اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ارشاداتِ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

’’آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستور العمل ہو، باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی طرح نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔ اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں، استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو، وحدت کو ہاتھ سے نہ دو، دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا۔ پس اس نعمت کا شکر کرنے پر ازدیادِ نعمت ہوتا ہے۔لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراہیم)۔‘‘
(الحکم 24 جنوری 1903 جلد 7 نمبر 3۔ صفحہ 15)
’’تم اس حبل اللہ کو آپ مضبوط پکڑ لو۔ یہ بھی خدا ہی کی رسی ہے جس نے تمہارے متفرق اجزا کو اکٹھا کر دیا ہے۔ پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔ تم خوب یاد رکھو کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔ تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو مگر ادب کو ہاتھ سے نہ دو خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے اللہ تعالیٰ نے چار خلیفے بنائے ہیں۔ آدم کو داؤد کو اور ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ میں موعود ہے اور تم سب کو بھی خلیفہ بنایا۔ پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے تمہاری بھلائی کے لئے بنایا ہے۔ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔ اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہوگا تو وہ مجھے موت دے دے گا۔‘‘
(اخبار ’بدر‘ یکم فروری 1913ء جلد 11 نمبر 18 و 19۔ صفحہ 3)
’’یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حق دار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔ اس سے توبہ کر لو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھاخلیفہ بنا دیا جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو ابلیس نہ بنو۔‘‘ (’بدر‘ 4 جولائی 1912ء جلد 12 نمبر 1۔ صفحہ 7)