تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد کے حالات کے ضمن میں بیان فرماتے ہیں کہ :رسول اللہ ﷺنے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا۔ زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہدا کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔ اس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفارِ مکہ نے بعض مسلمان شہدا کے ناک کان بھی کاٹ دئیے ہیں۔ ان میں خود آپ کے چچا حمزہ بھی تھے۔ آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کفار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم ناجائز سمجھتے تھے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفار جو کچھ کرتے ہیں ان کوکرنے دو تم رحم اور انصاف کادامن ہمیشہ تھامے رکھو۔حضور انور نے فرمایا :یہ ہے اسلام کی تعلیم
حضرت حمزہ کی تدفین اور تکفین کے بارے میں آتا ہےکہ حضرت حمزہ کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔ جب ان کا سر ڈھانکا جاتا تو دونوں پاؤں سے کپڑا ہٹ جاتا اور جب چادر پاؤں کی طرف کھینچ دی جاتی تو ان کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آپ کا چہرہ ڈھانک دیا جائے اور پاؤں پر ہرمل یا اذخر گھاس رکھ دی جائے۔ حضرت حمزہ اورحضرت عبداللہ بن جحش کو جو کہ آپ کے بھانجے تھے ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے حضرت حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حضور انور نے فرمایا : ان شہداء کی نماز جنازہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کی جو بحث ہے، اس بارے میں مَیں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔
حضور انور نے فرمایا:نوحہ اور بین جو فوت شدگان پہ کیا جاتا ہے اس کی بہت ہی پُرحکمت انداز میں آپ ﷺ نے ممانعت فرمائی۔ ایک روایت میں آتا ہےکہ آنحضرت ﷺجب احد سے واپس لوٹے تو آپﷺ نے سنا کہ انصار کی عورتیں اپنے خاوندوں پر روتی اور بین کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا بات ہے حمزہ پر کوئی رونے والا نہیں؟انصار کی عورتوں کو پتہ چلا تو پھر وہ حضرت حمزہ کی شہادت پر بین کیلئے اکٹھی ہو گئیں۔ پھر نبی کریم ﷺ کی آنکھ لگ گئی اور جب بیدار ہوئے تو خواتین اسی طرح رو رہی تھیں۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ کیا یہ لوگ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی ؟ بند نہیں کریں گی؟ انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے کا ماتم اور بین نہ کریں۔تو اس طرح آنحضرتﷺ نے مُردوں پر نوحہ کرنا ناجائز قرار دیا اور کسی بھی قسم کا نوحہ اور بین ختم کر دیا۔ یوں بڑی حکمت سے آنحضرت ﷺ نے انصار کی عورتوں کے جذبات کا خیال رکھا۔ انہیں اپنے خاوندوں اور بھائیوں کی جدائی پر ماتم سے روکنے کی بجائے حضرت حمزہ پرماتم کرنے سے روکا اور اپنا نمونہ پیش کر دیا اور انہیں صبر کی تلقین کی۔ ایسی تلقین جو پُراثر تھی۔ جہاں تک آنحضرتﷺ کو حضرت حمزہ کی جدائی کے غم کا تعلق ہے وہ آخر تک آپ کو رہا۔ آپؐہمیشہ اس کا ذکر کرتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک نے حضرت حمزہ کی شہادت پر اپنے مرثیہ میں کہا تھا کہ میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور حمزہ کی موت پر انہیں رونے کا بجا طور پر حق بھی ہے۔ مگر خدا کے شیر کی موت پر رونے دھونے اور چیخ وپکار سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ وہ خدا کا شیر حمزہ کہ جس صبح وہ شہید ہوا دنیا کہہ اٹھی کہ شہید تو یہ جوانمرد ہوا ہے۔
حضرت مصعب کی تدفین کے بارے میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حضرت مصعب کی نعش کے پاس پہنچے۔ ان کی نعش چہرے کے بل پڑی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی : مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ۰ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ۰ۡۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا کہ مؤمنوں میں سے ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا اسے سچا کر دکھایا۔ پس ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اسکے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان رسول اللہ یشھد انکم الشھداء عند اللہ یوم القیامۃ کہ خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بھی اللہ کے ہاں شہداء ہو۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کی زیارت کر لو اور ان پر سلام بھیجو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔
اُحد کے دن حضورِ اکرم ﷺ نے شہداء کی تدفین کے بعد سب لوگوں کو اکٹھا کرکے یہ دعا کی کہ اَے اللہ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے اللہ! جس چیز کو تُو کشادہ کردے اسکو کوئی روکنے والا نہیں اور جسکو تُو قبض کرلے تو اسکو کوئی کشادہ نہیں کرسکتا اور جسکو تُو گمراہ کردے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسکو تُو ہدایت دے دے اسکو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جو چیز تُو روک لے اسکا کوئی عطا کرنے والا نہیں اور جو تو عطا کرے اس سے کوئی اور روکنے والا نہیں اورجسکو تُو دُور کردے اسکو کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے اور جسکو تُو قریب کردے اسکو کوئی دُور کرنے والا نہیں ہے۔اے اللہ! ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں زندہ کراور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ اس طرح لاحق کردے کہ نہ ہم رسوا ہوں اور نہ فتنے میں پڑیں۔ اے اللہ اے معبود حق! اُن کافروں کو ہلاک کردے جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں اور ان پر اپنی سزا اور عذاب نازل کر۔ اے اللہ اہلِ کتاب کافروں کو ہلاک کر۔آمین۔
غزوہِ احد میں خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ حضرت ام سلمہؓ کے جنگِ احد میں شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح راوی کہتے ہیں کہ اُحد کے دن مَیں نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلیم ؓکو دیکھا کہ وہ مشک میں پانی بھر کر لاتیں اور پیاسوں کو پلاتی تھیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ اور حضرت ام عطیہ ؓکے متعلق بھی یہی ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح بعض مسلم خواتین نیزے اور تلوار کے ساتھ کفار سے دوبدو جنگ بھی کرتی رہیں جن میں حضرت ام عمارہؓ سرِ فہرست ہیں۔ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حضور ﷺکے زخم دھونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت عائشہؓ جنگِ احد کی خبر لینے بعض دوسری عورتوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں تو ان کی ملاقات راستے میں ہند بنت عمروؓ سے ہوئی۔ ہند،عبداللہ بن عمرؓو کی بہن تھیں۔ آپ اپنی اونٹنی کو ہانک رہی تھیں اور اس اونٹنی پر حضرت ہندؓ کے خاوند، بیٹے اور بھائی کی نعشیں تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے ان سے میدان جنگ کا حال پوچھا توحضرت ہندؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیریت ہیں اور آپؐکے ہوتے ہوئے ہر مشکل آسان ہے۔
حضرت ام عمارہ ؓکہتی ہیں کہ جنگِ احد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض گنتی کے صحابہ رہ گئے تو مَیں حضور ﷺ کے پاس بھاگ کر پہنچی اور تلوار کے ذریعے کفار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے روکنے لگی ساتھ ہی کمان سے تیر بھی چلائے یہاں تک کہ خود بھی زخمی ہوگئی۔ حضرت ام ایمنؓ زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں کہ ایک مشرک نے ان کی طرف تیر چلایا جو آپ رضی اللہ عنہا کے دامن میں جا لگا یہ دیکھ کر وہ کافر ہنسنے لگا۔ اس پر حضور اکرم ﷺنے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ایک تیر دیا جس کا پھل نہ تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے وہ تیر چلایا۔ وہ تیر اس کافر کو لگا اور وہ پیچھے جا گرا جس سے اس کا ننگ ظاہر ہوگیا اس پر حضور ﷺ مسکرائے۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر مسکرا اٹھے کہ خدا نے اس کافر کو ایسے تیر سے راستے سے ہٹایا جس کا پھل بھی نہیں تھا گویا سیدھی سی ایک سوٹی تھی، اس نے ہی اس کافر کو مار دیا۔
عتبہ بن ابی وقاص نے حضور ﷺ کو پتھر کھینچ کر مارا جس سے آپ کا دانت ٹوٹ گیااور ہونٹ پھٹ گیا۔ حضور ﷺ نے عتبہ کیلئے یہ دعا کی کہ اے اللہ! ایک سال سے پہلے ہی عتبہ کو کافر ہونے کی حالت میں موت دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺکی یہ دعا قبول کی اور وہ اسی روز ہلاک ہوگیا۔
خطبہ جمعہ کے آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل مرحومین کاذکرِ خیر فرمایااور تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا کی اور ان کی نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان کیا۔ مکرم غسان خالد النقیب صاحب آف سیریا، مکرمہ نوشابہ مبارک اہلیہ مکرم جلیس احمد مربی سلسلہ شعبہ آرکائیو و الحکم، مکرمہ رضیہ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالحمید خان صاحب مرحوم آف ربوہ، مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر محمد سلیم صاحب آف لاہور، مکرم رشید احمد چودھری صاحب آف ناروے۔ …٭…٭…