اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ
 ہمیں آپؐکے اُسوہ پر چلتے ہوئے نمازوں اور عبادت کے لیے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تبھی ہم حقیقی مسلمان کہلا سکتے ہیں


جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ کے حوالے سے دعا کی تحریک

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

تشہد،تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
میں نے گذشتہ ایک خطبے میںآنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے، آپؐکی محبّتِ الٰہی کے پہلو کا ذکر کیا تھا، اِس بارے میں ہی آج مزید کچھ بیان کروں گا۔
جوانی اور دعویٔ نبوت سے پہلے بھی آپؐمیں محبّتِ الٰہی کا جوش ایسا تھا کہ آپؐاِس سے بےتاب ہو کر غار میں جا کر محبوبِ الٰہی سے راز و نیاز میں مصروف ہو جاتے تھے۔اِسی محبّت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقّی کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے۔ آنحضرتؐکو دیکھوکہ آپؐکو الله تعالیٰ نے مکّہ جیسے شہر میں پیدا کیا اور پھر آپؐ اُن گرمیوں میں تنہا غارِ حرا میں جا کر الله تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ کیسا عجیب زمانہ ہو گا؟ آپؐ ایک پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لے جایا کرتے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب الله تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے، تو پھر دنیا اور اہلِ دنیا سےایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔ آنحضرتؐکی بھی یہی حالت تھی۔ الله تعالیٰ کی محبّت میں آپؐاِس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپؐ اِس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام اور راحت کا سامان نہ تھا، جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو، آپؐوہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔ اِس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کیسے بہادر اور شجاع تھے، جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو، تو پھر شجاعت بھی آ جاتی ہے۔ اِس لیے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا، اہلِ دنیا بزدل ہوتے ہیں، اِن میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی ہے۔
حضورِ انور نے غارِ حرا میں عبادتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی بیان کردہ ایک حدیث بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔
اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اُوپر ایک موت اور حالتِ فنا وارِد نہ کر لے، تب تک اُدھر سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی، البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اُوپر موت وارِ د کر لی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے، اُس کو نوازتا ہے اور قُدرت نمائی سے بُلند کرتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کی محبّت میں آپؐکی نمازوں کی یہ کیفیت تھی کہ مُطرّف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐنماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐکے سینے سے ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز کی طرح آواز آ رہی تھی۔ آپؐاِتنی شدّت سے رو رہے تھے اور آہ و زاری کر رہے تھے کہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہنڈیا میں پانی اُبل رہا ہے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق آپؐاِتنی زیادہ عبادت کرتے اور عبادت کے وقت میں کھڑے ہوتے تھے کہ آپؐکے پاؤں متورّم ہو جاتے۔
حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ آنحضرتؐکی محبّت اور عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے ،ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐمرض الموت میں مبتلا ہوئے، تو سخت ضُعف کی وجہ سے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے، اِس لیے آپؐنے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ آپؓفرماتی ہیں یہ حکم فرمانے کے بعد جب آپؐنے مرض میں کمی محسوس کی تو آپؐآدمیوں کے سہارے نماز پڑھنے کے لیے نکلے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اِس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدّتِ درد کی وجہ سے آپؐکے قدم ز مین سے چُھوتے جاتے تھے۔ جب آپؐمسجد پہنچے، تو حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ جائیں ، تو رسولِ کریمؐ نے اُن کا ارادہ بھانپتے ہوئے اُنہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔آپؐحضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھ گئے، اِس کے بعدرسولِ کریمؐ نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی نماز کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکرؓکی نماز کی اتّباع کرنے لگے۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐکو کیسی ہی خطرناک بیماری ہو، آپؐخدا تعالیٰ کی یاد کو نہ بھلاتے، عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں۔
ہر ایک صاحبِ بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی آپؐکی غذا تھی اور اس کے بغیر آپؐاپنی زندگی میں کوئی لُطف نہ پاتے تھے۔ اسی طرف آپؐنے اشارہ فرمایا کہ جن چیزوں سے مجھے محبّت ہے، اُن میں سے ایک قُرَّةُ عَيْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ ہے، یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگ پوچھتے ہیں اور اکثر آجکل کے بچے اور نوجوان بھی سوال کرتے ہیں کہ نیکیاں کیا ہیں اور کس طرح پتہ لگے کہ الله تعالیٰ راضی ہوتا ہے؟ الله تعالیٰ اِسی طرح راضی ہوتا ہے کہ نیکیاں کرو اَور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کرو۔ انسان اپنا جائزہ خود لے سکتا ہے۔ کسی باہر کے آدمی کو جج بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان خود سمجھ سکتا ہے کہ جو نیکیاں وہ کر رہا ہے، اگر وہ خدا تعالیٰ کے لیے کر رہا ہے، پھر الله تعالیٰ کو یقیناً پسند ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله الله! کیا عشق ہے، کیا محبّت ہے، کیا پیار ہے، خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔
پھر اِسی تسلسل میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ آپؐکس طرح اپنے کاموں میں مشغول رہتے تھے، یہ نہیں کہ صرف عبادت کر لی اور باقی کام ختم ہو گئے۔ دن بھر بھی آپؐخدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اُس کی اطاعت و فرمانبرداری کو رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے۔ یہ سب کام آپؐدن کے وقت کرتے۔ اور اِن کے بجا لانے کے بعد بجائے اِس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج نکلنے تک اِس سے سر نہ اُٹھائیں، بار بار اُٹھ کر بیٹھ جاتے اور الله تعالیٰ کی تسبیح کرتے، تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اُٹھ کر وضو کرتےاور تنِ تنہا اپنے ربّ کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوتِ قرآنِ شریف کرتے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس ہمیں آپؐکے اُسوہ پر چلتے ہوئے نمازوں اور عبادت کے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تبھی ہم حقیقی مسلمان کہلا سکتے ہیں۔
آخر میں حضورِ انور نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت میر ناصر نواب صاحبؓکو ایک خط لکھتے ہوئے فرمایا کہ جو آپ نے اپنے عملی طریق کے لیے دریافت کیا ہے، وہ یہی اَمر ہے کہ رسول اللهؐ کی حقیقی اتّباع کی طرف رغبت کریں، رسول اللهؐ نے جن اعمال پر نہایت درجہ اپنی محبّت ظاہر فرمائی ہے ، وہ دو ہیں: ایک نماز اور ایک جہاد۔ نماز کی نسبت آنحضرتؐنے فرمایا ہے کہ قُرَّۃُ عَيْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ یعنی آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ اور جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ مَیں آرزو رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔یہ بیان کر کے آپؑفرماتے ہیں کہ سو! اِس زمانے میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اِس رنگ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمۂ اسلام میں کوشش کریں، مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ، دینِ متینِ اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلاویں، آنحضرتؐ کی سچّائی دنیا پر ظاہر کریں، یہی جہاد ہے، جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔اِس تناظر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارے قلمی اور تبلیغی جہاد میں بھی، اِسی وقت برکت پڑے گی، جب ہم اپنی عبادت کے معیار اور الله تعالیٰ کی محبّت کو بھی بڑھائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اِس جہاد میں حصّہ لیں، تو پھر الله تعالیٰ کی محبّت اور دعاؤں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی، اپنی عبادتوں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اور اگر ہم آپؐکے اُسوہ پر چلتے ہوئے یہ کریں گے تو تبھی ہمارے کاموں میں برکت بھی پڑے گی۔ الله تعالیٰ ہمیں اِس کی توفیق عطا فرمائے۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انور نے جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ کی بابت دعائیہ تحریک فرمائی۔کہ آج بنگلہ دیش کی جماعت کا جلسہ بھی ہو رہا ہے، وہاں مخالفت بھی کافی ہوتی ہے ، اُن کے لیے بھی دعا کریں الله تعالیٰ اُن سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اُن کا جلسہ بھی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو۔آمین