اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 29؍اگست 2025بطرز سوال وجواب

فتحِ مکہ کے بعد اسلامی قیادت کی بنیادیں اور غزوۂ حنین کے روحانی و عملی اسباق
حضرت عتابؓکی تقرری سے نصرتِ الٰہی تک

 

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 29؍اگست 2025بطرز سوال وجواب
بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

 

سوال:فتحِ مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے مکہ کا امیر کس کو مقرر فرمایا اور اس تقرری کی اہمیت کیا تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَتَّاب بن اَسِیدؓکو مکہ کا امیر مقرر فرمایا۔ یہ مکہ کے پہلے امیر تھے جو اسلامی حکومت کے تحت مقرر ہوئے۔ اس تقرری کی بڑی اہمیت یہ تھی کہ حضرت عتابؓ اس وقت تقریباً بیس سال کے نوجوان تھے، مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے انہیں اس اہم ذمہ داری پر فائز فرمایا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں قیادت کے لیے عمر نہیں بلکہ تقویٰ، صلاحیت اور امانت داری معیار ہے۔
سوال:حضرت عتابؓکا اسلام قبول کرنے سے پہلے کا رویہ کیسا تھا اور ان کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی رؤیا کیا تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:فتح مکہ سے قبل حضرت عتابؓ اسلام کے سخت مخالف تھے۔ یہاں تک کہ جب حضرت بلالؓ نے خانہ کعبہ میں اذان دی تو انہوں نے کہا کہ شکر ہے میرا باپ یہ اذان سننے سے پہلے فوت ہو چکا۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک خواب میں ان کے والد اسید بن ابوالعیص کو اسلام کی حالت میں مکہ کا عامل دیکھا تھا، حالانکہ وہ کفر کی حالت میں فوت ہوئے تھے۔ اس رؤیا کی تعبیر حضرت عتابؓکی صورت میں ظاہر ہوئی، جب انہیں مکہ کا امیر مقرر فرمایا گیا۔
سوال:غزوۂ حنین کے لیے رسول اللہ ﷺ کب اور کیسے روانہ ہوئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھ یا پانچ شوال کو مکہ سے روانہ ہوئے اور دس شوال کو مقام حنین پہنچے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ ازواجِ مطہرات میں سے حضرت ام سلمہؓ اور حضرت زینبؓ تھیں (بعض روایات میں حضرت میمونہؓ کا ذکر بھی آتا ہے)۔ لشکر تین سے پانچ دن کے سفر کے بعد حنین کی وادی میں پہنچا۔
سوال:غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد کتنی تھی اور یہ کیوں اہم ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اکثر روایات کے مطابق مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ ان میں دس ہزار مدینہ سے آئے ہوئے صحابہؓ اور دو ہزار اہلِ مکہ کے نو مسلم شامل تھے۔ بعض نے چودہ ہزار بھی بتایا، مگر زیادہ معتبر قول بارہ ہزار کا ہے۔ یہ تعداد اس لیے اہم ہے کہ یہ مسلمانوں کا اب تک کا سب سے بڑا لشکر تھا، جس پر بعض افراد کو فخر اور عُجب ہو گیا، اور قرآن نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ فرمایا:ــ’’اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ‘‘(التوبہ: 25)
سوال:ذاتِ اَنْوَاط کے واقعہ میں نو مسلموں نے کیا مطالبہ کیا اور آنحضرت ﷺ نے کیا جواب دیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:راستے میں ایک درخت ’’ذاتِ اَنْوَاط‘‘ تھا جس پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے اور اس سے تبرک لیتے تھے۔ چند نو مسلموں نے درخواست کی کہ ہمارے لیے بھی ایسا درخت مقرر کر دیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے وہی بات کہی جو موسیٰؑ کی قوم نے کی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دو۔ آپ ﷺ نے انہیں سختی سے تنبیہ فرمائی کہ تم بھی پچھلی امتوں کی راہوں پر چلنا چاہتے ہو، حالانکہ یہ شرک کا راستہ ہے۔
سوال:کیا غزوۂ حنین میں مشرکین کی مدد لی گئی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بعض سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں مشرکین بھی شامل تھے، مگر درست بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی مشرک سے مدد نہیں لی۔ مکہ سے کچھ مشرکین خود ہی تماشائی یا مالِ غنیمت کی نیت سے ساتھ ہو گئے تھے، مگر انہیں نہ تو لشکر کا حصہ بنایا گیا اور نہ ہی ان سے باقاعدہ مدد لی گئی۔ نبی کریم ﷺ کا اصول یہی تھا: اِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ یعنی ہم مشرک سے مدد نہیں لیتے۔
سوال:ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کو پسپائی کیوں اختیار کرنی پڑی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب مسلمان وادی حنین میں داخل ہوئے تو دشمن کی ابتدائی صفیں پیچھے ہٹنے لگیں۔ مسلمانوں کے بعض افراد، خصوصاً نو مسلم، مالِ غنیمت اکٹھا کرنے میں مشغول ہو گئے۔ اسی وقت گھاٹیوں میں چھپے چار ہزار تیراندازوں نے یکبارگی تیر برسائے۔نو مسلموں کے پاس نہ مناسب حفاظتی سازوسامان تھا اور نہ جنگی تجربہ، اس لیے وہ گھبرا کر بھاگے۔ ان کے بھاگنے سے گھوڑے اور اونٹ بدک گئے اور پورے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔
سوال:اس نازک موقع پر رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب بہت سے لوگ منتشر ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ چند جان نثار صحابہؓ کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے۔ آپ ﷺ سفید خچر پر سوار تھے اور بلند آواز سے فرماتے تھے:
’’اَنَا النَّبِیُّ لَا كَذِبْ، اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ‘‘ میں نبی ہوں، یہ کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔حضرت عباسؓ کو فرمایا کہ اصحابِ سمرہ (بیعت رضوان والے صحابہؓ) کو پکارو۔ حضرت عباسؓ کی پکار پر صحابہؓ دیوانہ وار واپس لوٹے اور دوبارہ منظم ہو کر دشمن پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔
سوال:حضرت مصلح موعودؓ نے اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے فرمان ’’ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘‘ کی کیا تشریح کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس فرمان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ ﷺ کسی خدائی طاقت کے بل پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ بلکہ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ میں بشر ہوں، عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد میرے ساتھ میرے نبی ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ آپ ﷺ کی تواضع، انسانیت اور توکل علی اللہ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔
سوال:کیا حنین کے دن تمام مسلمان فرار ہو گئے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حنین کے دن تمام مسلمان فرارنہیں ہوئے۔ امام نووی کے مطابق بھاگنے والے زیادہ تر وہ نو مسلم یا وہ لوگ تھے جو دل سے لڑائی کے لیے تیار نہیں تھے یا محض مالِ غنیمت اور تماشے کے لیے ساتھ آئے تھے۔ تاہم ان کے بھاگنے اور دشمن کی شدید تیراندازی کے باعث بہت سے مخلص مسلمان بھی بدکنے والی سواریوں کی وجہ سے وقتی طور پر منتشر ہو گئے۔