اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ31؍اکتوبر2025ءبطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: غزوۂ تبوک کے سفر میں آنحضرت ﷺ نے پہلا پڑاؤ کہاں کیا؟
جواب:تاریخ کے مطابق جب اسلامی لشکر غزوۂ تبوک کے لیے مدینہ سے روانہ ہوا تو آنحضرت ﷺ نے پہلا پڑاؤ ذُو خُشُب نامی مقام پر کیا۔ یہ مقام مدینہ سے ایک رات کی مسافت پر شام کے راستے میں واقع ایک وادی ہے جہاں بہت سے پانی کے چشمے موجود تھے۔
سوال: سفر کے دوران نمازوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا کیا طریق تھا؟
جواب:غزوۂ تبوک کے سفر میں آنحضرت ﷺ نے ظہر اور عصر کو جمع کر کے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا فرمایا۔
حضرت معاذ بن جبلؓروایت کرتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر جمع کر لیتے اور اگر پہلے چل پڑتے تو ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے ساتھ ادا کرتے۔
اسی طرح مغرب اور عشاء بھی جمع کر کے ادا فرماتے تھے۔ (سنن ابی داؤد)
سوال: غزوۂ تبوک میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓکو امامت کا شرف کیسے ملا؟
جواب:حضرت مغیرہ بن شعبہؓ روایت کرتے ہیں کہ فجر کے وقت رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس دوران صحابہؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓکو امام بنا دیا۔
جب آنحضرت ﷺ واپس آئے تو ایک رکعت باقی تھی۔ آپ ﷺ نے جماعت کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی اور بعد میں اپنی نماز مکمل کی۔
نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہؓ کی تعریف فرمائی کہ انہوں نے نماز کو وقت پر ادا کیا۔
سوال: قوم ثمود کے کھنڈرات سے گزرتے وقت آنحضرت ﷺ نے کیا ہدایت فرمائی؟
جواب:جب اسلامی لشکر حِجر (مدائن صالح) سے گزرا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اس جگہ کے کنوؤں کا پانی نہ پیو
اس پانی سے وضو نہ کرو
اس پانی سے گوندھا ہوا آٹا بھی نہ کھاؤ
کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں حضرت صالح ؑکی قوم ثمود پر عذاب آیا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان قوموں کی بستیوں میں رونے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہو تاکہ تم پر بھی وہ عذاب نہ آئے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی اونٹنی گم ہونے کا واقعہ کیا ہے؟
جواب:غزوۂ تبوک کے سفر میں آنحضرت ﷺ کی اونٹنی قصواء گم ہو گئی۔ ایک منافق نے طعنہ دیا کہ محمد ﷺ آسمان کی خبریں تو بتاتے ہیں مگر اپنی اونٹنی کا پتہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فوراً آنحضرت ﷺ کو بذریعہ الہام بتایا کہ اونٹنی ایک گھاٹی میں درخت کے ساتھ پھنسی ہوئی ہے۔
صحابہؓ وہاں گئے اور اونٹنی کو واپس لے آئے۔
یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے سچے نبی ہونے کی ایک نشانی بن گیا۔
سوال: غزوۂ تبوک کے سفر میں زادِ راہ کم ہونے پر کیا واقعہ پیش آیا؟
جواب:سفر میں صحابہؓ کو شدید بھوک لگی اور انہوں نے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی۔
حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ:
لوگ اپنا بچا ہوا کھانا جمع کریں
رسول اللہ ﷺ اس پر دعا کریں
جب ایسا کیا گیا تو تھوڑا سا کھانا معجزانہ طور پر پورے لشکر کے لیے کافی ہو گیا اور سب کے برتن بھر گئے۔
سوال: دو آدمیوں کے جھگڑے کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا فیصلہ فرمایا؟
جواب:ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا۔ جب اس نے ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے دانت ٹوٹ گئے۔
وہ شخص دیت کا مطالبہ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو یہ اس کا دفاع تھا، اس لیے کوئی دیت نہیں دی جائے گی۔
سوال: تبوک کے سفر میں آندھی کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا پیشگوئی فرمائی؟
جواب:آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج رات سخت آندھی آئے گی اور سب کو حکم دیا کہ:
کوئی کھڑا نہ رہے
اونٹوں کے گھٹنے باندھ دیں
کوئی اکیلا باہر نہ نکلے
جن لوگوں نے حکم نہ مانا ان میں سے ایک شخص آندھی سے اڑ کر پہاڑوں میں جا گرا۔
سوال: تبوک کے چشمے کے معجزے کا واقعہ کیا ہے؟
جواب:جب لشکر تبوک کے چشمے پر پہنچا تو وہاں پانی بہت کم تھا۔رسول اللہ ﷺ نے برتن میں تھوڑا پانی جمع کروایا اس میں اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویاپھر وہ پانی چشمے میں ڈال دیاچشمہ زور سے بہنے لگا اور پورا لشکر سیراب ہو گیا۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے معاذ! اگر تم زندہ رہے تو اس جگہ کو باغوں سے بھرا دیکھو گے۔‘‘ بعد میں یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔
سوال: حضرت ابوذرؓکے بارے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کیا تھی؟
جواب:حضرت ابوذرؓکا اونٹ سست ہو گیا تو وہ پیچھے رہ گئے اور اپنا سامان اٹھا کر پیدل چلنے لگے۔
جب دور سے ایک شخص آتا نظر آیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ ابوذر پر رحم کرے۔وہ اکیلا چلے گا،اکیلا فوت ہوگا اور اکیلا اٹھایا جائے گا۔‘‘
بعد میں حضرت ابوذرؓ کی وفات ربذہ کے بیابان میں تنہائی میں ہوئی اور یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔
سوال: حضرت ابوخیثمہؓکا واقعہ کیا سبق دیتا ہے؟
جواب:حضرت ابوخیثمہؓابتدا میں لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ:
رسول اللہ ﷺ سخت گرمی میں جہاد کے لیے جا رہے ہیںاور وہ آرام میں ہیںتو انہوں نے فوراً سفر کا سامان تیار کیا اور لشکر سے جا ملے۔آنحضرت ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
سبق:مومن کو کبھی بھی دینی ذمہ داری سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
ززز