اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-06-18

خیانت کرنا منافق کی علامات میں سے ایک علامت ہے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ، كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ "، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: وَإِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ، كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: چار ایسی علامتیں ہیں کہ جس میں وہ ہوں وہ پکا منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہوگی سوائے اس کے کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ وہ چار باتیں یہ ہیں۔ جب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرتاہے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے۔ جب کسی سے معاہدہ کرے تو بے وفائی کرتا ہے۔ اور جب کسی سے جھگڑ پڑے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔
(مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان خصال المنافق)