اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-26

صفتِ السلا م: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن، اخلاص اور مثالی معاشرے کی تعمیر خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ یکم جون 2007 بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت السلام کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صفت السلام اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیب، کمزوری، ظلم اور نقص سے پاک ہے اور حقیقی امن، سکون اور سلامتی کا سرچشمہ ہے۔ دنیا کی ہر سلامتی عارضی ہو سکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سلامتی دائمی اور حقیقی ہوتی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتا ہے تو اس کے دل میں اطمینان، یقین اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔
سوال: اسلام میں سلامتی کا تصور کس قدر بنیادی اہمیت رکھتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلام کا پیغام ہی امن، محبت اور سلامتی ہے۔ لفظ’’اسلام‘‘ بھی امن اور اطاعت کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ بھی امن میں رہے اور مخلوق کے ساتھ بھی خیرخواہی اور انصاف کا سلوک کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی اصلاح پر بھی زور دیتا ہے۔
سوال: قرآن کریم صفت السلام کے حوالے سے کیا تعلیم دیتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو السلام قرار دے کر یہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی امن اسی کی طرف سے ہے۔ قرآن عدل، احسان، صلح، معافی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے تاکہ انسان معاشرتی زندگی میں فساد اور ظلم سے بچ کر امن کو فروغ دے۔ قرآن بار بار مومنوں کو صلح جوئی اور امن کے راستے کی طرف بلاتا ہے۔
سوال: رسول اللہ ﷺ نے سلامتی کے قیام کے لیے کون سا عملی نمونہ پیش فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی امن اور رحمت کا عملی نمونہ ہے۔ مکہ میں سخت مخالفت کے باوجود صبر اور برداشت، مدینہ میں مختلف مذاہب اور قبائل کے ساتھ میثاقِ مدینہ کے ذریعے امن کا قیام، اور فتح مکہ کے موقع پر دشمنوں کو عام معافی دینا اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ اسلام کا مقصد امن اور اصلاح ہے نہ کہ انتقام۔
سوال: مسلمانوں کے درمیان باہمی سلامتی کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسلام مسلمانوں کو سلام عام کرنے، بدگمانی سے بچنے، حسد اور غیبت سے دور رہنے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور نرمی و محبت اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب ہر فرد دوسرے کی عزت اور حق کا خیال رکھتا ہے تو معاشرے میں خود بخود امن قائم ہو جاتا ہے۔
سوال: سلام (السلام علیکم) کی اسلامی اہمیت کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سلام دراصل ایک جامع دعا ہے جس میں ہم دوسرے شخص کے لیے امن، رحمت اور برکت کی دعا کرتے ہیں۔ اس عمل سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے، فاصلے کم ہوتے ہیں اور معاشرے میں مثبت اور خوشگوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
سوال: حقوق العباد کی ادائیگی معاشرتی سلامتی میں کیسے مدد دیتی ہے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:حقوق العباد کا خیال رکھنا معاشرتی امن کی بنیاد ہے۔ جب انسان دوسروں کے جان، مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہے، انصاف کو قائم رکھتا ہے اور ظلم سے بچتا ہے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلام عبادات کے ساتھ حقوق العباد پر اسی لیے زور دیتا ہے۔
سوال: صبر، حلم اور درگزر کا معاشرتی امن سے کیا تعلق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صبر اور درگزر انسان کو انتقام اور غصے سے بچاتے ہیں۔ جب لوگ غلطیوں کو معاف کرنا سیکھتے ہیں اور تحمل سے کام لیتے ہیں تو جھگڑے کم ہوتے ہیں اور محبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ یہی صفات ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں۔
سوال: اختلافات کے باوجود امن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلام اختلاف کو فطری قرار دیتا ہے مگر بدتمیزی، نفرت اور ظلم کو منع کرتا ہے۔ احترام، انصاف، مکالمہ اور صبر کے ذریعے اختلافات کو حل کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔
سوال: ایک مومن کی شخصیت میں صفت السلام کا عملی اظہار کیسے ہونا چاہیے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حقیقی مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اس کی گفتگو نرم، کردار پاکیزہ اور رویہ انصاف و محبت پر مبنی ہو۔ اس کی موجودگی دوسروں کے لیے سکون اور اعتماد کا باعث بنے۔
سوال: موجودہ دور میں صفت السلام کی اہمیت کیوں بڑھ گئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آج دنیا میں نفرت، شدت پسندی اور اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلام کی تعلیمات انسانیت کو امن، برداشت اور محبت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ صفت السلام کو اپنانا نہ صرف فرد بلکہ پوری انسانیت کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سوال: صفت السلام کو اپنی عملی زندگی میں کیسے اپنایا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نرم گفتگو، دوسروں کی عزت، انصاف، معافی، خدمتِ خلق، صبر اور مثبت سوچ کے ذریعے انسان اپنی زندگی میں صفت السلام کو عملی طور پر اپنا سکتا ہے۔ یہ چھوٹے اعمال مل کر معاشرے میں بڑے پیمانے پر امن پیدا کرتے ہیں۔
ز ز ز