اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-15

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ22؍اگست 2025بطرز سوال وجواب

غزوۂ حنین کے موقعہ پر رونما ہونے والے تاریخی واقعات، قرآنی رہنمائی، حکمتِ عملی اور اخلاقِ نبویﷺ

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ22؍اگست 2025بطرز سوال وجواب

سوال: غزوۂ حنین کب اور کہاں پیش آیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں مکہ اور طائف کے درمیان حنین نامی مقام پر پیش آیا۔
سوال:غزوۂ حنین کو غزوۂ ہوازن کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کو غزوۂ ہوازن اسلئے کہا جاتا ہےکیونکہ اس جنگ میں سب سے بڑا مخالف قبیلہ بنو ہوازن تھا۔
سوال:غزوۂ حنین کو بعض مؤرخین غزوۂ اوطاس کیوں کہتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کو بعض مؤرخین غزوۂ اوطاس اسلئے کہتے ہیںکیونکہ دشمن کا ایک حصہ شکست کے بعد وادیٔ اوطاس کی طرف بھاگا جہاں مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔
سوال:غزوۂ حنین کا ذکر قرآن کریم میں کہاں آیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کا ذکر قرآن کریم میںسورۃ التوبہ آیات 25 تا 27 میںآیا ہے۔
سوال:قرآن کریم کے مطابق ابتدا ءمیں مسلمانوں کو کس وجہ سے مشکل پیش آئی؟
جواب:ضور انور نے فرمایا:مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر غرور ہو گیا تھا جس وجہ سے ان پر مشکلات آئیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کس طرح فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے رسول ؐ اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور غیبی لشکر اتارے۔
سوال:بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیوں کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اسلام پورے عرب میں غالب آ جائے گا اور ان کی بت پرستی ختم ہو جائے گی۔
سوال:بنو ہوازن کے لشکر کے سپہ سالار کون تھے اور ان کی عمر کیا تھی؟
جواب:مالک بن عوف سپہ سالار تھے اور ان کی عمر تقریباً تیس سال تھی۔
سوال:مالک بن عوف نے جنگ کی تیاری میں کون سا غیر معمولی فیصلہ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مالک بن عوف نے عورتوں، بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لانے کا حکم دیا۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ کون تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:وہ بنو جشم کے ایک سو سال سے زائد عمر کے تجربہ کار جنگجو تھے۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ نے مالک بن عوف کو کیا مشورہ دیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:انہوں نے عورتوں اور بچوں کو پیچھے چھوڑ کر صرف فوج کے ساتھ جنگ کرنے کا مشورہ دیا۔
سوال:مالک بن عوف نے دُرَید کے مشورے کو کیوں رد کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مالک بن عوف نے درید کے مشورہ کو اسلئے رد کیا تھا کیوں کہ اس نے ضد کی اور اپنی رائے کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ کا آخری جنگی مشورہ کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:دُرَید بن صِمَّہ کا آخری جنگی مشورہ یہ تھا کہ گھاٹیوں اور وادیوں میں کمین گاہیں بنا کر اچانک حملہ کیا جائے۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے دشمن کی تیاریوں کی خبر حاصل کرنے کے لیے کس کو بھیجا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے دشمن کی تیاریوں کی خبر حاصل کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن ابو حدرد اسلمیؓ کو بھیجا۔
سوال:حضرت عبداللہ بن ابو حدردؓ نے کیا معلومات فراہم کیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:انہوں نے بتایا کہ بنو ہوازن نے بیس ہزار کا لشکر تیار کیا ہے اور اچانک حملے کا منصوبہ ہے۔
سوال:اسلامی لشکر کو ہتھیاروں کی کمی کیسے پوری کی گئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:صفوان بن امیہ، نوفل بن حارث اور عبداللہ بن ابی ربیعہ سے بطور قرض ہتھیار لیے گئے۔
سوال:صفوان بن امیہ نے زرہیں واپس لینے کی قیمت کیوں قبول نہ کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کیونکہ ان کے دل کی کیفیت بدل چکی تھی اور وہ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تھے۔
سوال:آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا کون سا اعلیٰ پہلو یہاں نمایاں ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نےآنحضرت ﷺ کے اخلاق کاپہلو یہ بیان فرمایاکہ:فتح مکہ کے باوجود ہتھیار غصب نہیں کیے بلکہ قرض پر لیے۔
سوال:خطبہ کے آخر میں حضور انور نے کن دو افراد کے جنازہ غائب کا ذکرفرمایا؟
جواب:خواجہ مختار احمد صاحب بٹ اور سعیدہ بیگم صاحبہ۔
سوال:حضور انور نے خواجہ مختار احمد صاحب بٹ کی نمایاں جماعتی خدمات کیا بیان کیں؟
جواب:قانونی کمیشن، دارالقضاء، فضل عمر فاؤنڈیشن اور ریجنل امیر کینیڈا کے طور پر خدمات۔
سوال:سعیدہ بیگم صاحبہ کی دینی خصوصیات کیا تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مرحومہ نماز، روزہ کی پابند، صابرہ، خلافت سے محبت کرنے والی اور اولاد کی دینی تربیت کرنے والی تھیں۔
سوال:غزوۂ حنین سے ہمیں کیا بنیادی سبق ملتا ہے؟
جواب : حضور انور نے فرمایا: غزوۂ حنین سے ہمیں یہ بنیادی سبق ملتا ہے کہ فتح صرف تعداد یا طاقت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔