اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-06-04

اسلام کا عالمگیر پیغامِ مساوات و اخوت

عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَقَالَ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی اَبَلَّغْتُ ؟ قَالُوْا بَلَّغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ۔ ثُمَّ قَالَ : اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا ؟ قَالُوْا : یَوْمُ حَرَامٍ ، قَالَ : اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا ؟ قَالُوْا : شَھْرُ حَرَامٍ ، قَالَ : ثُمَّ اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا ؟ قَالُوْا: بَلَدُ حَرَامٍ ، قَالَ  : فَاِنَّ اللہَ قَدْ حَرَّمَ بَیْنَکُمْ دِمَاءَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ ، قَالَ : وَلَا اَدْرِیْ ،قَالَ اَوْ بَلَدَکُمْ ھٰذَا ۔ اَبَلَّغْتُ ؟ قَالُوْا : بَلَّغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔
(مسند احمدجلد ۵ صفحہ ۴۱۱ مسند احمد جلد ۱ صفحہ ۲۳۰ عن ابن عباسؓ)
ابونضرہؓبیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضور کا وہ خطبہ حجّۃالوداع سُنا جو آپؐنے ایام مِنٰی میں دیا تھا ۔ کہ آپ نے اپنے اس خطبہ میں فرمایا اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے ۔ تمہارا باپ ایک ہے یاد رکھو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سُرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ و سفید رنگ والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت نہیں۔ ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے ۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچادیا لوگوں نے (بلند آواز سے) عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے یہ پیغامِ حق اچھی طرح پہنچادیا پھر آپؐنے فریا یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا (ایّام حج کا) بڑا محترم دن ہے۔ پھر آپؐنے پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ (ذوالحجہ کا) بڑا محترم مہینہ ہے ۔ پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا ۔ یہ (مکّہ کا) بڑا محترم شہر ہے۔ اس پر آپؐنے فرمایا ۔ تمہاری جانیں تمہارے اموال (راوی کو یاد نہیں کہ آپؐنے آبرو کا ذکر بھی فرمایا یا نہیں) اسی طرح قابلِ عزّت اور حُرمت والے ہیں جس طرح یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حُرمت والے ہیں (یعنی جس طرح ان کی بے حُرمتی کا تم خیال بھی نہیں کرسکتے اسی طرح لوگوں کی جانوں اور ان کے مالوں اور ان کی آبرووں کی بے حرمتی بھی ناجائز ہے۔ ) پھر آپؐنے پوچھا۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچادیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے سب کچھ پہنچادیا ہے ۔ آپؐنے فرمایا جو جو موجود ہیں وہ ان تک بھی اس پیغام کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ۔