سوال: حضرت مسیح موعودؑ اسلام کی حقیقت کو کس رنگ میں بیان فرماتے ہیں؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک اسلام ایک زندہ اور خدا نما مذہب ہے۔ اگر کوئی انسان سچے دل، کامل اخلاص اور کامل اطاعت کے ساتھ اس پر عمل کرے تو وہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے۔ اسلام دراصل خدا دانی، خداترسی اور اعلیٰ تقویٰ کا وہ راستہ ہے جس کے فیوض صرف اسی صورت میں حاصل ہوتے ہیں جب قرآنِ کریم کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔
سوال: اسلام کے نام اور اس کی اصل حقیقت میں کیا گہرا تعلق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اسلام کا نام ہی اس کے مقصد کو واضح کر دیتا ہے۔ اسلام کا آخری نتیجہ امن، سلامتی، محبت اور بھائی چارہ ہے۔ قرآنِ کریم کے تمام احکامات انسان کو برائیوں سے بچا کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جاتے ہیں، اور یہی راستہ خدا تعالیٰ کے قرب اور معرفت تک پہنچاتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت ’’السلام‘‘ ایک مومن کے لیے کیا عملی سبق رکھتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا نام ’’السلام‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو دنیا اور آخرت میں سلامتی عطا فرماتا ہے۔ ایک سچے مومن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے کردار میں ظاہر کرے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک اسلام کے اصطلاحی معنی کیا ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک اسلام کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ انسان اپنا پورا وجود اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، اعتقادی اور عملی طور پر صرف خدا کا ہو جائے، نیکی میں ثابت قدم رہے اور اپنی تمام قوتیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں لگا دے۔
سوال: قرآنِ کریم لغویات اور فساد کے مقابل پر کیا تعلیم دیتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ قرآنِ کریم مومنوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کریں اور فساد کے جواب میں فساد اختیار نہ کریں بلکہ ’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ‘‘ کہہ کر بدی سے کنارہ کش ہو جائیں۔ یہ طرزِ عمل کمزوری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اختیار کی گئی اعلیٰ اخلاقی روش ہے۔
سوال: ایک احمدی مسلمان کو فساد اور قانون شکنی کے بارے میں کیا رویہ اپنانا چاہیے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ وہ گالی گلوچ، توڑ پھوڑ اور انتشار سے مکمل اجتناب کرتا ہے، کیونکہ اسلام سراسر سلامتی کا مذہب ہے۔ بدی سے بچنا بزدلی نہیں بلکہ بلند اخلاق اور پختہ دینی شعور کی علامت ہے۔
سوال: سلام پھیلانے کی فضیلت کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی کیا تعلیم ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے سلام کو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام قرار دیا اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ اسے زمین میں عام کریں۔ سلام کرنے والا اگر جواب نہ بھی پائے تو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے سلامتی کا تحفہ ضرور پاتا ہے۔
سوال: صبر کرنے والے مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا کیا وعدہ ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صبر کرتے ہیں، ان پر فرشتے ہر دروازے سے داخل ہو کر سلام بھیجتے ہیں۔ یہ سلام اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کا صبر قبول ہو گیا اور ان کے لیے دائمی جنتوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔
سوال: کن نیک اعمال کے نتیجے میں مومن سلامتی کا وارث بنتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ ان نیک اعمال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت، دین کی خدمت، تبلیغِ اسلام، حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد کی ادائیگی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، محتاجوں کی مدد، امانت داری اور وعدوں کی پابندی شامل ہیں۔
سوال: حسنِ ظن معاشرتی امن کے لیے کیوں ناگزیر ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ بدظنی جھگڑوں، نفرتوں اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتی ہے، جبکہ حسنِ ظن معاشرے میں اعتماد، سکون اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ ایک احمدی کو بدگمانی سے بچتے ہوئے ہمیشہ مثبت سوچ اختیار کرنی چاہیے۔
سوال: سچائی اور صفتُ السلام میں کیا تعلق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ سچائی اللہ تعالیٰ کی سلامتی کے فیض کو حاصل کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ جھوٹ انسان کو خدا تعالیٰ سے دُور اور ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، جبکہ سچائی پر قائم رہنے والا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے۔
سوال: عفو اور سزا کے بارے میں اسلامی تعلیم کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اسلام اندھی معافی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ موقع و محل کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جہاں معافی سے اصلاح اور امن پیدا ہو وہاں عفو افضل ہے، اور جہاں سزا سے معاشرتی سلامتی قائم ہو وہاں سزا ضروری ہوتی ہے۔
سوال: عدل و انصاف کا معاشرتی امن میں کیا کردار ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ جس معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہو وہاں امن اور سلامتی خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ انصاف کے بغیر نہ فرد محفوظ رہتا ہے اور نہ قوم، اور انصاف سے انحراف معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدۂ سلامتی کا مفہوم کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ آسمان اور زمین ان کے ساتھ ہیں اور سلامتی ان کے دامن میں ہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی اور خدائی تائیدات اس وعدۂ الٰہی کی زندہ شہادت ہیں۔
سوال: مخالفت اور ابتلاء کے باوجود جماعت احمدیہ کو کیا تسلی دی گئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اگرچہ بعض ممالک میں احمدیوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے، مگر یہ ابتلاء ایمان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور سلامتی ہمیشہ جماعت کے ساتھ ہے۔
سوال: اس خطبہ کا مرکزی اور جامع پیغام کیا ہے؟
جواب: اس خطبہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایک سچا مسلمان اور احمدی وہ ہے جو صفتُ السلام کا عملی نمونہ بنے، نیک اعمال اختیار کرے، صبر، عدل، سچائی اور حسنِ اخلاق کے ذریعے دنیا میں امن اور سلامتی پھیلائے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا وارث بنے۔