سوال: غزوۂ حنین کب اور کہاں پیش آیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں مکہ اور طائف کے درمیان حنین نامی مقام پر پیش آیا۔
سوال:غزوۂ حنین کو غزوۂ ہوازن کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کو غزوۂ ہوازن اسلئے کہا جاتا ہےکیونکہ اس جنگ میں سب سے بڑا مخالف قبیلہ بنو ہوازن تھا۔
سوال:غزوۂ حنین کو بعض مؤرخین غزوۂ اوطاس کیوں کہتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کو بعض مؤرخین غزوۂ اوطاس اسلئے کہتے ہیںکیونکہ دشمن کا ایک حصہ شکست کے بعد وادیٔ اوطاس کی طرف بھاگا جہاں مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔
سوال:غزوۂ حنین کا ذکر قرآن کریم میں کہاں آیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ حنین کا ذکر قرآن کریم میںسورۃ التوبہ آیات 25 تا 27 میںآیا ہے۔
سوال:قرآن کریم کے مطابق ابتدا ءمیں مسلمانوں کو کس وجہ سے مشکل پیش آئی؟
جواب:ضور انور نے فرمایا:مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر غرور ہو گیا تھا جس وجہ سے ان پر مشکلات آئیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کس طرح فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے رسول ؐ اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور غیبی لشکر اتارے۔
سوال:بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیوں کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اسلام پورے عرب میں غالب آ جائے گا اور ان کی بت پرستی ختم ہو جائے گی۔
سوال:بنو ہوازن کے لشکر کے سپہ سالار کون تھے اور ان کی عمر کیا تھی؟
جواب:مالک بن عوف سپہ سالار تھے اور ان کی عمر تقریباً تیس سال تھی۔
سوال:مالک بن عوف نے جنگ کی تیاری میں کون سا غیر معمولی فیصلہ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مالک بن عوف نے عورتوں، بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لانے کا حکم دیا۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ کون تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:وہ بنو جشم کے ایک سو سال سے زائد عمر کے تجربہ کار جنگجو تھے۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ نے مالک بن عوف کو کیا مشورہ دیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:انہوں نے عورتوں اور بچوں کو پیچھے چھوڑ کر صرف فوج کے ساتھ جنگ کرنے کا مشورہ دیا۔
سوال:مالک بن عوف نے دُرَید کے مشورے کو کیوں رد کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مالک بن عوف نے درید کے مشورہ کو اسلئے رد کیا تھا کیوں کہ اس نے ضد کی اور اپنی رائے کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سوال:دُرَید بن صِمَّہ کا آخری جنگی مشورہ کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:دُرَید بن صِمَّہ کا آخری جنگی مشورہ یہ تھا کہ گھاٹیوں اور وادیوں میں کمین گاہیں بنا کر اچانک حملہ کیا جائے۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے دشمن کی تیاریوں کی خبر حاصل کرنے کے لیے کس کو بھیجا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے دشمن کی تیاریوں کی خبر حاصل کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن ابو حدرد اسلمیؓ کو بھیجا۔
سوال:حضرت عبداللہ بن ابو حدردؓ نے کیا معلومات فراہم کیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:انہوں نے بتایا کہ بنو ہوازن نے بیس ہزار کا لشکر تیار کیا ہے اور اچانک حملے کا منصوبہ ہے۔
سوال:اسلامی لشکر کو ہتھیاروں کی کمی کیسے پوری کی گئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:صفوان بن امیہ، نوفل بن حارث اور عبداللہ بن ابی ربیعہ سے بطور قرض ہتھیار لیے گئے۔
سوال:صفوان بن امیہ نے زرہیں واپس لینے کی قیمت کیوں قبول نہ کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کیونکہ ان کے دل کی کیفیت بدل چکی تھی اور وہ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تھے۔
سوال:آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا کون سا اعلیٰ پہلو یہاں نمایاں ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نےآنحضرت ﷺ کے اخلاق کاپہلو یہ بیان فرمایاکہ:فتح مکہ کے باوجود ہتھیار غصب نہیں کیے بلکہ قرض پر لیے۔
سوال:خطبہ کے آخر میں حضور انور نے کن دو افراد کے جنازہ غائب کا ذکرفرمایا؟
جواب:خواجہ مختار احمد صاحب بٹ اور سعیدہ بیگم صاحبہ۔
سوال:حضور انور نے خواجہ مختار احمد صاحب بٹ کی نمایاں جماعتی خدمات کیا بیان کیں؟
جواب:قانونی کمیشن، دارالقضاء، فضل عمر فاؤنڈیشن اور ریجنل امیر کینیڈا کے طور پر خدمات۔
سوال:سعیدہ بیگم صاحبہ کی دینی خصوصیات کیا تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مرحومہ نماز، روزہ کی پابند، صابرہ، خلافت سے محبت کرنے والی اور اولاد کی دینی تربیت کرنے والی تھیں۔
سوال:غزوۂ حنین سے ہمیں کیا بنیادی سبق ملتا ہے؟
جواب : حضور انور نے فرمایا: غزوۂ حنین سے ہمیں یہ بنیادی سبق ملتا ہے کہ فتح صرف تعداد یا طاقت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔