حضرت انسؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ سال میں دو دن خوشی مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن مقرر فرمائے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، حدیث: 1134)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یوم النحر(عید الاضحیٰ کے دن) ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب نہیں۔
(سنن ترمذی، کتاب الاضاحی، حدیث: 1493،سنن ابن ماجہ، حدیث: 3126)
حضرت زید بن ارقمؓ روایت کرتے ہیں کہ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔صحابہؓ نے عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، حدیث: 3127)