اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-01-22

انسان نیکیاں کرے مگر اس کے ساتھ خدا تعالیٰ سے بھی ڈرتا رہے

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهَا اَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ (سورة المؤمنون:۶۲) يَا رَسُولَ اللّٰهِ هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ يَخَافُ اللّٰهَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ اَبِي بَكْرٍ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يَخَافُ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ۔
(ماخوذ از مسند احمد بن حنبل جلد 8صفحہ 296-297)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا وَالَّذِیْنَ یُؤْتُونَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ (المومنون: 62) کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان چوری کرے، زنا کرے اور شراب پئے اور وہ خدا سے ڈرے بھی ۔ فرمایا اے ابوبکر کی بیٹی اے صدیق کی بیٹی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو نماز پڑھتا ہے روزہ رکھتا ہے اورصدقہ دیتا ہے اور وہ اللہ عزّوجل سے ڈرتا بھی ہے۔