اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-10

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 2؍نومبر 2007ءبطر زسوال و جواب

سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائطِ بیعت میں محبت و اخوت کے متعلق کیا تعلیم فرمائی؟
جواب: آپؑ نے بیعت کی ایک شرط یہ بیان فرمائی کہ ہر بیعت کنندہ آپؑ سے ایسی عقدِ اخوت و محبت رکھے جس کی مثال دنیاوی رشتوں میں نہ ملے اور آپؑ کے تعلق کو تمام دنیاوی تعلقات پر مقدم رکھے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت کو دنیاوی محبتوں پر فوقیت کیوں حاصل ہونی چاہیے؟
جواب: کیونکہ آپؑ آنحضرت ﷺ کے عاشقِ صادق اور غلام ہیں، اس لیے آپؑ سے محبت دراصل آنحضرت ﷺ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کی طرف لے جانے والی محبت ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت پیدا ہونا کس کا فضل ہے؟
جواب: یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپؑ کو عظمت دے گا، آپؑ کی محبت دلوں میں بٹھائے گا اور آپؑ کے سلسلہ کو تمام زمین پر پھیلائے گا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے متعلق کیا بشارت بیان فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار خبر دی کہ وہ آپؑ کو بہت عظمت دے گا، آپؑ کی محبت دلوں میں بٹھائے گا اور آپؑ کے سلسلہ کو تمام زمین پر پھیلائے گا۔(تجلیاتِ الٰہیہ، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 409)
سوال: احمدیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کو کس طرح بڑھاتے رہنا چاہیے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر، نیک اعمال بجا لا کر، دعاؤں اور گریہ و زاری کے ذریعہ اس محبت کی آبیاری کرتے رہنا چاہیے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات کے قریب جماعت کو کیا تسلی دی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ میری جدائی پر غمگین نہ ہونا، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے دوسری قدرت بھی ظاہر کرے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آنے والی دوسری قدرت سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس سے مراد نظامِ خلافت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت کی رہنمائی، سکینت اور استحکام کے لیے قائم فرمایا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلافت کے بارے میں کیا بنیادی پیغام دیا؟
جواب: آپؑ نے جماعت کو یہ خوشخبری دی کہ آپؑ کے بعد اللہ تعالیٰ دوسری قدرت ظاہر کرے گا جو دائمی ہوگی اور قیامت تک اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سوال: خلافت سے محبت اور عقیدت کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: خلافت اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق قائم ہونے والی دوسری قدرت ہے۔ اس لیے خلافت سے محبت، عقیدت اور اطاعت جماعت کی مضبوطی اور اتحاد کا اہم ذریعہ ہے۔
سوال: جماعت احمدیہ کی مضبوطی کا ایک بنیادی سبب کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے بے لوث محبت، خلیفۂ وقت سے اخوت و عقیدت اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق جماعت کی مضبوطی اور تمکنت کا بنیادی سبب ہے۔
سوال: خلافت سے محبت دراصل کن محبتوں کا حصہ ہے؟
جواب: خلافتِ احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت دراصل آنحضرت ﷺ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کی ہی کڑیاں ہیں، کیونکہ مقصد خدا تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے۔
سوال: مختلف قوموں اور زبانوں کے احمدیوں کا خلافت سے محبت کرنا کس بات کی دلیل ہے؟
جواب: دنیا کی مختلف قوموں، نسلوں، رنگوں اور زبانوں کے لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے محبت میں متحد ہونا اللہ تعالیٰ کی تائید اور آپؑ کے حق میں ایک عظیم نشان ہے۔
سوال: قرآن کریم نے مختلف زبانوں اور رنگوں کے اختلاف کو کیا قرار دیا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے مختلف زبانوں اور رنگوں کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیا ہے: وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ۔ یعنی تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ (الروم: 23)
سوال: جماعت احمدیہ میں مختلف قوموں کے لوگ کس طرح متحد ہو رہے ہیں؟
جواب: مختلف مذاہب، نسلوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے سعید فطرت لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو قبول کرکے آپؑ کے ہاتھ پر جمع ہو رہے ہیں اور آپؑ کے بعد نظامِ خلافت سے محبت و عقیدت میں متحد ہیں۔
سوال: خلیفۂ وقت کی بیماری کے موقع پر احمدیوں نے محبت کا کس طرح اظہار کیا؟
جواب: دنیا بھر کے احمدیوں نے انتہائی فکر، محبت اور اخلاص کے ساتھ دعائیں کیں اور مختلف انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ جماعت کے افراد خلافت کو اپنے وجود کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
سوال: : جماعت اور خلافت کے درمیان دو طرفہ محبت کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: جب جماعت اور خلافت کے درمیان اخلاص، محبت اور وفا کا دو طرفہ تعلق قائم رہے گا تو ان شاء اللہ خلافت احمدیہ کا قیام اور استحکام بھی قائم رہے گا۔
سوال: خلافت سے محبت کو مضبوط رکھنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے؟
جواب: ایمان کی مضبوطی، اللہ تعالیٰ سے تعلق، نیک اعمال، دعا اور اخلاص کے ذریعہ اس محبت کو مسلسل مضبوط کرنا ضروری ہے۔
سوال: فتنہ پرداز عناصر جماعت احمدیہ کے بارے میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟
جواب: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو چکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے محبت نے جماعت کو ایک مضبوط اور متحد وجود بنا دیا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو کس خوبصورت مثال سے سمجھایا؟
جواب: آپؑ کی تعلیم کے مطابق دوسری قدرت یعنی خلافت ایک دائمی نظام ہے جسے جماعت نے مضبوطی سے پکڑنا ہے۔ اسی تعلق نے جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مضبوط اور متحد رکھا ہے۔
سوال: جماعت احمدیہ کی سچائی کی ایک نمایاں دلیل کیا بیان کی گئی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے بعد نظامِ خلافت سے دنیا بھر کے مختلف قوموں، نسلوں اور زبانوں کے لوگوں کی بے مثال محبت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی تائید یافتہ جماعت ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو کون سا عظیم کام سونپا گیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کی غلامی میں لانے کا کام کیا، اور خلافت احمدیہ کا نظام بھی اسی عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے جاری ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آنے کا حقیقی مطلب کیا ہے؟
جواب: اس کا حقیقی مطلب خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنا اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔
سوال: خلافت احمدیہ کو شجرۂ طیبہ سے تشبیہ دینے کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: اس سے مراد ایسا پاکیزہ اور سدا بہار نظام ہے جس کی جڑیں اللہ تعالیٰ سے تعلق، دعا، ایمان اور خلافت سے وفا کے ذریعہ مضبوط ہوتی رہتی ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کے نتیجہ میں نئی قوموں میں کیا تبدیلی پیدا ہو رہی ہے؟
جواب: مختلف ممالک اور قوموں سے شامل ہونے والے نئے احمدیوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام اور خلافت کی محبت پیدا ہو رہی ہے اور وہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کا کام بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔