بچائے گا۔ الحمد للہ کہ یہ نشان بھی روز روشن کی طرح پورا ہو چکا ہے کہ آپ کے دور میں آپ کے کئی مخالفین اورمعاندین تو طاعون کی بیماری سے ہلاک ہوئے اور خدا نے آپ کو محفوظ رکھا۔
اب جبکہ ایک شخص آیا اور اس نے امام مہدی و مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے زمانہ میں وہ نشانیاں من و عن پوری ہوگئیں جو اس کی آمد سے متعلق تھیں تو پھر یہ کسقدر نادانی ہے کہ ہم خُدا کا شکر کرنے کی بجائے اور اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی نشانی سمجھنے کی بجائے اُسے صرف ایک افسانہ قرار دیں۔ اُٹھو اور جاگو اور دیکھو کہ یہ افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک ایمان افروز حقیقت ہے!
بالآخر ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آجکل نام نہاد مسلم دانشوروں میں یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ اسلام کے جس حکم یا واقعہ کی حقیقت انہیں سمجھ نہیں آئی اُسے افسانہ قرار دے کر اُسے جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف امام مہدی کی بابت ہی نہیں بلکہ غارِ حراء جہاں پر آنحضرتﷺ کی پہلی وحی نازل ہوئی ،کے واقعہ کو اور جنت و دوزخ کے حوالہ سے بعض قرآنی حقائق و معارف کو اپنی عقلوں کے ترازو پر تول کر جب یہ اُنہیں اپنے معیاروں پر پورا اترتا ہوا نہیں دیکھتے تو اُنہیں افسانہ قرار دیتے ہیں۔ اسی لئے تو خدا نے اس دور میں اسلام کی حقیقت کو سمجھانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کامل سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی امام مہدی و مسیح موعود کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں اور الہام الٰہی کی مدد سے ان سب مسائل کے ایسے حل پیش فرمائے ہیں کہ غیر بھی آپ کے پیش کردہ معارف ربانی سے دنیا بھر میں فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
لہٰذا اپنی محدود عقلوں پر انحصار چھوڑواور اس وجود باجود کی پیروی کرو اور اس کے علم کلام کی طرف لوٹو جسے آج اللہ تعالیٰ نےاسلام کی صداقت کے اظہار کیلئے مبعوث فرمایا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس تاریکی کے زمانہ کا نور میں ہوں جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گاجو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کیلئے تیار کئے ہیں ۔ مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا میں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو سچے خدا کی طرف رہبری کروں اور اسلام میں اخلاقی طاقتوں کو دوبارہ قائم کروں اور مجھے اس نے حق کے طالبوں کی تسلی پانے کیلئے آسمانی نشان بھی عطا فرمائے ہیںاور میری تائید میں اپنے عجیب کام دکھلائے ہیں اور غیب کی باتیں آئندہ کے بھید جو خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں کی رد سے صادق کی شناخت کیلئے دراصل معیار ہیں میرے پر کھولے ہیں اور پاک معارف اور علوم مجھے عطا کئے ہیں اس لئے ان روحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں مگر میں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں ۔ ‘‘
(روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 13،مسیح ہندوستان میں)