تشہد اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:الله تعالیٰ کے فضل سے کل سے رمضان شروع ہے، یہ روزوں کا مہینہ الله تعالیٰ نے ہمیں خاص طور پر الله تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور اپنی روحانی اصلاح کے لیے مہیا فرمایا ہے، الله تعالیٰ اِس مہینے سے ہر احمدی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی توفیق دے۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب رمضان کے بعد بھی ہم محبّتِ الٰہی اور عبادت کے معیار قائم رکھنے بلکہ بلند کرنے کی کوشش کریں، تبھی ہم اپنے مقصدِ پیدائش کو بھی پُورا کرنے والے ہوں گے۔
گذشتہ چند جمعوں سے میں اس بابرکت موضوع پر گفتگو کر رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺکی محبتِ الٰہی کس درجہ کامل اور بے مثال تھی، آپؐکی عبادت کا معیار کیا تھا، اور آپؐنے مومنین کو کس انداز میں نصائح فرمائیں کہ وہ بھی اس روحانی بلندی کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ہم نے دیکھا کہ آپؐکی عبادت محض ظاہری افعال کا مجموعہ نہ تھی بلکہ سراپا عشق، عجز اور کامل سپردگی تھی۔ راتوں کا قیام، آنکھوں کی نمی، اور یہ دعا کہ ’’اے اللہ! میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں‘‘یہ سب اس بات کا اظہار تھا کہ بندہ جب اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو عبادت اس کی فطرت بن جاتی ہے، بوجھ نہیں رہتی۔
پھر ہم نے آپؐکے غلامِ صادق ؑیعنی مرزا غلام احمد کی زندگی کے واقعات کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے اسی اُسوۂ حسنہ کی کامل پیروی کی۔ ان کی عبادت، دعا، گریہ و زاری، اور مخلوقِ خدا کے لیے درد یہ سب دراصل آنحضرت ﷺ کے نقشِ قدم کی جھلک تھی۔ گویا سچے غلام کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے آقا کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔
یہ مضمون ابھی جاری ہے، کیونکہ یہ ایسا بحرِ بیکراں ہے جس کی گہرائیوں کا احاطہ چند خطبات میں نہیں ہو سکتا۔ اور آج جبکہ ہم رمضان کے بابرکت ایام میں سے گزر رہے ہیں، تو یہی موضوع اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ رمضان دراصل محبتِ الٰہی کو تازہ کرنے، عبادت کے معیار کو بلند کرنے اور آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا مہینہ ہے۔یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
عبادت رسمی نہ ہو بلکہ روح کے ساتھ ہو،روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہ ہو بلکہ نفس کی تربیت کا ذریعہ بنےاور نماز محض فرض کی ادائیگی نہ ہو بلکہ خدا سے ملاقات کا شرف بن جائے۔
پس آج بھی اسی تسلسل میں ہم اسی مضمون کو آگے بڑھائیں گے کہ کس طرح ہم آنحضرت ﷺ کی محبتِ الٰہی اور عبادت کے معیار کو اپنی زندگیوں میں پیدا کریں، اور رمضان کو محض ایک موسمی عبادت نہ بنائیں بلکہ مستقل روحانی انقلاب کا ذریعہ بنا لیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کے واقعات محض سننے اور لطف اندوز ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے عملی راہنمائی کا ذریعہ ہونے چاہئیں۔ آپؑکی زندگی کا ہر پہلو اللہ تعالیٰ سے گہرے تعلق، دعا، تقویٰ اور عبادت سے بھرپور تھا۔
ایک واقعہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓنے مولوی محمد عبداللہ بوتالوی کے حوالہ سے بیان کیا کہ 1907ء میں امۃ الرحمٰن صاحبہ کے پاس ایک کاغذ کا پرزہ تھا جس پر حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اُمّ المومنین کے ہاتھ کی تحریر موجود تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو عبارت لکھی وہ یہ تھی کہ انسان ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اُس کے حضور دعا کرتا رہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ یہی وہ معیار ہے جس کی آپؑہمیشہ تلقین فرماتے تھے کہ ہر مومن میں خدا خوفی اور عبادت کا شوق پیدا ہو۔
اسی طرح میاں عبداللہ سنوریؓکے بیان کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ نے 1886ء میں ہوشیارپور میں چلہ کشی فرمائی۔ آپؑنے خلوت اختیار کی، چالیس دن تک کسی سے ملاقات نہ کی اور مکمل طور پر عبادت و دعا میں مشغول رہے۔ آپؑنے فرمایا کہ ان دنوں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بڑے دروازے کھلے اور طویل عرصہ تک الہامات ہوتے رہے۔ انہی ایام میں پسرِ موعود کی پیشگوئی کے الہامات ہوئے۔
بعد ازاں 20 فروری 1886ء کو پیشگوئی کا اشتہار شائع ہوا جو جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے معروف ہے۔ یہ پیشگوئی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓکی ذات میں بڑی شان سے پوری ہوئی جن کی باون سالہ خلافت قائم رہی اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے عظیم کامیابیاں عطا فرمائیں۔
حضورِ انور نے اس بات کو ایک خاص توارد قرار دیا کہ 20 فروری کے دن ہی یہ واقعہ بیان کرنے کا موقع ملا، جو اس پیشگوئی کی تاریخ بھی ہے۔ آپ نے توجہ دلائی کہ ان واقعات سے ہمیں سبق لینا چاہیے، خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے اور عبادت و دعا کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓبیان کرتے ہیں کہ مَیں نے میاں عبدالله سے دریافت کیا کہ حضرت صاحبؑاِس خلوت کے زمانے میں کیا کرتے تھے اور کس طرح عبادت کرتے تھے؟تو اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ ہمیں معلوم نہیں ، کیونکہ آپ اُوپر بالا خانے میں رہتے تھے، بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب مَیں کھانا رکھنے اُوپر گیا، تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے: بُورِكَ مَنْ فِيهَا وَمَنْ حَوْلَهَااور تشریح فرمائی کہ مَنْ فِيْهَ اسے مَیں مُراد ہوں یعنی حضرت مسیح موعودؑاور مَنْ حَوْلَهَا سے تم لوگ مُراد ہو۔
اُن دنوں فتح خان بہت معتقد تھا اور کہتا تھا کہ مَیں حضرت صاحب کو نبی سمجھتا ہوں، لیکن جب اُسے ٹھوکر لگی تو وہ مرتد ہو گیا۔
اِس تناظر میں حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اِس لیے انسان کو ہمیشہ اپنے انجام بخیر کی دعا اور اپنے ایمان کی مضبوطی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اِس کے لیے دعا بھی مانگنی چاہیے اور خاص طور پراِن دعاؤں میں، جو رمضان میں کریں، یہ دعا بھی ہر ایک کو کرنی چاہیے کہ الله تعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے اور ایمان میں مضبوط رکھے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نماز اور عبادت کا طریق ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ فقہی باریکیوں سے بڑھ کر اصل روح خشوع، عاجزی اور خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔
میاں علی محمد صاحب کے بیان کے مطابق حضورؑ نماز میں ہاتھ ناف سے اوپر باندھتے، سجدہ نہایت ادب سے کرتے اور پیشانی و ناک زمین پر رکھتے۔ سجدے میں انگلیاں قبلہ رُخ سیدھی ہوتیں۔ یہ سب امور آپؑکے وقار اور سنت کی پیروی کو ظاہر کرتے ہیں۔
حضرت بھائی چودھری عبدالرحمٰن صاحب اور حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑتہجد بڑی گریہ و زاری اور طویل قیام کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔ آپؑاکثر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو بار بار دہراتے، تاکہ ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مسلسل زبان پر رہے۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ وہ حضورؑ کے ساتھ تہجد میں زیادہ دیر کھڑے نہ رہ سکے جبکہ حضورؑ طویل عبادت میں مشغول رہے۔
جب پوچھا گیا کہ اگر تہجد ادا نہ ہو سکے تو کیا کیا جائے؟ تو حضورؑ نے فرمایا کہ استغفار، تسبیح اور تحمید کثرت سے پڑھو، یہ اعمال تہجد کی توفیق کا ذریعہ بنیں گے۔ حضورِ انور نے وضاحت کی کہ یہ تہجد کا متبادل نہیں بلکہ اس کی توفیق حاصل کرنے کا نسخہ ہے۔
رمضان کے حوالے سے آپ نے توجہ دلائی کہ اگرچہ تراویح ادا کی جاتی ہے، مگر اصل سنت یہی ہے کہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھی جائے، چاہے دو یا چار نوافل ہی کیوں نہ ہوں۔
حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا بشیر احمدؓکے بیان کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثرت سے سبحان الله وبحمدہ سبحان الله العظيم پڑھنے کی ہدایت ہوئی تھی، چنانچہ آپؑاسے ہر وقت حتیٰ کہ بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے بھی پڑھتے رہتے تھے۔
آپؑنے فرمایا کہ اگر اختیار دیا جائے تو وہ خلوت کو پسند کریں گے، کیونکہ خلوت میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی جو لذت ہے وہ بے مثال ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؑکو خدمتِ دین اور میدانِ عمل میں نکالا۔ ساتھ ہی یہ بھی تعلیم دی کہ دنیا کو بالکل ترک نہ کیا جائے اور نہ اس میں اس قدر ڈوبا جائے کہ خدا بھول جائے، بلکہ ایک متوازن اور سموئی ہوئی اسلامی زندگی اختیار کی جائے۔
حضرت امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ کے آخر پر احمدیوں نیز امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس رمضان میں ہمیں حقیقت میں عبادت کا بھی صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی محبت میں بھی ہمیں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اس رمضان کا فیض اٹھاتے رہیں اور بعد میں بھی اس فیض کے اثرات ہم پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بنائے جو ایک حقیقی مومن اور ایک مسلمان کی نشانی ہے۔ان دنوں میں خاص طور پر مشکلات اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار احمدیوں کے لیے بہت زیادہ دعا کریں، احمدی بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے۔امت مسلمہ کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔دنیا کے تباہی سے بچنے کے لیے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ معصوم لوگوں کو ان کے شر سے بچائے اور اگر جنگ اور تباہی مقدر ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ معصوموں کو اس سے بچا کے رکھے اور ظالموں کی پکڑ فرمائے ۔ (آمین)