اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-07

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ17؍نومبر 2023 بطرز سوال وجواب

اُس وقت کے رائج قانون یا طریق کے مطابق کعب سے جو سلوک ہوا اس پر یہودیوں کا خاموش رہنا بتاتا ہے کہ
انہوں نے اس سزا اور اس سلوک کو تسلیم کیا، پس تاریخ میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں کہ اسکے بعد یہودیوں نے کبھی
کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کرکے مسلمانوں پرالزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے

سوال:معاہدہ ہجرت کے بعد مسلمانوں اوریہود کے درمیان ہوا اس کی رُوسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس حیثیت کے مالک تھے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:جو معاہدہ ہجرت کے بعد مسلمانوں اوریہود کے درمیان ہوا اسکی رُوسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوایک معمولی شہری کی حیثیت حاصل نہیں تھی بلکہ آپؐاس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جومدینے میں قائم ہوئی تھی اور آپ ﷺ کویہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اور اُمور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرمائیں۔
سوال:یا یہودی کعب بن اشرف کے قتل سے مستحق تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس وقت کے رائج قانون یا طریق کے مطابق کعب سے جو سلوک ہوا اس پر یہودیوں کا خاموش رہنا بتاتا ہے کہ انہوں نے اس سزا اور اس سلوک کو تسلیم کیا۔ پس تاریخ میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کرکے مسلمانوں پرالزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔
سوال:ایک شریر اور مفسد آدمی کا قتل ہونا کیوں ضروری ہے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہوجاوے بجائے اس کے کہ بہت سے پُرامن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اورملک کا امن برباد ہو۔
سوال:آنحضرت ﷺ کو حضرت فاطمہؓکی والاد سے کس قدر محبت تھی؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کو جس طرح اپنی اولاد حضرت فاطمہؓ سے بہت محبت تھی اسی طرح حضرت فاطمہ ؓکی اولاد سے بھی آپؐکو خاص محبت تھی۔ کئی دفعہ فرماتے تھے کہ خدایا! مجھے ان بچوں سے محبت ہے تُو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر۔
سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ظالم حکومت کے متعلق کیا دعا فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:لگتا ہے کہ اب دنیا اپنی تباہی کو قریب تر لے کے آ رہی ہے اور اس تباہی کے بعد جو لوگ بچیں گے انہیں اللہ تعالیٰ عقل دے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا کریں اور اسکی طرف لَوٹ کر آئیں۔ بہرحال ہمیں اس حوالے سے بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا پر رحم فرمائے۔
سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرات بن حیان کے قبول اسلام کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فرات بن حیان کے قبول اسلام کا بھی ذکر ہوا تھا۔ اسکے قبول اسلام کی تفصیل یہ ہے کہ غزوۂ بدر کے روز وہ زخمی ہوا تھا تاہم کسی طرح قید سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب وہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو حضرت ابوبکرؓاسے دیکھتے ہی کہنے لگے: اب بھی تم اپنے طرز عمل کو نہیں بدلو گے؟ فرات بولا اگر اس دفعہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بچ کر نکل گیا تو پھر میں قابو نہ آؤں گا۔ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے پھر اسلام قبول کر لو۔ اگر تم نے بچ کے نکلنا ہی ہے تو ایک ہی طریقہ ہے کہ پھر اسلام قبول کر لو۔ بہرحال فرات بن حیان حضرت ابوبکرؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہﷺ کی طرف چل پڑا۔ اپنے ایک انصاری دوست کے پاس سے گزرتے ہوئے کہنے لگا کہ مَیں تو مسلمان ہوں۔ انصاری صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ آپﷺ نے اسکا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلٰى إِيْمَانِهِمْ کہ بلا شبہ تم میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے حوالے کرتے ہیں۔ اگر یہ کہتا ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیاہے تو ٹھیک ہے۔ پھر اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پہ اسے رہا کر دیا۔
سوال:مورخین اعتراض کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے کعب بن اشرف کو ناجائز قتل کروایا اس اعتراض کا حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: بعض مؤرخین بعد میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ایک ناجائز قتل کروایا اور یہ غلط چیز تھی۔ واضح ہو کہ یہ ناجائز قتل نہیں تھا کیونکہ کعب بن اشرف آنحضرتﷺ کے ساتھ باقاعدہ امن کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنا تودرکنار رہا اس نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہربیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی مددکرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔ اس نے اس معاہدہ کی رُو سے یہ بھی تسلیم کیاتھا کہ جو رنگ مدینہ میں جمہوری سلطنت کاقائم کیا گیا ہے اس میں آنحضرتﷺ صدرہوں گے اورہرقسم کے تنازعات وغیرہ میں آپؐکا فیصلہ سب کیلئے واجب القبول ہو گا۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی معاہدہ کے تحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آنحضرت ﷺکی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپؐان میں احکام جاری فرماتے تھے۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے کعب نے تمام عہدوپیمان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چھوڑ دیا، عمل نہ کیا اور مسلمانوں سے بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی۔ اس نےمدینہ میں فتنہ وفساد کا بیج بویا اورملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطرناک طورپر ابھارا۔ پھر آنحضرت ﷺ کے قتل کے منصوبے کیے۔ یہ سب کچھ ایسی حالت میں کیا کہ مسلمان جوپہلے ہی چاروں طرف سے مصائب میں گرفتار تھے ان کیلئے سخت مشکل حالات پیدا کر دیے اور ان حالات میں کعب کا جرم بلکہ بہت سے جرموں کا مجموعہ ایسا نہ تھا کہ اسکے خلاف کوئی تعزیری قدم نہ اٹھایا جاتا؟ چنانچہ یہ قدم اٹھایا گیا اور آجکل کے مہذب کہلانے والے ممالک میں بغاوت اورعہد شکنی اور اشتعال جنگ اور سازش کے جرموں میں مجرموںکوقتل کی سزا دی جاتی ہے پھر اعتراض کس چیز کا۔ بلکہ آجکل فلسطین اور اسرائیل کے درمیان میں جو ہو رہا ہے۔ وہ تو بہت بڑھ کے ہو رہا ہے اور بہرحال کئی لحاظ سے جائز بھی نہیں ۔
سوال:مورخین ایک اعتراض کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف کو رات کو مارا گیا تو اس کو خاموشی سے کیوں قتل کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ عرب میں اس وقت کوئی باقاعدہ سلطنت نہیں تھی۔ ایک سربراہ تو مقرر کر لیا تھا لیکن صرف اسی کا فیصلہ نہیں ہوتا تھا بلکہ اگر اپنے اپنے فیصلے کرنا چاہے تو ہرشخص اورہرقبیلہ آزاداورخود مختار بھی تھا۔ مجموعی طور پر مشترکہ فیصلے ہوتے تو آنحضرت ﷺکے پاس آتے تھے اور اگر اپنے طور پر قبیلوں نے کرنے ہوتے تو وہ بھی ہوتے تھے۔ تو ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کرکے باقاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا؟ کیا یہود کے پاس شکایت کی جاتی جن کا وہ سردار تھا اور جو خود مسلمانوں سے غداری کرچکے تھے، آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے؟اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہود کے پاس جایا جاتا۔ قبائلِ سُلَیم اور غطفان سے دادرسی چاہی جاتی جو گذشتہ ماہ میں تین چار دفعہ مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاری کرچکے تھے؟ وہ بھی ان کے قبیلے تھے تو ظاہر ہے کہ ان سے بھی کوئی انصاف نہیں ملنا تھا۔ بہرحال اس وقت کی حالت پر غورکرو اور پھر سوچو کہ مسلمانوں کیلئے سوائے اس کے وہ کون سا راستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اورتحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے لیے اورملک کے امن کیلئے خطرہ پاتے توخود حفاظتی کے خیال سے موقع پاکر اسےقتل کردیتے کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہوجاوے بجائے اس کے کہ بہت سے پُرامن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اورملک کا امن برباد ہو۔
…٭…٭…٭…