اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-11

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ19دسمبر2025ءبطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال:اس خطبہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ، عبادات، اخلاقِ فاضلہ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بیان تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیت لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ کی روشنی میں بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺانسانی کمالات کا کامل نمونہ ہیں اور ہر مومن کی کامیابی آپؐکی سنت اور سیرت کی پیروی میں مضمر ہے۔
سوال:حضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺکے اخلاق کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ ﷺکے اخلاق جاننا چاہتے ہو تو قرآن کریم پڑھو، کیونکہ آپؐکا اخلاق قرآن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيم ٍیعنی ’’یقیناً آپ اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہیں۔‘‘
سوال:اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اسوۂ حسنہ کیوں قرار دیا؟
جواب:کیونکہ آپؐنے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی میں کامل ترین نمونہ پیش فرمایا۔ آپؐکی زندگی قرآن کریم کی عملی تفسیر تھی اور ہر اخلاقی خوبی اپنی کامل ترین صورت میں آپؐمیں جلوہ گر تھی۔
سوال:آنحضرت ﷺ کی عبادت کا معیار کیا تھا؟
جواب:آپؐنصف رات گزرنے کے بعد عبادت کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، طویل قیام کرتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتے تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐکو اپنا مقرب قرار دیا تھا، آپؐفرمایا کرتے تھے:’’اَفَلَا أَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا‘‘ یعنی ’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘
سوال:رسول اللہ ﷺقرآن کریم کی تلاوت سنتے ہوئے کیوں رو پڑتے تھے؟
جواب:جب ایسی آیات تلاوت ہوتیں جو امت کی جواب دہی اور آپؐکی گواہی کا ذکر کرتی تھیں تو آپؐپر خشیت الٰہی طاری ہو جاتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی تلاوت کے دوران سورۃ النساء کی آیت: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سن کر آپؐکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
سوال:نماز باجماعت کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا کیا نمونہ تھا؟
جواب:شدید بیماری کے باوجود آپؐنماز باجماعت کی اہمیت قائم رکھنے کے لیے دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد تشریف لائے۔ آپؐکے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے لیکن آپؐنے نماز باجماعت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ فرمائی۔
سوال:تکلف والی عبادت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے کیا تعلیم دی؟
جواب:آپؐنے فرمایا کہ عبادت اتنی کرنی چاہیے جس میں دل کی خوشی اور تازگی قائم رہے۔ جب حضرت زینبؓنے تھک جانے پر سہارا لینے کے لیے رسی باندھی تو آپؐنے فرمایا: ’’اس رسی کو کھول دو، جب تک نشاط رہے عبادت کرو، پھر آرام کر لو۔‘‘
سوال:شرک کے متعلق آنحضرت ﷺ کا موقف کیا تھا؟
جواب:آپؐکو شرک سے شدید نفرت تھی۔ وفات کے آخری ایام میں بھی آپؐفرماتے رہے: ’’ اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
سوال:اعمال اور جنت کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب:آپؐنے فرمایا:’’کوئی شخص اپنے اعمال کے زور پر جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘صحابہؓ نے عرض کیا: کیا آپؐبھی نہیں؟ آپؐنے فرمایا:‘‘میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت مجھے ڈھانپ لے۔‘‘
سوال:موت کی تمنا کے متعلق کیا تعلیم دی گئی؟
جواب:آپؐنے فرمایا:’’تم میں سے کوئی موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کرے گا اور اگر گناہگار ہے تو توبہ کا موقع پائے گا۔‘‘
سوال:آنحضرت ﷺنے انسانی صلاحیتوں کے صحیح استعمال کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؐنے فرمایا:’’اخلاقِ فاضلہ طبعی قویٰ کے صحیح استعمال کا نام ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کو ختم کرنا حماقت، غلط استعمال کرنا بدکاری اور درست استعمال کرنا نیکی ہے۔
سوال:آسانی اختیار کرنے کے متعلق آنحضرت ﷺ کا کیا اسوہ تھا؟
جواب:حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب دو جائز راستوں میں انتخاب ہوتا تو آپؐہمیشہ آسان راستہ اختیار فرماتے، بشرطیکہ اس میں گناہ کا شائبہ نہ ہو۔
سوال:حضرت خدیجہؓ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی وفاداری کا کیا نمونہ تھا؟
جواب:حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد بھی آپؐان کا ذکر محبت سے کرتے، ان کی سہیلیوں کا احترام فرماتے اور ان کی یادگاروں کو دیکھ کر اشکبار ہو جاتے تھے۔ جنگ بدر کے موقع پر حضرت زینبؓکا بھیجا ہوا ہار دیکھ کر آپؐکی آنکھیں نم ہو گئیں۔
سوال:بچپن میں مشکلات کے باوجود آنحضرت ﷺ نے کیا نمونہ پیش فرمایا؟
جواب:چچی کی بے توجہی کے باوجود آپؐنے کبھی شکایت نہیں کی۔ بعد میں جب موقع ملا تو اپنے چچا زاد بھائیوں حضرت علیؓاور حضرت جعفرؓکی بہترین تربیت فرمائی اور ان سے حسن سلوک کیا۔
سوال:صبر کا کون سا واقعہ حضورِ انور نے بیان فرمایا؟
جواب:ایک عورت اپنے بیٹے کی قبر پر رو رہی تھی۔ آپؐنے صبر کی تلقین فرمائی تو اس نے کہا کہ اگر آپؐکا بچہ فوت ہوتا تو معلوم ہوتا۔ آپؐنے نہ ناراضگی ظاہر کی اور نہ سختی کی بلکہ فرمایا:’’میرے سات بچے فوت ہو چکے ہیں۔‘‘
سوال:تحمل اور بردباری کے متعلق آنحضرت ﷺ کا کیا نمونہ تھا؟
جواب:ایک یہودی بار بار ’’اے محمد‘‘کہہ کر مخاطب کرتا رہا۔ صحابہؓ ناراض ہوئے مگر آپؐنے فرمایا: ’’یہ درست کہتا ہے، میرے والدین نے میرا نام محمد رکھا تھا۔ ’’یوں آپؐنے اعلیٰ درجے کا تحمل اور برداشت کا نمونہ پیش فرمایا۔
سوال:لوگوں کی ضروریات سننے کے متعلق آنحضرت ﷺ کا کیا اسوہ تھا؟
جواب:اگر کوئی راستے میں روک کر اپنی ضرورت بیان کرتا تو آپؐاس وقت تک کھڑے رہتے جب تک وہ اپنی بات مکمل نہ کر لیتا۔ آپؐکبھی کسی سائل یا ضرورت مند کو جھڑکتے نہیں تھے۔