اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ6؍جولائی2007ء بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال:اس خطبہ کی ابتدا میں حضورِ انور نے کون سی آیت تلاوت فرمائی اور اس کا مفہوم کیا ہے؟
جواب:حضورِ انور نے سورۃ الحشر کی آیت تلاوت فرمائی:
ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔(الحشر:24)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کئی صفات بیان کی گئی ہیں، جن میں الملک، القدوس، السلام، المؤمن، المہیمن، العزیز، الجبار اور المتکبر شامل ہیں۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ، پاک، سلامتی دینے والا، امن عطا کرنے والا، نگہبان اور کامل غلبہ والا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت المؤمن سے کیا مراد ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ کی صفت المؤمن کے معنی ہیں امن دینے والا اور اپنے بندوں کو خوف سے محفوظ رکھنے والا۔
یعنی فرد کا امن، معاشرے کا امن اور دنیا کا امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے اور اس کے احکامات پر عمل کرے۔
سوال: حقیقی امن حاصل کرنے کا راستہ کیا ہے؟
جواب:حقیقی امن اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرے جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا صِبْغَۃَ اللّٰہ۔
اگر انسان اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے دور ہو جائے تو اس کی امن کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور ان کا مقصد صرف ذاتی مفادات رہ جاتا ہے۔
سوال: کامل ایمان حاصل کرنے کے لئے کن امور پر ایمان لانا ضروری ہے؟
جواب:کامل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ انسان:
اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔
اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء پر ایمان لائے۔
آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانے۔
آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو قبول کرے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کی اہمیت کیا ہے؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں مسیح و مہدی مبعوث ہوں گے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ:
ان کو قبول کریں
ان کی بیعت کریں
قرآن کی تشریح جو وہ پیش کریں اسے تسلیم کریں
اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہونا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔
سوال: ایک احمدی کو اپنی زندگی میں کیا خصوصیات پیدا کرنی چاہئیں؟
جواب:ہر احمدی کو چاہئے کہ:
اپنے ایمان کو مضبوط کرے
اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرے
معاشرے میں امن قائم کرنے والا بنے
تمام انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہو
سوال:لغت اور مفسرین کے مطابق لفظ المؤمن کے مزید کیا معانی ہیں؟
جواب:اہل لغت اور مفسرین نے المؤمن کے کئی معانی بیان کئے ہیں:
وہ ذات جو اپنی مخلوق پر ظلم نہیں کرتی۔
وہ جو اپنے اولیاء کو عذاب سے امن دیتا ہے۔
وہ جو اپنے وعدوں کو سچا کر دکھاتا ہے۔
وہ جو اپنے بندوں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔
سوال:قیامت کے دن امت محمدیہ کی گواہی کے بارے میں کیا بیان کیا گیا ہے؟
جواب:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مختلف امتوں سے ان کے رسولوں کے بارے میں سوال کرے گا۔
امت محمدیہ سابقہ انبیاء کی تصدیق کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی تصدیق کرے گا۔
اسی مضمون کو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے:
فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا۔ (النساء:42)
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے خلافت کے بارے میں کیا وضاحت فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو قیامت تک اپنی امت پر گواہ ٹھہرایا گیا ہے اور یہ گواہی نظام خلافت کے ذریعہ قائم رہتی ہے۔
یعنی خلفاء کی شہادت دراصل آنحضرت ﷺ کی شہادت کے قائم مقام ہے۔
سوال:خانہ کعبہ کو قرآن کریم میں امن کی جگہ کیوں قرار دیا گیا ہے؟
جواب:قرآن کریم میں فرمایا گیا:
وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا
یعنی جو شخص حرم میں داخل ہو جائے وہ امن میں آ جاتا ہے۔
خانہ کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے:
امن کی جگہ بنایا
عبادت کا مرکز بنایا
تمام انسانوں کے اجتماع کا مقام بنایا
سوال:حضرت مصلح موعودؓ نے لفظ اَمْنًا کی کیا وضاحت بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ کے مطابق اَمْنًا کے تین مفاہیم ہیں:
یہ مقام ہمیشہ محفوظ رہے گا۔
یہ مقام دوسروں کو امن فراہم کرے گا۔
یہ مقام دلوں کو اطمینان اور سکون عطا کرے گا۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے مقام ابراہیم کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان حضرت ابراہیمؑ کی کامل پیروی کرے۔
آپؑنے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک ابراہیم صفت شخصیت پیدا ہو گی اور نجات اسی فرقہ کو ملے گی جو اس کی پیروی کرے گا۔
سوال: مسیح کے آنے کے متعلق حدیث میں امن کے بارے میں کیا ذکر ہے؟
جواب:حدیث میں فرمایا گیا: تَقَعُ الْاَمَنَۃُ فِی الْاَرْضِ یعنی مسیح کے آنے کے بعد زمین میں امن قائم ہو جائے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اسی مقصد کے لئے دنیا میں جنگ اور قتال کے خلاف تعلیم دی۔
سوال: حقیقی ایمان اور امن کی مثال آج کہاں نظر آتی ہے؟
جواب:حضور انور کے مطابق حقیقی ایمان کی مثال احمدیوں میں نظر آتی ہے کیونکہ انہوں نے:
ایمان کی خاطر قربانیاں دیں
جیلیں برداشت کیں
جانوں کے نذرانے پیش کئے
کلمہ کو اپنے سینے سے لگائے رکھا
یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں اور طمانیت قلب حاصل کرتے ہیں۔
سوال: آخر میں احمدیوں کے لئے کیا نصیحت بیان کی گئی؟
جواب:ہر احمدی کو چاہئے کہ:
اپنے ایمان کو مضبوط کرے
اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنائے
عبادت میں اخلاص پیدا کرے
دنیا میں امن اور محبت پھیلانے والا بنے
تاکہ وہ اس مقصد کو حاصل کر سکے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔