اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-04-09

صحابہ کرام ؓ کا لامثال وقفِ زندگی

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ یَقُوْلُ لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَاْلَ لِیْ یَا جَابِرُ مَا لِیْ اَرَاکَ مُنْکَسِرًا قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ اُسْتُشْھِدَ اَبِیْ وَتَرَکَ عِیَالًا وَدَیْنًا قَالَ اَلَا اُبَشِّرُکَ بِمَا لَقِیَ اللہُ بِہٖ اَبَاکَ قَالَ بَلٰی یَارَسُوْلَ اللہِ قَالَ مَا کَلَّمَ اللہُ اَحَدًا قَطُّ اِلَّا مِنْ وَّرَآءِ حِجَابِۃٍ وَاَحْیٰ اَبَاکَ فَکَلَّمَہٗ کَفَاحًا وَقَالَ یَا عَبْدِیْ تَمَنَّ عَلَیَّ اُعْطِیْکَ قَالَ یَارَبِّ تُحْیِیْنِیْ فَاُقْتَلَ فِیْکَ ثَانِیَۃً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِنَّہٗ قَدْ سَبَقَ مِنِّیْ اَنَّھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ قَالَ وَاُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتًا اَلْاٰیَہْ۔ (ترمذی جلد دوم کتاب التفسیر)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ میرے والد کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ تم شکستہ خاطر بیٹھے ہو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے والد کی شہادت ہوگئی ہے اور انہوں نے اپنے پیچھے عیال اور قرض چھوڑا ہے۔ فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دُوں کہ کس رنگ میں اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی۔ عرض کیا جی حضور ! فرمایا کہ اللہ نے کسی سے بھی نہیں کلام کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور زندہ کیا تمہارے والد کو پھر ان سے آمنے سامنے کلام کیا اور فرمایا اے میرے بندے آرزو کر مُجھ سے کسی چیز کی مَیں تجھے دوں گا۔ انہوں نے عرض کیا اے میرے رب مُجھے دوبارہ زندہ کردے کہ میں پھر تیری راہ میں شہید کیا جاؤں۔ اللہ نے فرمایا کہ میرا قانون ہے کہ جو لوگ وفات پاجائیں گے پھر دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے۔‘‘