سوال: آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد توحیدِ الٰہی کا قیام اور لوگوں کو خدائے واحد لاشریک کی عبادت کی طرف بلانا تھا۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے توحید کے قیام کے لیے کیا کردار ادا فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے قول و فعل، عملی نمونے، دعا اور مسلسل تبلیغ کے ذریعہ توحید کا پیغام دنیا تک پہنچایا اور اپنے صحابہؓ کے دلوں میں بھی توحید کے لیے ہر قربانی دینے کی روح پیدا فرمائی۔
سوال: صحابہؓ میں قربانی کا اعلیٰ معیار کیسے پیدا ہوا؟
جواب: صحابہؓ میں یہ معیار آنحضرت ﷺ کے عملی نمونے، توحید کے لیے آپؐ کی تڑپ اور آپؐ کی دعاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہوا، جس کے باعث وہ توحید کے قیام کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوگئے۔
سوال: مکہ میں آنحضرت ﷺ کو توحید کی تبلیغ کے باعث کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: کفارِ مکہ نے آپ ﷺ کو مختلف طریقوں سے اذیتیں دیں، تبلیغ سے روکنے کی کوشش کی، آپؐ کے خلاف ظلم کیا اور آپؐ کے ماننے والوں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
سوال: شعبِ ابی طالب کا واقعہ توحید کے سلسلہ میں کیا سبق دیتا ہے؟
جواب: کفارِ مکہ نے تین سال تک آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے خاندان کا مکمل معاشرتی بائیکاٹ کیا، لیکن مقاطعہ ختم ہوتے ہی آپ ﷺ نے پہلے سے بڑھ کر توحید کی تبلیغ شروع کر دی۔ اس سے آپؐ کی استقامت، عزم اور توحید کے لیے غیر معمولی تڑپ ظاہر ہوتی ہے۔
سوال: حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کے دفاع میں کیا کردار ادا کیا؟
جواب: جب کفار نے آنحضرت ﷺ کو اذیت دی تو حضرت ابوبکرؓ آپؐ کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس کھلے نشان لے کر آیا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے جواب میں کیا رویہ اختیار فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے ظلم سہتے ہوئے بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ فرمایا اور بدلہ لینے کے بجائے لوگوں کی ہدایت کی امید رکھی۔ آپؐ کی شفقت اور انسانیت سے محبت میں تکالیف کے باوجود کوئی کمی نہ آئی۔
سوال: سفرِ طائف میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
جواب: اہلِ طائف نے آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا، آپؐ کا مذاق اڑایا اور لوگوں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے آپؐ پر پتھر برسائے جس سے آپؐ لہولہان ہوگئے۔
سوال: طائف میں شدید ظلم کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اہلِ طائف کے لیے کیا رویہ اختیار فرمایا؟
جواب: جب پہاڑوں کے فرشتے نے انہیں پہاڑوں کے درمیان کچل دینے کی پیشکش کی تو آپ ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا بلکہ امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کی نسلوں میں ایسے افراد پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں گے۔
سوال:آنحضرت ﷺ عرب کے بازاروں میں کیوں تشریف لے جاتے تھے؟
جواب: آپ ﷺ عرب کے مختلف اجتماعات اور بازاروں، مثلاً عکاظ، مَجَنّہ اور ذوالمجاز میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔
سوال: بازارِ ذوالمجاز میں آنحضرت ﷺ لوگوں کو کیا پیغام دیتے تھے؟
جواب: آپ ﷺ لوگوں سے فرماتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسے مان لو تو کامیاب ہوجاؤ گے۔ لوگ شور مچاتے رہے لیکن آپؐ مسلسل توحید کا یہی پیغام دیتے رہے۔
سوال: حضرت بلالؓ نے توحید کے لیے کس طرح استقامت دکھائی؟
جواب: حضرت بلالؓ کو سخت جسمانی اذیتیں دی گئیں اور انہیں شرک قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، مگر آپؓ ہر تکلیف کے باوجود ’’اَحَدٌ اَحَدٌ‘‘ کہتے رہے اور توحید پر ثابت قدم رہے۔
سوال: حضرت ابوبکرؓ نے حضرت بلالؓ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جواب: حضرت ابوبکرؓ نے حضرت بلالؓ کو ان کے مالکوں سے خرید کر آزاد کر دیا، یوں آپؓ نے ایک مظلوم موحد کو ظلم سے نجات دلائی۔
سوال: دیگر صحابہؓ نے توحید کے لیے کس قسم کی قربانیاں دیں؟
جواب: حضرت سمیہؓ، حضرت عمارؓ، حضرت خبابؓ اور بہت سے دوسرے غلام و آزاد مردوں اور عورتوں نے توحید قبول کرنے کی پاداش میں انتہائی دردناک مظالم برداشت کیے، مگر ایمان سے پیچھے نہ ہٹے۔
سوال: آنحضرت ﷺ پر ہونے والے مظالم کی نوعیت کیا تھی؟
جواب: آپ ﷺ کو گالیاں دی گئیں، جھوٹا اور مجنون کہا گیا، راستے میں تکلیف دی گئی، گردن میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹا گیا، پتھر مارے گئے اور آپؐ پر گندگی تک ڈالی گئی؛ لیکن آپؐ توحید کی دعوت سے نہ رکے۔
سوال: جنگِ اُحد میں توحید کی غیرت کا کون سا واقعہ بیان ہوا؟
جواب: جب ابوسفیان نے اپنے بت ہُبَل کی بڑائی کا نعرہ لگایا تو آنحضرت ﷺ نے صحابہؓ کو جواب دینے کا حکم دیا کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے۔ جب عزّیٰ کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ جواب دو: اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے مقام کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی، دوبارہ دنیا میں قائم کی، اللہ تعالیٰ سے انتہائی محبت اور بنی نوع انسان سے انتہائی ہمدردی فرمائی؛ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تمام انبیاء اور اولین و آخرین پر فضیلت عطا فرمائی۔
سوال: حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام کے نزدیک حقیقی توحید کا آنحضرت ﷺ سے کیا تعلق ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام کے مطابق حقیقی توحید اور زندہ خدا کی معرفت آنحضرتﷺ کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ انسان اس نورِ ہدایت سے وابستہ رہ کر ہی روحانی طور پر منور رہ سکتا ہے۔
سوال: اس زمانہ میں توحید کے قیام کا کام کس طرح جاری ہے؟
جواب: خطبہ میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے غلامِ صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو توحید کے قیام کے اس کام کو جاری رکھنے کے لیے مبعوث فرمایا ہے اور ہم نے آپؑ کی بیعت کی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے والوں کی کیا ذمہ داری ہے؟
جواب: ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم توحید کے قیام کے لیے بھرپور کوشش کریں، اپنی عملی حالتوں کو درست کریں، آنحضرت ﷺ سے سچا عشق پیدا کریں اور حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔