تشہد،تعوذ، سورۃ الفاتحہ اور سورت اٰلِ عمران کی آیت ۹۳کی تلاوت کے بعد اس آیتِ کریمہ کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتےجب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا: اِس کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی الله عنہ نے لکھا ہے کہ قرآنِ کریم میں سورۂ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے، وہاں متّقی کی نسبت فرمایا : وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ یعنی جو کچھ الله نے دیا ہے اُس سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔ پھر اِس سورت میں کئی جگہ انفاق فی سبیل الله کی بڑی تاکیدیں کی ہیں۔ پس تم حقیقی نیکی کو نہیں پا سکو گے، جب تک تم مال سے خرچ نہیں کرو گے۔ مِمَّا تُحِبُّوْنَ کے معنے میرے نزدیک مال ہے۔ کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے : وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌکہ انسان کو مال بہت پیارا ہے۔
پس حقیقی نیکی پانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اِس کی مختلف جگہ پر تفسیر فرمائی ہے۔ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ مال کے ساتھ محبّت نہیں چاہیے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتےجب تک کہ تم اُن چیزوں میں سے الله کی راہ میں خرچ نہ کرو، جن سے تم پیار کرتے ہو۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کی اکثریت مالی قربانیوں میں بہت خوشی سے حصّہ لیتی ہے۔ لیکن بعض ایسے ہیں کہ جن میں انقباض ہوتا ہےتو اِن کو الله تعالیٰ کی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ الله کی راہ میں مال خرچ کرنا ضروری ہے۔ زیادہ کمانے والے بے شک بعض ایسے ہیں کہ جو تحریکات میں حصّہ لیتے ہیں اور بڑا بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں، لیکن یہاں ضمناً مَیں یہ بھی بتا دوں کہ وہ چندہ جو اپنا حصّہ آمد وغیرہ کا ہے، وہ صحیح شرح سے ادا نہیں کرتے اور اِس میں باقاعدہ نہیں ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
احادیث میں بھی اِس بارے میں آنحضرتؐ نے متعدد جگہ ہمیں اِس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ مالی قربانی کرنی چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج احمدیوں کی اکثریت کو اِس بات کا اِدراک ہے، وہ الله کی راہ میں بے شمار خرچ کرتے ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں بھی اِس خرچ کی ایسی مثالیں ہیں۔ بلکہ اِن کو دیکھ کر آپؑ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مَیں حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح غریب لوگ دین کی خاطر اتنی قربانیاں کر رہے ہیں۔ آج بھی یہی حال ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ اکثر غرباء میں سے یا اوسط طبقے کے کمانے والے جو ہیں، وہ بہت بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں، کیونکہ اُنہیں یہ اِدراک ہے کہ الله تعالیٰ نے یہ مال ہمیں لَوٹانا ہے یا ہم الله تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے، کس طرح؟ یہ الله تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اِس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔
اصل بات یہی ہے کہ اگلے جہان میں الله تعالیٰ اُسے لَوٹائے گا، اِس کے ثواب میں شامل کرے گا اور یہ قربانیاں اُن کے لیے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ وطہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے ۔اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متّقی کے نشانوں میں ایک نشان یہ بھی رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متّقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفّل ہو جاتا ہے۔
پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اپنی خاطر قربانی کرنے والوں کو اور تقویٰ پر چلنے والوں کو بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جن کا الله تعالیٰ متولّی ہو جاتا ہے، وہ دنیا کے آلام سے نجات پاجاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اُن کے لیے الله تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَ جًا وَّ یَرْ زُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے، الله تعالیٰ اِس کو اپنے فضل سے ہر ایک بلا ءاور اَلم سے نکال دیتا ہے، اِس کے رزق کا خود کفیل ہو جاتا ہے۔ اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔
پھر حضورِ انور نے فرمایا کہ چونکہ اِس وقت مَیں وقفِ جدید کے حوالے سے بات کرنے والا ہوں، اِس لیے مَیں اُن لوگوں کی بعض مثالیں پیش کر دیتا ہوں ، جنہوں نے وقفِ جدید کے چندے دیے اور اُن پر الله تعالیٰ نے فضل کیے یا اُن کو الله تعالیٰ پر کتنا یقین اور مَان تھا کہ اگر وہ قربانی کر دیں ، تو الله تعالیٰ اُن کی ضروریات پوری کرے گا۔
چندوں کی ادائیگی سے ایک تو الله تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اللهتعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر لوگوں کے ایمان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اب ایسی حالت میں خواہش رکھنا، جب ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو اور پتا بھی نہ ہو کہ مہینہ کیسے گزرے گا، بہت مشکل کام ہے۔ اور آدمی کے پاس رقم آ جائے تو پہلے اپنے اُوپر خرچ کرتا ہے، لیکن ایمان لانے کے بعد اِن لوگوں کے عجیب رویّے ہیں۔ مبلغ نے اِنہیں کہا کہ آپ سٹوڈنٹ ہیں، زیادہ بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہے، بے شک ایک یا دو یورو دے دیں کہ جتنی آپ کی توفیق ہے، الله تعالیٰ تو نیّتوں کے مطابق ثواب دیتا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے بعد وہ مشن ہاؤس آئے اور ایک سو ساٹھ یورو چندہ وقفِ جدید ادا کر دیا۔ کہنے لگے کہ جس دن وقفِ جدید کی قربانی کا ارادہ کیا تھا، الله تعالیٰ نے اُسی ہفتے میرے اَمول میں برکت ڈال دی۔ جہاں مَیں پارٹ ٹائم جاب کر رہا تھا، اُنہوں نے مجھے میری تنخواہ وقت سے پہلے دے دی اور بلاوجہ زیادہ بھی دی اور مجھے خود بھی سمجھ نہیں آئی کہ کیوں زیادہ دی ہے؟ اور
پھر کچھ دن بعد دوبارہ بتایا کہ ایک اور معجزہ ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ جس دن مَیں نے ایک سو ساٹھ یورو ادا کیے، میری خواہش تھی کہ مزید ادا کروں ، لیکن گنجائش نہیں تھی۔ لیکن چندہ دینے کے کچھ دن بعد ہی غیر متوقع طور پر کافی اچھی رقم مل گئی۔ مَیں نے ایک ٹریننگ سینٹر سے کچھ پیسے وصول کرنے تھے، جو باوجود کئی مرتبہ کہنے کےنہیں مل رہے تھے، لیکن الله تعالیٰ نے چندے کی برکت سے میری وہ رقم بھی دلا دی۔ چنانچہ موصوف نے مزید ایک سو چالیس یورو وقفِ جدید میں ادا کر دیے۔
حضورِ انور نے وقفِ جدید کے مالی جہاد میں قربانی کرنے والے مخلصین کے متفرق ایمان افروز واقعات اور اُن پر نازل ہونے والے خدا تعالیٰ کے غیر معمولی افضال کا تذکرہ فرمانے کے بعد ممالک اور جماعتوں کی پوزیشن بیان فرمائی۔
وقفِ جدید کے مختصر کوائف بیان کرنے کے بعد آخر پر حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اِن سب قربانی کرنے والوں کےاَموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔ بعض جماعتوں کے نام مَیں اِس لیے پڑھ دیتا ہوں کہ اِن کو خیال ہوتا ہے کہ کیا پوزیشن ہے ہمیں بتایا جائے، اِس لیے روایت کے مطابق پڑھا جاتا ہے۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مالی قربانی کی اہمیت پر مبنی ایک اقتباس کی روشنی میں فرمایا کہ پس یہ الله تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور ہم نے تجربہ بھی کیا ہے کہ کس طرح الله تعالیٰ لوگوں کو نوازتا چلا جاتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ الله تعالیٰ کے پاس ہی سارے خزانے ہیں، وہ آخری جہان میں اِن سے نوازے گا، لیکن اِس دنیا میں بھی نوازتا چلا جائے گا۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح الله تعالیٰ ہمیں نوا ز رہا ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں جہاں مالی قربانیوں کی توفیق آئندہ دیتا رہے، وہاں ہمارے ایمان اور یقین میں بھی اضافہ کرتا چلا جائے۔