یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ ایک بار پھر رمضان کا مبارک مہینہ ہماری زندگی میںوارد ہونے والا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں رمضان المبارک کی بے انتہا فضیلتیں اور برکتیں بیان ہوئی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر لوگوں کو اس کا علم ہوجائے کہ رمضان المبارک میں کیا کیا برکتیں ہیں تو وہ خواہش کریں کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔ اور قرآن مجید میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اگر قدر کی رات کسی کو نصیب ہوجائے تو وہ ایک رات ہزار مہینوں کی عبادت و ریاضت سے بھی زیادہ بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اس ماہِ مبارک کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں روزے کی غرض و غایت اور اس کا مقصد تقویٰ کا حصول بتایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر (بھی) روزوں کا رکھنا (اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
صرف قرآن مجید کی یہ خوبی ہے کہ جب وہ کوئی حکم دیتا ہے تو اس کا فلسفہ اور اس کی حکمت بھی بتاتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے روزوں کی حکمت اور اس کی غرض و غایت جو بتائی ہے وہ تقویٰ ہے۔ اور تقویٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :
ہر اِک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے …٭… اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ۰ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۳۰(سورۃ الانفال آیت30)
اَے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تُم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو وہ تمہارے لئے ایک امتیازی نشان بنادے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دُور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔
اور فرمایا : اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ۱۲۸ۧ(النحل آیت 129)
ترجمہ:: یقیناً اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے ہوتے ہیں۔
پس چونکہ تمام نیکی کی جڑ تقویٰ ہے، اور روزے کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار مختلف انداز میں روزہ رکھنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ کہ رمضان کے روزے تم پر فرض کئے گئے ہیں۔پس چوائس اور اختیار نہیں ہے کہ چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔ جس طرح نماز فرض ہے اُسی طرح روزہ بھی فرض ہے، اگر کوئی بغیر جائز عذر کے روزہ نہیں رکھے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔پھر آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کہ کاش تم سمجھ سکتے کہ روزے رکھنا تمہارے لئے یقیناً بہتر اور فائدے کا موجب ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ روزے کے فوائد عظیم الشان ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ کاش لوگ اس کی اہمیت اور برکات اور اس کے فوائد کو سمجھ سکیں اور روزہ رکھیں۔ پھر آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۰ۭیہاں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ جو شخص صحت و تندرستی کی حالت میں اس ماہ کو پائے اس کو چاہئے کہ وہ اسکے روزے رکھے۔پس روزوں کے عظیم الشان فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ جل شانہ نےمختلف انداز میں اور مختلف پیرائے میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ روزوں کے فوائد عظیم الشان ہیں اور روزہ رکھنا ہمارے لئے بہتر ہے۔
روزہ دراصل حصولِ تقویٰ اور لقاءِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں تمام عبادتیں جمع ہوگئی ہیں۔ اگر ایک انسان روزوں میں اُن ہدایات اور احکامات کو ملحوظ رکھے گا جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں تو یقیناً وہ تقویٰ کو حاصل کرنے والا ہوگا اور تقویٰ میں ترقی کرنے والا ہوگااور اس کے نتیجہ میں اُسے اللہ تعالیٰ کی لقاء نصیب ہوگی۔
(1) ایک روزہ دار نماز باجماعت کا التزام کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بغیر روزوں کے نتائج اعلیٰ نہیں نکل سکتے۔
(2) ایک روزہ دار نہ صرف نماز باجماعت ادا کرتا ہے بلکہ رمضان المبارک میں نماز تہجد کا بھی اہتمام کرتا ہے۔
(3) پھر تلاوت قرآن کریم کا بھی خاص اہتمام کرتا ہے۔ اور ایک دَور قرآن کریم کا ضرور کرتا ہے۔
(4) پھر نماز تراویح کی بھی توفیق ملتی ہے۔ اور اس میں بھی مکمل قرآن کریم سننے کا موقع ملتا ہے۔
(5) پورے رمضان میں روزہ دار کو دعاؤں کی بھی خاص توفیق ملتی ہے کیونکہ رمضان المبارک کا دعاؤں سے بہت گہرا تعلق ہے۔
(6) اس ماہِ مبارک میں اعتکاف کی عبادت بھی ہےجو فرائض اور نوافل اور تلاوت قرآن کریم اور دعاؤں کے عروج کا عشرہ ہے۔ پھر لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو قیام کرنا اعتکاف کی عبادت کو اور حسین بنادیتا ہے۔
(7) پھر ایک روزہ دار کثرت سےاس ماہِ مبارک میں صدقہ و خیرات کرتا ہے اور غرباء کا خیال رکھتا ہے۔
(8) ایک روزہ دار جہاں اِن تمام عبادات کو بجالاتا ہے وہاں وہ اُن باتوں سے بچتا بھی ہے جن سے بچنے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے۔ مثلاً آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے : مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّورِوَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔(بخاری، کتاب الصوم) پس ایک روزہ دار اس ماہِ مبارک میں جھوٹ، لڑائی جھگڑا، دھوکہ فریب، غرضیکہ ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پس روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ہر قسم کی عبادات جمع کردی گئی ہیں اورہر قسم کی برائیوں سے اس میں بچنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول بتایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روزوں کے نتیجہ میں کشف و الہام کا دروازہ بھی کھلتا ہے اور اس کا سب سے بڑا انعام لقاءِ الٰہی ہے۔ حدیث میںہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اَلصَّوْمُ لِي وَاَنَا اَجْزِي بِهٖ يَدَعُ شَهْوَتَهٗ وَأَكْلَهٗ وَشُرْبَهٗ مِنْ اَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِيْنَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقٰى رَبَّهٗ ، وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِّيحِ الْمِسْكِ " ( بخاری، حدیث نمبر 7492)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اُسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ اِفطار کرتا ہے اور ایک خوشی اُس وقت ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“
روزہ کے نتیجہ میں اللہ کی ملاقات اسی دُنیا میں نصیب ہوتی ہے، یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مرنے کے بعد ملاقات ہوگی کیونکہ بموجب آیت مَنْ كَانَ فِيْ ہٰذِہٖٓ اَعْمٰى فَہُوَفِي الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰى جو اس دنیا میں ملاقات سے بے نصیب رہا وہ آخرت میں بھی بے نصیب رہے گااور جو آخرت میںبے نصیب نہیں رہے گا اسے اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی لقا نصیب ہوگی۔سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ روزہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور اسکی لقاء کے حصول کے متعلق فرماتے ہیں :
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ میں روزوں کا ایک اَور فائدہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تقویٰ پر ثباتِ قدم حاصل ہوتا ہے اور انسان کو روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ روزوں کے نتیجہ میں صرف امراء ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتے بلکہ غرباء بھی اپنے اندر ایک نیا روحانی انقلاب محسوس کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے وصال سے لطف انداوز ہوتے ہیں ۔غرباء بیچارے سارا سال تنگی سے گذارہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں کئی کئی فاقے بھی آجاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور خداتعالیٰ کیلئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْرٰی بِہٖ۔ یعنی ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں لیکن روزہ کی جزاء خود میری ذات ہے اور خداتعالیٰ کے ملنے کے بعد انسان کو اور کیا چاہئے۔ غرض روزوں کے ذریعہ غربا کو یہ نکتہ بتایا گیا ہے کہ ان تنگیوں پر بھی اگر وہ بے صبر اور ناشکر ے نہ ہوں اور حرف شکایت زبان پر نہ لائیں … تو یہی فاقے ان کیلئے نیکیاں بن جائیں گی اور ان کا بدلہ خود خدا تعالیٰ ہو جائیگا… اللہ تعالیٰ نے روزہ میںا نہیں یہ گر بتایا ہے کہ اگر وہ اس فقروفاقہ کی زندگی کوخدا تعالیٰ کی رضاء کے مطاق گذاریں تو یہی انہیں خداتعالیٰ سے ملا سکتی ہے۔ (تفسیر کبیر، جلد 2، صفحہ 377)
فرمایا : روزہ کا ایک روحانی فائدہ یہ ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے اعلیٰ درجہ کا اتصال ہو جاتا ہے اور خداتعالیٰ خود اس کا محافظ بن جاتا ہے۔ (ایضاً، صفحہ 379)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ سے ماہِ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے صوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کیلئے عمدہ مہینہ ہے کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مُراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہوجائے اور تجلی قلب سے مُراد یہ ہے کہ کشف کادروازہ اُس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔ (ملفوظات، جلد 2، صفحہ 561)
مندرجہ بالا احادیث و ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی لقاء نصیب ہوتی ہے اور کشف و الہام کا دروازہ کھلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہِ مبارک سے ہمیں کما حقہٗ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ (منصور احمد مسرور) …٭…٭…٭…