حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’پس کامل بھروسہ اور کامل توکل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافتِ احمدیہ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا، زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرۂ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھے گا جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ تُؤْتِیْ اُكُلَھَا كُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا (ابراہیم: 25 و 26) کہ ایسا شجرۂ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔ یہ شجرۂ خبیثہ نہیں ہے کہ جس کے دل میں آئے وہ اسے اٹھا کر اسے اکھاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دے کوئی آندھی، کوئی ہوا اس (شجرہ طیبہ) کو اپنے مقام سے ٹلا نہیں سکے گی اور اسکی شاخیں آسمان سے اپنے رب سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسا درخت نو بہار اور سدا بہار ہے۔ ایسا عجیب ہے یہ درخت کہ ہمیشہ نو بہار رہتا ہے کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھتا۔ تُؤْتِیْ اُكُلَھَا كُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا، ہر آن اپنے رب سے پھل پاتا چلا جاتا ہے اس پر کوئی خزاں کا وقت نہیں آتا اور اللہ کے حکم سے پھل پاتا ہے۔ اس میں نفس کی کوئی ملونی شامل نہیں ہوتی۔ یہ وہ نظارہ تھا جس کو جماعت احمدیہ نے پچھلے ایک دو دن کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اپنے دلوں سے محسوس کیا اور اس نظارہ کو دیکھ کے روحیں سجدہ ریز ہیں خدا کے حضور حمد کے ترانے گاتی ہیں۔ پس دکھ بھی ساتھ تھا اور حمد و شکر بھی ساتھ تھا اور یہ اکٹھے چلتے رہیں گے۔ بہت دیر تک لیکن حمد اور شکر کا پہلو ایک ابدی پہلو ہے وہ ایک لازوال پہلو ہے وہ کسی شخص کے ساتھ وابستہ نہیں۔ نہ پہلے کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ تھا نہ میرے ساتھ ہے نہ آئندہ کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہے، وہ منصبِ خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔ وہ، وہ پہلو ہے جو زندہ و تابندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ہاں ایک شرط کے ساتھ اور وہ شرط یہ ہے: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔ کہ دیکھو اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تمہیں اپنا خلیفہ بنائے گا زمین میں لیکن کچھ تم پر بھی ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔ تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور عملِ صالح بجالاتے ہیں۔ پس اگر نیکی کے اوپر جماعت قائم رہی اور ہماری دعا ہے اور ہمیشہ ہماری کوشش رہے گی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ جماعت نیکی پر ہی قائم رہے۔ صبر کے ساتھ اور وفا کے ساتھ تو خدا کا یہ وعدہ بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ وفا کرتا چلا جائے گا اور خلافتِ احمدیہ اپنی پوری شان کے ساتھ شجرۂ طیبہ بن کرایسے درخت کی طرح لہلہاتی رہے گی جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 11 جون 1982ء۔ خطبات طاہر جلد 1۔ صفحہ 4-3)
’’سارا عالمِ اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اور خدا کی پسند اس شخص پر انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحبِ تقویٰ سمجھتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 2 اپریل 1993ء ہفت روزہ بدر 6 مئی 1993ء صفحہ 4)
’’آئندہ انشاء اللہ خلافتِ احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ جماعت اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے کوئی بدخواہ اب خلافت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا اور جماعت اس شان سے ترقی کرے گی خدا کا یہ وعدہ پورا ہوگا کہ کم از کم ایک ہزار سال تک جماعت میں خلافت قائم رہے گی۔‘‘ (خلاصہ خطبہ 18 جون 1982ء)
’’خلافتِ احمدیہ کی طاقت کا راز دو باتوں میں نظر آتا ہے ایک خلیفہ وقت کے اپنے تقویٰ اور ایک جماعت احمدیہ کے مجموعی تقویٰ میں جماعت کا جتنا تقویٰ من حیث الجماعت بڑھے گا احمدیت میں اتنی ہی زیادہ عظمت اور قوت پیدا ہو گی خلیفہ وقت ذاتی تقویٰ میں جتنا ترقی کرے گا اتنی ہی اچھی قیادت اور سیادت جماعت کو نصیب ہوگی یہ دونوں چیزیں بیک وقت ایک ہی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ترقی کرتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جون 1982ء)
’’آپ یاد رکھیں اگر خلیفۃ المسیح سے آپ کی بیعت سچی ہے اگر خلیفۃ المسیح پر آپ کا اعتماد ہے آپ جانتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور آج دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی نمائندگی کا اس کو حق حاصل ہے تو پھر اپنے فیصلوں اور اپنی آراء کو اس کی رائے پر اس کے فیصلے پر کبھی ترجیح نہ دیں۔ اگر آپ نے کبھی ترجیح دی تو حبل اللہ سے آپ کا ہاتھ چھوٹ جائے گا اور قرآنِ کریم کی یہ آیت وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا آپ کو حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دے گی آپ مشورہ دیتے ہیں اور مشورہ میں تقویٰ ضروری ہے اور بسا اوقات ایک نا تجربہ کار آدمی تقویٰ پر مبنی مشورہ بھی دیتا ہے اور وہ مشورہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ اس لئے آخری فیصلہ دین میں نبی اور نبی کے بعد خلیفہ کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے۔‘‘ (بحوالہ احمدیہ گزٹ امریکہ صفحہ 54 سن 1983ء)