أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ لَمَّا أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِیْ إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءً۔ قَالَ أَقْضِیْ بِکِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَاِنْ لَمْ تَجِدْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ قَالَ فَاِنْ لَمْ تَجِدْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ أَجْتَھِدُ بِرَائیِ وَلَا اٰلُوْ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ صَدْرَہٗ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہﷺ لِمَا یَرضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ (ابوداؤد کتاب القضاء باب اجتھاد الرائ فی القضاء)
جب نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذبن جبلؓ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو پوچھا کہ جب تمہارے سامنے
کوئی مقدمہ پیش ہوگا تو کیسے فیصلہ کروگے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی کتاب کے مطابق۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو پھر؟ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ کے رسولﷺ کی سُنَّت کے مطابق۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ اگر سنت رسول اللہﷺ سے بھی نہ ملے تو؟ انہوں نے کہا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ یہ سُن کر رسول اللہﷺ نے ان کے سینہ پر تھپکی دی اور فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے رسول کے رسول کو یہ توفیق بخشی جس سے اللہ کا رسول راضی ہوگیا۔