اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-26

غزوۂ حنین کے واقعات اور انصار کی مثال اطاعت، اخلاص اور قربانی کے روحانی اسباق خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ26؍ستمبر 2025بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: غزوۂ حنین میں مالِ غنیمت کس اصول کے تحت تقسیم کیا گیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ رسولِ کریم ﷺ نے مالِ غنیمت کو حکمت اور دینی مصلحت کے تحت تقسیم فرمایا۔ خمس (پانچواں حصہ) مؤلّفۃ القلوب یعنی نو مسلم سردارانِ قریش اور مختلف عرب قبائل کو دیا گیا تاکہ ان کے دل اسلام کی طرف مزید مائل ہوں، ایمان مضبوط ہو اور اسلام کی اجتماعی قوت میں اضافہ ہو۔ یہ تقسیم کسی ذاتی ترجیح کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلام کی وسیع مصلحت کے پیش نظر تھی۔
سوال: بعض انصار کے دل میں کیا خیال پیدا ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ کچھ نوجوان انصار کے دل میں وقتی طور پر یہ خیال پیدا ہوا کہ قریش کو زیادہ حصہ دیا جا رہا ہے، حالانکہ انصار نے ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مدد کی، جان و مال کی قربانیاں دیں اور اسلام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ایک انسانی فطری احساس تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے محبت سے دور فرمایا۔
سوال: رسول اللہ ﷺ نے انصار کو کس انداز میں مخاطب فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے انصار کو الگ جمع کر کے نہایت شفقت، محبت اور حکمت سے خطاب فرمایا۔ آپ ﷺ نے انہیں یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے انہیں گمراہی سے ہدایت، دشمنی سے بھائی چارہ اور غربت سے خوشحالی عطا فرمائی۔ اس انداز نے انصار کے دلوں کو مزید نرم اور مطمئن کر دیا۔
سوال: انصار کے لیے سب سے بڑی سعادت کیا بیان کی گئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ دنیاوی مال لے جائیں جبکہ تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ یعنی حقیقی کامیابی اور سعادت رسول اللہ ﷺ کی قربت اور روحانی تعلق ہے، نہ کہ دنیاوی مال و دولت۔
سوال: انصار کی عظمت کے بارے میں حضور ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے انصار کی بے مثال وفاداری اور اخلاص کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اگر لوگ ایک راستہ اختیار کریں اور انصار دوسرا، تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا۔ یہ انصار کے مقام اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا عظیم اظہار تھا۔
سوال: انصار کے حق میں حضور ﷺ کی دعا کیا تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: اے اللہ! انصار پر، ان کی اولاد پر اور ان کی آنے والی نسلوں پر اپنا خاص رحم اور فضل نازل فرما۔ یہ دعا انصار کی قربانیوں کی قدردانی اور ان کے مقام کی دلیل ہے۔
سوال: انصار کا ردعمل کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے محبت بھرے الفاظ سن کر انصار جذباتی ہوگئے، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی صحبت اور محبت ہی کافی ہے، ہم آپ ﷺ کی تقسیم پر پوری طرح راضی ہیں۔
سوال: اس واقعہ سے کیا بنیادی سبق حاصل ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ مومن کو دنیاوی فائدہ، مال یا منصب کی امید کے بغیر اخلاص کے ساتھ خدمت کرنی چاہیے اور اللہ کے فیصلوں پر کامل رضا اختیار کرنی چاہیے۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ سے کیا نصیحت اخذ فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کی روشنی میں نصیحت فرمائی کہ اگر قربانی دنیاوی مفاد یا ذاتی فائدے کے لیے ہو تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ حقیقی قربانی وہی ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جائے اور جس میں ذاتی خواہش شامل نہ ہو۔
سوال: انصار اللہ کے لیے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ انصار اللہ کو چاہیے کہ خدمت، تجربہ یا قربانی کی بنیاد پر دل میں کوئی ذاتی توقع پیدا نہ ہونے دیں۔ اگر ایسا احساس آئے تو فوراً اسے دور کر کے اخلاص، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں۔
سوال: بدوؤں کے واقعہ سے کون سا اخلاقی سبق ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدتمیزی اور سخت رویّے کے باوجود حلم، صبر، برداشت اور سخاوت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ اخلاقی معیار دشمنی یا سختی کے وقت بھی قائم رہنا چاہیے۔
سوال: مالِ غنیمت کے بارے میں حضور ﷺ کا بنیادی اصول کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ مجھے مال میں سے ایک بال کے برابر بھی ذاتی ضرورت نہیں۔ خمس بھی ذاتی استعمال کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی فلاح، دینی کاموں اور معاشرتی بھلائی کے لیے ہوتا تھا۔
سوال: رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کی نمایاں مثال کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو بکریوں کا پورا ریوڑ عطا فرمایا۔ اس غیر معمولی سخاوت سے متاثر ہو کر وہ شخص اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ محمد ﷺ ایسی سخاوت کرتے ہیں جیسے کسی کو فقر کا خوف نہ ہو، جس سے لوگوں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوئے۔
سوال: مرحوم مکرم فہیم الدین ناصر صاحب کی نمایاں خوبیاں کیا تھیں؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرحوم اخلاص، عبادت گزاری، تبلیغ دین کا شوق، خلافت سے گہری محبت، عاجزی، خدمت دین کا جذبہ، خوش اخلاقی اور آخر دم تک وفاداری جیسی اعلیٰ صفات کے حامل تھے اور اپنی زندگی میں دین کی خدمت کو مقدم رکھتے رہے۔
زززز