محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار
پاکیزہ منظوم کلام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ
غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں
اغیار کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے ہمیں
اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اے خدا
جس میں کہ تیرا نام چھپانا پڑے ہمیں
منبر پہ چڑھ کہ غیر کہے اپنا مدعا
سینہ میں اپنے جوش دبانا پڑے ہمیں
سن مدعی نہ بات بڑھاتا نہ ہو یہ بات
کوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہمیں
پھلائیں گے صداقتِ اسلام کچھ بھی ہو
جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں
پروا نہیں جو ہاتھ سے اپنے ہی اپنا آپ
حرفِ غلط کی طرح مٹانا پڑے ہمیں
محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار
روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں
(کلام محمود )