عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ اَبَا رَافِعٍ اَخْبَرَہٗ قَالَ : بَعَثَنِیْ قُرَیْشٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ الْاِسْلَامُ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ! اِنِّیْ وَاللہِ ! لَا اَرْجِعُ اِلَیْھِمْ اَبَدًا ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ لَا اَخِیْسُ بِالْعَھْدِ وَلَا اَحْبِسُ الْبُرْدَ وَلٰکِنِ ارْجِعْ ۔ فَاِنْ کَانَ فِیْ نَفْسِکَ الَّذِیْ فی نَفْسِکَ الْاٰنَ فَارْجِعْ قَالَ : فَذَھَبْتُ ثُمَّ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَسْلَمْتُ۔ (ابوداؤد کتاب الجھاد باب فی الامام یستجن بہ فی العھود)
حضرت حسن بن علی بن ابی رافعؓبیان کرتے ہیں کہ انہیں ابورافع نے بتایا کہ قریش نے مجھے سفیر اور ایلچی بناکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ جب میں نے حضوؐر کو دیکھا تو اسلام کی حقانیت میرے دل میں گھر کر گئی ۔ مَیں نے حضور سے عرض کیا ۔یا رسول اللہ ! خدا کی قسم اب میں ان کی طرف واپس کبھی نہیں جاؤں گا ۔
حضوؐر نے فرمایا میں معاہدات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور نہ ہی سفیر کو روکنا صحیح سمجھتا ہوں ۔ بہتر ہے کہ تم واپس چلے جاؤ اور جو کیفیت اس وقت تمہارے دل کی ہے اگر وہی وہاں جاکر بھی رہے تو واپس آجانا ۔ ابورافع کہتے ہیں چنانچہ مَیں قریش کے پاس گیا اور انہیں بات چیت سے مطّلع کیا ۔ اس کے بعد مدینہ واپس آکر اسلام قبول کرلیا۔ (بحوالہ حدیقۃ الصالحین، صفحہ نمبر 606)