اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-04

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ10؍اگست2007ء بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع حقوقُ اللہ کے ساتھ حقوقُ العباد کی ادائیگی، ایمان اور اعمالِ صالحہ کا باہمی تعلق، حقیقی مومن کی صفات، توحیدِ الٰہی کے قیام، مخلوقِ خدا سے ہمدردی، عاجزی، صبر، حسنِ اخلاق اور معاشرتی امن تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں واضح فرمایا کہ کامل ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ ایسے اعمالِ صالحہ کا نام ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بندگانِ خدا کے حقوق کی بھی ادائیگی شامل ہو۔
سوال: حضورِ انور نے خطبہ کے آغاز میں کون سی قرآنی آیت تلاوت فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے سورۃ البقرۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی:وَبَشِّرِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ... (البقرۃ: 26)
ترجمہ:’’اور ان لوگوں کو خوشخبری دے دے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔‘‘
سوال: حضورِ انور نے’’مومن‘‘ کی بنیادی نشانی کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ حقیقی مومن وہ ہے جو: اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہو،اس کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو،اللہ تعالیٰ کے خوف اور محبت سے اس کا دل لبریز ہو،اور وہ ہمیشہ ایسے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں۔
اسی لیے مومن کی اصل پہچان اعمالِ صالحہ ہیں۔
سوال:اعمالِ صالحہ میں کن حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ حقیقی اعمالِ صالحہ وہ ہیں جن میں:حقوقُ اللہ کی ادائیگی،اور حقوقُ العباد کی حفاظت دونوں شامل ہوں۔اگر ایک انسان عبادت تو کرتا ہو مگر بندوں کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے کامل ایمان کی کیا تعریف بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لیے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی ترکیب سے ظلم نہ کرو...‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 11-12)
آپؑ نے فرمایا کہ:تکبر نہ کرو،گالی نہ دو،مخلوق کے ہمدرد بنو، غریبوں سے محبت کرو،اور ظاہر و باطن کو ایک بناؤ۔
سوال:توحید کے قیام کے متعلق حضورِ انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ توحید کا قیام صرف زبانی اقرار سے نہیں ہوتا بلکہ:دل کو غیراللہ سے پاک کرنا،دنیاوی خواہشات کے بت توڑنا،نماز کو دنیاوی کاموں پر مقدم رکھنا،اور اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ سے جوڑنا حقیقی توحید کے عملی تقاضے ہیں۔
سوال:بندگانِ خدا پر رحم کرنے کے متعلق کیا ہدایت دی گئی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک مومن:کسی انسان پر ظلم نہیں کرتا،زبان، ہاتھ یا کسی تدبیر سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا،بلکہ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔آپؐ نے فرمایا:’’مومن وہ ہے جس سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔‘‘
سوال: مخلوقِ خدا کی بھلائی کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ نے کیا تعلیم دی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:
’’مخلوق کی بھلائی کے لیے کوشش کرتے رہو۔‘‘حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ:صرف ہمدردی کافی نہیں،بلکہ عملی خدمت بھی ضروری ہے،ضرورت پڑے تو قربانی بھی دو،اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرو۔
سوال:آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ نے مخلوق کی خدمت کے کون سے نمونے قائم فرمائے؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:آنحضرت ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی ’’حلف الفضول‘‘ جیسے معاہدوں کے ذریعہ مظلوموں کی مدد کی۔نبوت کے بعد آپؐ کی پوری زندگی انسانیت کی خدمت سے بھرپور تھی۔
اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ:بیماروں کو مفت دوائیں دیتے،غریبوں کی مدد کرتے،اور شدید مصروفیات کے باوجود مخلوق کی خدمت کے لیے وقت نکالتے تھے۔
سوال: تکبر کے متعلق کیا تعلیم دی گئی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:اختیار اور عزت انسان میں عاجزی پیدا کرنی چاہیے،ماتحتوں کو حقیر نہ سمجھو،بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا’’زمین میں اکڑ کر مت چل۔‘‘ (لقمان: 19)
سوال:غلاموں اور ماتحتوں کے حقوق کے متعلق آنحضرت ﷺ نے کیا تعلیم دی؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: غلاموں کو ’’میرا غلام‘‘ یا’’میری لونڈی‘‘ نہ کہو،بلکہ محبت اور احترام سے ’’میرا لڑکا‘‘ یا’’میری لڑکی‘‘ کہہ کر پکارو۔اس سے اسلام میں انسانی عزت اور مساوات کا اعلیٰ معیار ظاہر ہوتا ہے۔
سوال:گالی اور بدزبانی کے متعلق کیا ہدایت دی گئی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:
’’کسی کو گالی مت دو خواہ وہ تمہیں گالی دیتا ہو۔‘‘حضورِ انور نے فرمایا کہ:گالی کا جواب گالی سے دینا فساد کو بڑھاتا ہے،جبکہ صبر امن پیدا کرتا ہے،اور اللہ تعالیٰ ایسے صبر کرنے والوں کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔
سوال:صبر کرنے والوں کے متعلق کیا خوشخبری بیان ہوئی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کرتا ہے،تو فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ’’صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔‘‘
سوال:اٰمَنَّااور اَسْلَمْنَا میں کیا فرق بیان کیا گیا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:صرف زبانی ایمان کافی نہیں، بلکہ جب اعمالِ صالحہ پیدا ہوں تب حقیقی ایمان پیدا ہوتا ہے۔ورنہ انسان صرف ہم نے اطاعت قبول کی کے درجے میں رہتا ہے، کامل ایمان والا نہیں بنتا۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے جنت اور اعمالِ صالحہ کے تعلق کو کیسے بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:ایمان ایک باغ کی مانند ہے،اور اعمالِ صالحہ اس باغ کی نہریں ہیں۔ جیسے پانی کے بغیر باغ سرسبز نہیں رہ سکتا، ویسے اعمالِ صالحہ کے بغیر ایمان زندہ نہیں رہ سکتا۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 21)
سوال:جنت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ نے کیا فلسفہ بیان فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ:جنت دراصل انسان کے اپنے ایمان اور اعمال کا مجسم ظہور ہے،دنیا میں کیے گئے نیک اعمال آخرت میں روحانی نعمتوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں،اور مومن ان نعمتوں کو پہچان لیتا ہے کیونکہ وہ دنیا میں بھی ان کے اثرات محسوس کر چکا ہوتا ہے۔