سوال: خطبہ کے آغاز میں حضور انور نے کون سی قرآنی آیت تلاوت فرمائی؟
جواب:خطبہ کے آغاز میں حضور انور نےسورۃ النحل آیت 103کی تلاوت فرمائی۔
سوال:اللہ تعالیٰ کی صفت قدوس سے سب سے زیادہ فیض پانے والی ہستی کون تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل انسان اور کامل نبی تھے جنہوں نے صفتِ قدوس کو کامل طور پر اپنے اوپر چڑھایا۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے امت کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ نے امت کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے یہ نصیحت فرمائی کہ دلوں اور اعمال سے تمام کجیوں کو دور کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کیا جائے۔
سوال: آنحضرت ﷺ رکوع میں کون سی دعا پڑھا کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ رکوع میں یہ دعا پڑھتے تھے کہ سُبُّوْحٌ، قُدُّوْسٌ، رَبُّ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔
سوال:تسبیح، تہلیل اور تقدیس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ ان اذکار کو لازم پکڑنے، انگلیوں کے پوروں پر گننے اور غفلت سے بچنے کی نصیحت فرمائی۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے دم کے لیے کون سی دعا سکھائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے دم کے لیےجو دعا سکھائی وہ یہ ہے کہ ایسی دعا کی جائے جس میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت، رحمت، مغفرت اور شفا کی التجا شامل ہے، اور معوذتین تین مرتبہ پڑھنے کی ہدایت دی۔
سوال:قدوسیت اور تقدیس کب فائدہ مند ثابت ہوتی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:قدوسیت اور تقدیس تب فائدہ مند ثابت ہوتی ہےجب صاحبِ اختیار لوگ کمزوروں، محتاجوں اور زیردستوں کے حقوق انصاف کے ساتھ ادا کریں۔
سوال:قحط اور قلتِ زاد کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے کیا معجزہ دکھایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ نےبچھی کھچی اشیاء جمع کروا کر دعا فرمائی، جس سے تھوڑا سا کھانا سب کے لیے کافی ہو گیا۔
سوال:حرمتِ شراب کے اعلان پر صحابہؓ کا ردِعمل کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:انہوں نے فوراً شراب بہا دی اور بغیر کسی سوال کے حکم کی تعمیل کی۔
سوال:عبداللہ بن اُبیّ کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا طرزِ عمل اختیار فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نےبدلہ لینے کے بجائے حسنِ سلوک اور درگزر کا راستہ اختیار فرمایا۔
سوال:حضرت علیؓکے واقعہ سے کون سا اخلاقی سبق ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت علیؓ کے واقعہ سےہمیں یہ اخلاقی سبق ملتا ہے کہ جنگ اور عمل صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے، ذاتی غصہ یا نفس شامل نہیں ہونا چاہیے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق بعثتِ نبویؐ سے پہلے عرب کی حالت کیسی تھی؟
جواب:شرک، ظلم، بدکاری، شراب نوشی، جوا، قتل، عورتوں کی بے حرمتی اور اخلاقی پستی عام تھی۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے عرب قوم میں کیا انقلاب برپا کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے وحشی قوم کو با اخلاق، موحد، خدا ترس اور عبادت گزار انسانوں میں بدل دیا۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق اسلام کی تعلیم کے تین بنیادی مدارج کون سے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق اسلام کی تعلیم کے تین بنیادی مدارج یہ ہیں:انسان بنانا،اخلاقِ کاملہ تک پہنچانا،محبتِ الٰہی اور قربِ خداوندی عطا کرنا۔
سوال:قرآن کریم کو خاتم الکتب کیوں کہا گیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم کو خاتم الکتب اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسی کامل ترین تھی، اس لیے قرآن تمام سابقہ کتب سے کامل تر ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسی کی خاص نشانی کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسی کی خاص نشانی یہ کہ آپؐکی روحانی تاثیرات ابد تک جاری رہنے والی ہیں۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا بنیادی مقصد کیا بیان ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اسلام کے زندہ معجزات، روحانی برکات اور آنحضرت ﷺ کی سچائی کو دوبارہ ظاہر کرنا۔
سوال:خطبہ کے آخر میں حضور انور نے کس کے لیے دعا کی اپیل فرمائی؟
جواب:خطبہ کے آخر میں حضور انور نے مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب (ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ قادیان) کی شدید علالت کے باعث دعا کی اپیل فرمائی۔
سوال:اس خطبہ کا مرکزی سبق کیا ہے؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی سبق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسی آج بھی زندہ ہے، مگر اس سے فیض پانے کے لیے دلوں کی پاکیزگی ضروری ہے۔