اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ04مئی 2007 بطرز سوال وجواب

حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒ کی زندگی
اور خلافت سے وفاداری کے درخشاں نمونے

سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒکی زندگی کا بنیادی وصف کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپؒکی زندگی درویشی، قربانی، عاجزی، خدمتِ دین، خلافت سے وفاداری اور مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت سے عبارت تھی۔ آپؒنے اپنی ذات کو کبھی نمایاں نہ کیا بلکہ جماعت اور خلافت کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔
سوال: قادیان میں آپؒکی موجودگی کو کیوں غیر معمولی اہمیت حاصل تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ کے پوتے اور حضرت مصلح موعودؓ کے بیٹے ہونے کے باعث آپؒکی قادیان میں موجودگی درویشانِ قادیان کے لیے حوصلہ، استقامت اور خلافت سے وابستگی کی علامت تھی۔ مشکل حالات میں یہ احساس کہ خاندانِ مسیح کا ایک فرد قادیان میں موجود ہے، جماعت کے لیے بڑی تسلی کا باعث تھا۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے بیٹے کو قادیان واپس بھیجنے کی کیا وجہ بیان کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ اگر تم پاکستان میں رُکے رہے تو خاندانِ حضرت مسیح موعودؑ کا کوئی فرد قادیان میں باقی نہیں رہے گا، اور پھر لوگ قربانی کیسے دیں گے؟ اس لیے فوراً واپس جانا ضروری ہے تاکہ درویشان کے حوصلے بلند رہیں۔
سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒ نے اطاعتِ امیر اور خلافت سے وابستگی کا کیا نمونہ قائم کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؒنے ہمیشہ خود کو ایک عام کارکن سمجھا۔ کوئی ہدایت آتی تو بلا چون و چرا اس کی تعمیل کرتے۔ حتیٰ کہ شدید بیماری میں بھی جماعتی امور کی نگرانی کرتے اور خلیفہ وقت کی ہدایات پر عمل کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے تھے۔
سوال: قادیان کے درویشوں کے ابتدائی حالات کیسے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: شروع میں قادیان کے درویش شدید غربت، خوف اور معاشی تنگی میں مبتلا تھے۔ خوراک کی قلت تھی، اردگرد دشمنی کا ماحول تھا اور حکومتی ادارے بھی شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان حالات میں حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒ نے صبر، دعا اور حوصلے سے قیادت کی۔
سوال:1971ء میں قادیان سے احمدیوں کو نکالنے کی کوشش پر آپؒکا ردعمل کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپؒنے درویشان کو مسجد مبارک میں جمع کر کے اعلان کیا کہ قادیان ہمارا دائمی مرکز ہے، ہم یہاں سے ہرگز نہیں جائیں گے۔ فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں زبردستی بھی نکالے تو ہم جان قربان کر دیں گے مگر مقاماتِ مقدسہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس موقع پر پوری رات دعا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس خطرے کو ٹال دیا۔
سوال: خلافت سے آپؒکی محبت کا ایک نمایاں واقعہ کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒکی وفات کے بعد، انتخابِ خلافت سے پہلے ہی آپؒنے بیعت کا خط لکھ دیا اور فرمایا کہ میں کسی چہرے کی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعودؑ کی خلافت کی بیعت کرتا ہوں۔ جو بھی خلیفہ بنے گا، میں اسی کی بیعت کروں گا۔
سوال: آپؒنے غیر مسلموں سے کس قسم کے تعلقات قائم کیے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپؒکے اخلاق، انسان دوستی اور خدمتِ خلق کی وجہ سے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم بھی آپ کے گرویدہ تھے۔ آپؒکی وفات پر سیاست دان، وکلاء، تاجر اور عام لوگ تعزیت کے لیے آئے اور آپؒکی انسانیت نوازی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒکی نمایاں عملی خدمات کیا تھیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:درویشانِ قادیان کی قیادت اور حوصلہ افزائی،جماعتی املاک کی واگزاری کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطےمسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی نگرانی غرباء، بیماروں اور بیواؤں کی مدد جماعتی تنظیم، تبلیغ اور مالی تحریکات میں پیش قدمی۔
سوال: آپؒکا مالی قربانی اور دیانت کے بارے میں کیا رویہ تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؒنے اپنی زندگی میں تمام مالی معاملات صاف کیے، وصیت کی باقاعدہ ادائیگی کی، اور وفات سے چند دن پہلے بھی چندہ و تحریکات کی ادائیگی مکمل کی۔ کسی حق کو مؤخر کرنا آپؒ کے مزاج میں شامل نہ تھا۔
سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒکی دعا اور توکل کا کیا مقام تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؒکثرت سے بیت الدعاء اور مقدس مقامات پر نوافل ادا کرتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے قادیان کی حفاظت نہیں کی بلکہ مقاماتِ مقدسہ کی دعاؤں نے ہماری حفاظت کی ہے۔ آپؒہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے منسوب کرتے تھے۔
سوال: حضور انور نے قادیان کے رہنے والوں اور جماعت کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نئی نسل کو بزرگوں کی قربانیوں کو زندہ رکھنا چاہیے، نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنی چاہیے، ایک دوسرے سے محبت اور بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے اور قادیان کے مقاماتِ مقدسہ پر دعا و عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنا چاہیے۔
سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحبؒکی زندگی کا مجموعی پیغام کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ تھی کہ ’’عظمت نسب میں نہیں بلکہ قربانی، اطاعت، عاجزی اور خدمتِ دین میں ہے۔‘‘ انہوں نے درویشی، خلافت سے وفاداری، انسان دوستی اور دعا کے ذریعے یہ دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اسی راستے میں ہے۔