اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-29

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ5؍ستمبر 2025بطرز سوال وجواب

سوال :حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ النور کی کس آیت کی تفسیر میں جنگِ حنین کا ذکر فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ النور کی آیت نمبر64 میں جنگ حنین کا ذکر فرمایاہے۔
سوال:اس آیت کا بنیادی مضمون کیا ہے؟
جواب:اس آیت کا بنیادی مضمون یہ ہے کہ رسول ﷺ کی پکار کو عام انسانوں کی پکار جیسا نہ سمجھا جائے بلکہ فوراً، بلا تاخیر اس پر لبیک کہا جائے، کیونکہ رسول کی نافرمانی فتنہ اور عذاب کا موجب بن سکتی ہے۔
سوال :حضرت مصلح موعودؓ کے نزدیک نبی کی آواز پر لبیک کہنا کیوں ضروری ہے؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ کے نزدیک نبی کی آواز پر لبیک کہنا اسلئے ضروری ہےکیونکہ نبی کی آواز پر فوراً لبیک کہنا ایمان کی بڑی علامت ہے اور روحانی ترقی اور کامیابی اسی میں مضمر ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی نماز میں ہو تب بھی نبی کی آواز پر توجہ دینا فرض ہو جاتا ہے۔
سوال :غزوۂ حنین میں مسلمانوں کو ابتداء ً کس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:دشمن کے ماہر تیر اندازوں کی اچانک یلغار سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور لشکر منتشر ہو گیا۔
سوال :اس نازک وقت میں رسول کریم ﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس نازک وقت میں آپ ﷺ ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے، بلکہ آگے بڑھے اور بلند آواز سے فرمایا:اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ، اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ
سوال :اس اعلان کا مفہوم کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس اعلان کا مفہوم یہ ہے کہ میں سچا نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، اللہ کی حفاظت میرے ساتھ ہے، مگر میں خدا نہیں بلکہ عبدالمطلب کا بیٹا ایک انسان ہوں۔
سوال :جب حضرت عباسؓنےکہا ’’اے سورۂ بقرہ کے صحابیو! اے بیعتِ رضوان والو! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے‘‘ تو صحابہ پر اس کا کیا اثر ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب حضرت عباسؓ نےکہا ’’اے سورۂ بقرہ کے صحابیو! اے بیعتِ رضوان والو! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے‘‘ تو صحابہؓ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے صورِ اسرافیل کی آواز ہو، وہ ہر چیز چھوڑ کر رسول ﷺ کی طرف دوڑ پڑے۔
سوال :جنگ کا نقشہ کس طرح تبدیل ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:منتشر لشکر دوبارہ جمع ہو گیا، دشمن پر بھرپور حملہ ہوا اور شکست فتح میں بدل گئی۔
سوال :کن صحابہؓ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مہاجرین و انصار میں حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، ابن مسعودؓ، ابو دجانہؓ، سعد بن عبادہؓ، اسید بن حضیرؓ اور دیگر صحابہؓ ثابت قدم رہے۔
سوال :کن صحابیاتؓ نے غزوۂ حنین میں بہادری دکھائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت اُمِّ سُلیمؓ، اُمِّ عمارہؓ، اُمِّ حارثؓ اور اُمِّ سُلیطؓنے غزوۂ حنین میں بہادری دکھائی۔
سوال :حضرت اُمِّ سُلیمؓ کے واقعہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت اُمِّ سُلیمؓ کے واقعہ سے یہ سبق ملتا ہےیہ کہ رسول ﷺ سے محبت انسان کو خوف، کمزوری اور حمل کی حالت میں بھی بے مثال جرأت عطا کر دیتی ہے۔
سوال :رسول کریم ﷺ نے دشمن پر کنکریاں پھینکتے وقت کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول کریم ﷺ نے دشمن پر کنکریاں پھینکتے وقت فرمایا:محمد کے رب کی قسم! یہ لوگ شکست کھا گئےیاکعبہ کے رب کی قسم! یہ لوگ ہار گئے۔
سوال :کنکریاں پھینکنے کا دشمن پر کیا اثر ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کنکریاں پھینکنے کا دشمن پر یہ اثر ہوا کہ دشمن کی آنکھوں میں جلن پیدا ہو گئی، ان کا حملہ ماند پڑ گیا اور وہ بدحواسی میں بھاگ نکلے۔
سوال :شَیبہ بن عثمان کا واقعہ کیا سبق دیتا ہے؟
جواب:شَیبہ بن عثمان کا واقعہ یہ سبق دیتا ہےکہ رسول کریم ﷺ کی دعا اور محبت دشمنی کو ایمان، نفرت کو عشق اور قتل کے ارادے کو جان نچھاور کرنے میں بدل دیتی ہے۔
سوال :نُضَیر بن حارث کے واقعہ کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:نُضَیر بن حارث کے واقعہ کا بنیادی پیغام یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی پیدا کر دے تو بدترین ارادے بھی ہدایت اور ثباتِ ایمان میں بدل جاتے ہیں۔
سوال :اس خطبہ جمعہ کا مجموعی پیغام کیا ہے؟
جواب:اس خطبہ جمعہ کا مجموعی پیغام یہ ہےکہ کامیابی کثرتِ تعداد، طاقت یا غرور میں نہیں بلکہ اطاعتِ رسول ﷺ، توکل علی اللہ، عاجزی اور ثابت قدمی میں ہے۔