اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ تمہارا اٹھنا، بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جماعت کا جو خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ میں جماعت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اور چونکہ ہماری جماعت ہمارے عقیدہ کی رُو سے باقی تمام جماعتوں سے افضل ہے اس لئے ساری دنیا میں سے افضل جماعت میں سے ایک شخص جب سب سے افضل ہوگا تو موجودہ لوگوں کے لحاظ سے یقیناً اسے ’بعد از خدا بزرگ توئی‘ کہہ سکتے ہیں۔‘‘ (الفضل 27 اگست 1937ء صفحہ 6)
’’جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔‘‘ (الفضل 27 اگست 1937ء صفحہ 8)
’’خلافت ایک الٰہی نعمت ہے۔ کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے۔ وہ خدا تعالیٰ کے نور کے قیام کا ذریعہ ہے جو اس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ ہاں وہ ایک وعدہ جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانے کی لمبائی مومنوں کے اخلاق سے وابستہ ہے۔‘‘ (الفضل 23 ستمبر 1937ء۔ صفحہ 15)
’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مدبر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدابیر خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو، ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔‘‘
(الفضل 4 ستمبر 1937ء صفحہ 8)
’’خلافت کے تو معنیٰ ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب اسکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی اسکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام اسکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 24 جنوری 1936ء مطبوعہ الفضل 31 جنوری 1936ء۔ صفحہ 9)
’’یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔.......... ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں، ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں، خدا کے حضور اس کے ان دعووں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 25 اکتوبر 1946ء مطبوعہ الفضل 15 نومبر 1946ء۔ صفحہ 6)
’’یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں۔ میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو رد کر دوں مجھے اس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔ گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اسے کیونکر پسند آ گیا؟ لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اس کرتہ کو مجھ سے نہیں اتار سکتا جو اس نے مجھے پہنایا ہے یہ خدا کی دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے؟ خدا تعالیٰ میرا مددگار ہو گا۔ میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقت ور ہے، کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا توانا ہے، میں بلا اسباب ہوں لیکن میرا بادشاہ تمام اسباب کا خالق ہے میں بے مددگار ہوں لیکن میرا رب فرشتوں کو میری مدد کے لئے نازل فرمائے گا۔‘‘ (’’کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے‘‘ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 15)