اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-19

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ19؍ستمبر 2025بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: غزوۂ طائف میں اہلِ طائف نے کس طرح عہد شکنی کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اہلِ طائف نے ایک صحابی کو ضمانت دی کہ انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، مگر جب وہ قلعہ کے قریب پہنچے تو انہیں شہید کر دیا گیا۔ اس کے باوجود رسولِ کریم ﷺ نے مصالحت کی کوشش ترک نہیں فرمائی، جو آپؐکے اعلیٰ اخلاق اور صبر کی دلیل ہے۔
سوال:حضرت حنظلہ بن ربیعؓ کے واقعہ سے کون سا نمایاں سبق ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت حنظلہؓ کو اہلِ طائف نے دھوکے سے پکڑنے کی کوشش کی، مگر رسول اللہﷺ کے اعلان پر حضرت عباسؓ نے جان کی پروا کیے بغیر انہیں بچا لیا۔ اس سے صحابہؓ کی جانثاری، اطاعت اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ سامنے آتا ہے۔
سوال:اہلِ طائف کے باغات کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے کیا فیصلہ فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اہلِ طائف کے باغات کے بارے میں نبی کریم ﷺ نےیہ فیصلہ فرمایاکہ اگرچہ باغات کو نقصان پہنچانا جنگی حکمتِ عملی کے تحت مسلمانوں کے حق میں فائدہ مند ہو سکتا تھا، مگر جب اہلِ طائف نے اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغات کو نقصان پہنچانے کا حکم واپس لے لیا۔ یہ فیصلہ اعلیٰ ظرفی، رحم اور صلہ رحمی کی مثال ہے۔
سوال:قلعہ سے اترنے والے غلاموں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے کیا سلوک فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جو غلام قلعہ سے اتر کر آئے، آپ ﷺ نے سب کو آزاد فرما دیا، ان کی کفالت مسلمانوں کے سپرد کی اور دین سکھانے کی تاکید فرمائی۔ بعد میں جب اہلِ طائف مسلمان ہوئے اور غلام واپس مانگے تو آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔
سوال:عُیَیْنَہ بن حصن فزاری کا واقعہ کیا سبق دیتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:عُیَیْنَہ نے اسلام کی دعوت دینے کے بجائے دشمن کو حوصلہ دیا اور واپس آکر جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حقیقت بتا دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری اسلام ہمیشہ حقیقی ایمان کی ضمانت نہیں ہوتا۔
سوال:محاصرہ طائف ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب، اشارے اور مشوروں کے ذریعے یہ واضح ہوا کہ فی الحال فتح مقدر نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حکمت، اطاعتِ الٰہی اور دوراندیشی سے محاصرہ ختم کر دیا، حالانکہ بظاہر فتح ممکن نظر آتی تھی۔
سوال:بغیر فتح واپسی پر بعض صحابہؓ کے ردعمل سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جوشیلے نوجوانوں نے جنگ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی، مگر عملی تجربے کے بعد خود مان گئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ درست تھا۔ اس سے اطاعتِ رسولؐ اور تجربہ سے سیکھنے کا درس ملتا ہے۔
سوال:حضرت ابوسفیانؓکی آنکھ کے واقعہ سے کون سا عظیم سبق ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوسفیانؓ نے دنیاوی بینائی پر اخروی جنت کو ترجیح دی۔ یہ واقعہ ایمان کی قوت، قربانی اور آخرت کی ترجیح کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
سوال:طائف کے محاصرے کا دورانیہ کتنا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مختلف روایات کے مطابق محاصرہ 10، 17، 20، 30 حتیٰ کہ 40 راتوں تک رہا۔ اس اختلاف کے باوجود یہ ثابت ہے کہ محاصرہ طویل اور صبر آزما تھا۔
سوال:واپسی پر نبی کریم ﷺ نے بنو ثقیف کے لیے کیا دعا فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:واپسی پر نبی کریم ﷺ نے بنو ثقیف کے لیے دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا وَاْتِ بِھِمْ مُسْلِمِیْنَ۔ اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے اور انہیں مسلمان بنا کر لے آ۔یہ دعا قبول ہوئی اور ایک سال کے اندر بنو ثقیف مسلمان ہو گئے۔
سوال:حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم میں کون سا بنیادی اصول نمایاں تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مالِ غنیمت کا بڑا حصہ تالیفِ قلب کے لیے دیا گیا، خاص طور پر نئے مسلمان سرداروں کو۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے کچھ محفوظ نہیں کیا۔
سوال:حکیم بن حزامؓ کے واقعہ سے کون سا اخلاقی سبق ملتا ہے؟
جواب: آپ ﷺ کی نصیحت نے انہیں ایسا متاثر کیا کہ انہوں نے زندگی بھر کسی سے کچھ نہ مانگنے کا عہد کیا اور خلفائے راشدین کے عطیات بھی قبول نہ کیے۔ یہ قناعت اور خودداری کی اعلیٰ مثال ہے۔
سوال:ذوالخویصرہ کے اعتراض پر رسول اللہ ﷺ کا ردعمل کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ ﷺ نے عدل پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار فرمایا، صحابہؓ کو قتل سے روکا اور واضح فرمایا کہ مجھے لوگوں کے دل چیرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہی شخص بعد میں خوارج کا بانی بنا۔
سوال:اس خطبہ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
جواب: یہ خطبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں، رحمت، حکمت اور اخلاق سے پھیلتا ہے،وقتی شکست بھی الٰہی منصوبے کا حصہ ہو سکتی ہے،عدل، صبر، تالیفِ قلب اور اطاعتِ رسولؐ ہی اصل کامیابی ہیں۔