اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-12

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ03؍اکتوبر2025ءبطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: جنگِ حنین کے بعد مالِ غنیمت کے بارے میں رسول کریم ﷺ کی حکمتِ عملی کیا تھی؟
جواب:حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیان فرمایا کہ جنگِ حنین کے بعد رسول کریم ﷺ نے مالِ غنیمت کو فوری تقسیم کرنے کے بجائے جعرانہ میں جمع کروایا اور کچھ عرصہ انتظار فرمایا۔ یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی نبوی حکمت اور رحمت پر مبنی تھا۔آپ ﷺ نے دشمن قوم بنو ہوازن کو توبہ اور اصلاح کا موقع فراہم کیا۔ نتیجتاً جب وہ اسلام قبول کر کے آئے تو ان کے قیدیوں اور اموال کی واپسی ممکن ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوی قیادت کا اصل مقصد مال یا فتح نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح اور انسانیت کی ہدایت تھا۔
سوال: بنو ہوازن کے وفد نے حضور ﷺ کے سامنے کیا درخواست پیش کی اور اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنو ہوازن کا وفد اسلام قبول کرنے کے بعد انتہائی عاجزی اور ندامت کے ساتھ حاضر ہوا اور اپنے اہل و عیال اور قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی۔رسول اللہ ﷺ نے ان کی سابقہ دشمنی کو نظر انداز کرتے ہوئے شفقت اور رحمت کا مظاہرہ فرمایا۔ اس واقعہ سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں توبہ کرنے والوں کے لیے ہمیشہ رحمت اور معافی کے دروازے کھلے رہتے ہیں، اور حقیقی قیادت بدلہ لینے کے بجائے اصلاح کو ترجیح دیتی ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے بنو ہوازن کو کس طرح اختیار دیا اور اس میں کیا حکمت پوشیدہ تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ وہ مالِ غنیمت یا قیدیوں میں سے کسی ایک کو منتخب کریں۔ اس حکیمانہ فیصلے کے کئی پہلو تھے:
انصاف اور شفافیت کا قیام
ان کی حقیقی ترجیح کو واضح کرنا
انسانی جذبات اور خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنا
انہوں نے قیدیوں کو منتخب کیا، جس سے ظاہر ہوا کہ اسلام انسانی رشتوں اور رحمت کو مادی مفاد پر مقدم رکھتا ہے۔
سوال: آزاد کیے گئے قیدیوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے کون سا غیر معمولی احسان فرمایا؟
جواب:رسول کریم ﷺ نے پہلے اپنے حصے کے قیدی آزاد کیے اور پھر صحابہؓ کو ترغیب دی، جس پر انہوں نے خوش دلی سے اپنے حصے کے قیدی بھی واپس کر دیے۔مزید یہ کہ قیدیوں کو نئے کپڑے دیے گئے،عزت و وقار کے ساتھ رخصت کیا گیااورکسی کو بے لباس جانے کی اجازت نہ دی گئی۔یہ اسلامی تعلیمات میں انسانی وقار، اجتماعی ہمدردی اور رحمتِ عالم ﷺ کی روشن مثال ہے۔
سوال: حضرت عمرؓ نے اطاعتِ رسول کی کون سی نمایاں مثال پیش کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ قیدیوں کو آزاد کیا جا رہا ہے تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے اپنی لونڈی کو بھی آزاد کرنے کا حکم دیا۔یہ واقعہ صحابہؓ کی کامل اطاعت،اخلاص اوررسول اللہ ﷺ کے فیصلوں پر کامل اعتماد کا عظیم نمونہ ہے۔
سوال: مالک بن عوف کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا حسنِ سلوک کیا ظاہر کرتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مالک بن عوف جو پہلے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہا تھا، اس کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرمایااسے اسلام کی دعوت دی ،اس کے اہل و عیال واپس کیے،سو اونٹ بطور عطیہ دیے،اسے دوبارہ اپنی قوم کا سردار مقرر کیا۔یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ نبوی قیادت دشمن کو ذلیل کرنے کے بجائے اصلاح اور عزت کے ذریعے دل جیتتی ہے۔
سوال: رضاعی بہن حضرت شیماءؓ کے ساتھ حضور ﷺ کے حسنِ سلوک سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب حضرت شیماءؓ قیدیوں میں آئیں تو آپ ﷺ احتراماً کھڑے ہوئے، اپنی چادر بچھائی اور محبت سے پیش آئے۔ انہیں مکمل اختیار دیا گیا کہ مدینہ میں رہیں یا واپس جائیں۔ تحائف دے کر عزت کے ساتھ روانہ کیا گیا۔اس واقعہ سے درج ذیل اصول سامنے آتے ہیں:
خاندانی تعلقات کی پاسداری،خواتین کا احترام اورنبوی اخلاق کی عظمت۔
سوال: جعرانہ میں قیام کے دوران آنحضرت ﷺ کی عبادت کا کون سا پہلو نمایاں ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:شدید مصروفیات کے باوجود رسول اللہ ﷺ رات کے وقت جعرانہ سے مکہ تشریف لے گئے، عمرہ ادا کیا اور اسی رات واپس آئے۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہر حال میں مقدم ہے حقیقی قیادت روحانیت اور عمل دونوں کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔
سوال: مستشرقین کے اعتراضات کا خطبہ میں کس طرح مدلل جواب دیا گیا؟
جواب:تاریخی حوالوں سے ثابت کیا گیا کہ قیدیوں کے ساتھ غیر معمولی رحمت اور عدل کا سلوک ہوااجتماعی طور پر بڑی تعداد میں قیدی آزاد کیے گئےظلم یا خویش پروری کے اعتراضات بے بنیاد ہیںبلکہ بعض مستشرقین نے بھی اس اجتماعی رہائی کو تاریخ کا منفرد واقعہ تسلیم کیا ہے۔
سوال: اس خطبہ سے حاصل ہونے والے بنیادی اسباق کیا ہیں؟
جواب:اسلام کی بنیاد رحمت، عفو اور اصلاح پر ہے۔
دشمن کے ساتھ بھی انصاف اور حسنِ سلوک لازم ہے۔ اطاعتِ رسول ﷺ ایمان کی حقیقی علامت ہے۔
قیادت میں حکمت، صبر، انصاف اور انسان دوستی ضروری صفات ہیں،اصلاح اور ہدایت کو ہمیشہ انتقام پر مقدم رکھنا چاہیے۔