سوال:خطبہ جمعہ 02 جنوری 2026ء کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی محبتِ الٰہی، عشقِ خداوندی، کامل توکل علی اللہ، اطاعتِ رسول ﷺ، قربانی، استقامت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے متعدد واقعات اور روایات کے ذریعہ واضح فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا کے حصول کے لیے وقف تھا۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے الفاظ میں کس طرح بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے، ہماری اعلیٰ لذتیں ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی‘‘آپؑ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی محبت ایسی دولت ہے جس کے حصول کے لیے جان تک قربان کی جا سکتی ہے اور یہی حقیقی نجات اور دائمی خوشی کا سرچشمہ ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کامیابیوں اور روحانی مقامات کا سبب کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ مجھے یہ سب کچھ اپنی ذاتی قابلیت کی وجہ سے نہیں ملا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع کا نتیجہ ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ میرے دل میں فطرتاً اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی وفادارانہ کشش رکھی گئی ہے جو کسی روک سے رک نہیں سکتی۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کا خدا تعالیٰ پر توکل کس واقعہ سے نمایاں ہوتا ہے؟
جواب:کرم دین مقدمہ کے دوران جب مخالفین نے مجسٹریٹ کو حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف بھڑکایا اور آپؑ کی گرفتاری کا منصوبہ بنایا تو آپؑ نے فرمایا:’’میں اس کا شکار نہیں ہوں، میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔‘‘یہ الفاظ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، استقامت اور توکل کا عظیم نمونہ ہیں۔
سوال:گرفتاری اور ہتھکڑیوں کے خدشہ پر حضرت مسیح موعودؑ کا کیا ردعمل تھا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا:’’میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں۔‘‘لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ماموروں کو ذلت نہیں دیتا بلکہ عزت کے ساتھ نجات عطا فرماتا ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کو بچپن سے عبادت کا کس قدر شوق تھا؟
جواب:آپؑ کے والد صاحب فرمایا کرتے تھے:’’میرا ایک چھوٹا لڑکا ہے مگر وہ تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم نظر آتا ہے، اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد میں تلاش کرو۔‘‘یہ آپؑ کی عبادت گزاری اور خلوت پسندی کا ثبوت ہے۔
سوال:قدرتی مناظر کو دیکھ کر حضرت مسیح موعودؑ کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟
جواب:آپؑ فرماتے ہیں:"جب کبھی ڈلہوزی جانے کا اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زاروں اور بہتے پانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا۔"یعنی قدرت کے ہر منظر میں آپؑ کو خدا تعالیٰ کی عظمت نظر آتی تھی۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے کس قدر غیرت تھی؟
جواب:جب کسی نے ایک ایسے شخص کی تعریف کی جو خدا تعالیٰ کا منکر اور دین کا مخالف تھا تو آپؑ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:’’بدبخت! تُو میرے گھر میں میرے خدا کے دشمن کی تعریف کرتی ہے؟‘‘یہ غیرتِ ایمانی اور محبتِ الٰہی کا عظیم نمونہ تھا۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی وفاداری کا اظہار کس طرح فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا:’’ اے میرے مولیٰ! اے میرے محبوب! دنیا مجھے کافر کہتی ہے مگر کیا تجھ سے زیادہ پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے؟‘‘یہ الفاظ عشقِ الٰہی کے بلند ترین اظہار ہیں۔
سوال:سالِ نو کے آغاز پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو کس بات کی تلقین فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:دعا کریں کہ نیا سال بے شمار برکتوں کا سال ہو۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقیات سے نوازے۔مخالفین کے منصوبے ناکام ہوں۔دنیا میں امن قائم ہو۔مظلوم احمدیوں اور اسیرانِ راہِ مولیٰ کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔
سوال:پاکستان کے اسیر احمدیوں کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور "لوہے کے کڑے" پہنے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔
٭…٭…٭