قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَةَ وَیُفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبِلَہٗ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَیْرًا مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا۔(صحیح بخاری پارہ ۱۳ کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم)ترجمہ:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ ابنِ مریم تم میں نازل ہوں عادل حاکم ہوکر۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر یعنی سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور مال اس بہتات سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ ان کے زمانہ میں ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یُوْشِکُ مَنْ عَاشَ مِنْکُمْ اَنْ یَّلْقٰی عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اِمَامًا مَّھْدِیًّا وَحَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَةَ وَتَضَعُ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۴۱۱)ترجمہ:- حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو اس وقت زندہ ہوا وہ عیسیٰ بن مریم کو پائے گا جو امام مہدی ہوں گے اور حکمِ عدل ہوں گے (یعنی امت کے فرقوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرنے والے ہوں گے) اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے (اور ان کے زمانہ میں) لڑائی اپنے اوزار رکھ دے گی یعنی مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ قَالَ قُلْتُ مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ فَلَمْ یُرَاجِعْہُ حَتّٰی سَأَلَ ثَلٰثًا وَفِیْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ وَضَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہٗ عَلٰی سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رِجَالٌ اَوْ رَجُلٌ مِّنْ ھٰؤُلَآءِ۔ (بخاری کتاب التفسیر باب الجمعہ)ترجمہ:- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؐپر سورۃ الجمعہ کی آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ نازل ہوئی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! وہ کون لوگ ہیں جب آپؐنے جواب مرحمت نہیں فرمایا تو میں نے تین مرتبہ دریافت کیا اور حضرت سلمان فارسیؓبھی ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمانؓپر رکھ کر فرمایا، اگر ایمان ثریا کے قریب بھی ہوجائے گا (اپنی دوری کے اعتبار سے) تو ان میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی اسے وہاں سے لے آئے گا۔