سوال: اس خطبہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے بے مثال محبت، عشقِ الٰہی، عبادت، دعاؤں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی اور امت کی تربیت تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف قرآنی آیات، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کی محبتِ الٰہی کے مختلف پہلو بیان فرمائے۔
سوال: حضورِ انور نے آنحضرت ﷺ کے دل کی دو بنیادی کیفیات کون سی بیان فرمائیں؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:ایک طرف آپؐکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا درد تھا۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی محبت کا درد اور انہیں تباہی سے بچانے کی شدید خواہش تھی۔
سوال: سورۃ الضحیٰ کی آیت وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کی حضرت مسیح موعودؑ نے کیا تفسیر بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہاں’’ضال‘‘ کے عام معنی گمراہ کے نہیں بلکہ ’’عاشقِ الٰہی‘‘ کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اپنی محبت میں سرشار پایا اور پھر قربِ الٰہی کے راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا تھی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء میں سب سے بڑھ کر عشقِ الٰہی، پاکیزگی، صدق، وفا، حیا، توکل اور کمالاتِ انسانی کے حامل تھے۔
سوال: قرآن کریم کی عظمت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ نے کیا فرمایا؟
جواب:آپؑنے فرمایا کہ قرآن کریم ایسا کامل اور جامع کلام ہے کہ کوئی ذہن ایسی صداقت یا دلیل پیش نہیں کرسکتا جو پہلے سے قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔ یہ صفاتِ الٰہیہ کا سب سے روشن آئینہ ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ کیا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا:قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
سوال: آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟
جواب:اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ...
ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسے اعمال کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دیں۔
سوال: حضورِ انور نے اس دعا کے متعلق کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا چاہتا ہے اسے یہ دعا بکثرت کرنی چاہیے۔
سوال:حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ سجدے میں کون سی دعا پڑھتے تھے؟
جواب:اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ...
ترجمہ:اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے تیرے عفو کی پناہ مانگتا ہوں۔
سوال: حضرت عائشہؓ کے بقیع والے واقعہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:اس واقعہ سے درج ذیل اسباق ملتے ہیں:اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق قائم کرنا۔قبرستان کے لیے دعا کرنا۔بدگمانی سے بچنا۔استغفار کی کثرت کرنا۔رات کی عبادت کی اہمیت۔
سوال: آنحضرت ﷺ راتوں کو کیوں رویا کرتے تھے؟
جواب:آپؐاللہ تعالیٰ کی محبت، خشیت، شکرگزاری اور عبادت کے جذبے سے روتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐکے تمام قصور بخش دیے تھے، پھر بھی آپؐنے فرمایا:أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘
سوال: بادل اور آندھی دیکھ کر آنحضرتﷺ کیوں پریشان ہوجاتے تھے؟
جواب:آپؐکو خوف ہوتا تھا کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ ہو جیسا کہ قومِ عاد پر آیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خشیت کا اظہار تھا۔
سوال: بارش کے پہلے قطروں کے متعلق آنحضرت ﷺ کا کیا اسوہ تھا؟
جواب:آپؐاور صحابہؓ بارش کے پہلے قطروں کے وقت سر ننگے کر لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے ربّ کی طرف سے تازہ نعمت ہے۔
سوال: مشرکین نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ سب سے سخت سلوک کون سا کیا؟
جواب:عقبہ بن ابی معیط نے حالتِ نماز میں آپؐکی گردن میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کی تھی، جس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کو بچایا۔
سوال: مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ کے متعلق کیا کہا کرتے تھے؟
جواب:اِنَّ مُحَمَّدًا عَشِقَ رَبَّهُیعنی: ’’محمد ﷺ اپنے ربّ پر عاشق ہو گئے ہیں۔‘‘
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرت ﷺ کے عشقِ الٰہی کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔‘‘
سوال: حضرت علیؓ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی کا طریق کیا بیان فرمایا؟
جواب:آپؐ نے فرمایا:معرفت میرا سرمایہ ہے۔عقل میرے دین کی اصل ہے۔اللہ کی محبت میری بنیاد ہے۔اللہ کا ذکر میرا دوست ہے۔توکل میرا خزانہ ہے۔علم میرا ہتھیار ہے۔صبر میری رداء ہے۔یقین میری قوت ہے۔جہاد میرا خلق ہے۔نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
سوال: ’’میرے دل کا ثمرہ اللہ کا ذکر ہے‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب:اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے دل کی حقیقی خوشی، سکون اور زندگی کا حاصل اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی محبت تھی۔
سوال: صحابہؓ میں انقلاب پیدا ہونے کا اصل سبب کیا تھا؟
جواب:صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ کے عشقِ الٰہی، اخلاص، عبادت، دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کے نتیجہ میں ان کے ایمان میں غیر معمولی انقلاب پیدا ہوا۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کامیابی کا سبب کیا بیان فرمایا؟
جواب:آپؑنے فرمایا کہ جو کچھ مجھے حاصل ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔
سوال: جماعت احمدیہ کے افراد کے لیے حضورِ انور نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ:ہر کام خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کریں۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں ترقی کریں۔آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل کریں۔حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات کو اپنائیں۔دعاؤں، عبادت اور تقویٰ میں بڑھیں۔
سوال: حضورِ انور نے پاکستان کے احمدیوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضورِ انور نے پاکستان کے احمدیوں کے لیے خصوصی دعاؤں کی تحریک فرمائی اور مبارک ثانی صاحب کے خلاف دی جانے والی عمر قید کی سزا کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جلد اپنے فضل اور نصرت کے سامان پیدا فرمائے۔